۱۔ ایسی حدیث جس میں اعجاز ہے
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ إِذَا السَّمَاءُ انْشَقَّتْ ۱وَأَذِنَتْ لِرَبِّهَا وَحُقَّتْ ۲وَإِذَا الْأَرْضُ مُدَّتْ ۳وَأَلْقَتْ مَا فِيهَا وَتَخَلَّتْ ۴وَأَذِنَتْ لِرَبِّهَا وَحُقَّتْ ۵يَا أَيُّهَا الْإِنْسَانُ إِنَّكَ كَادِحٌ إِلَىٰ رَبِّكَ كَدْحًا فَمُلَاقِيهِ ۶فَأَمَّا مَنْ أُوتِيَ كِتَابَهُ بِيَمِينِهِ ۷فَسَوْفَ يُحَاسَبُ حِسَابًا يَسِيرًا ۸وَيَنْقَلِبُ إِلَىٰ أَهْلِهِ مَسْرُورًا ۹
جب آسمان پھٹ جائے گا. اور اپنے پروردگار کا حکم بجا لائے گا اور یہ ضروری بھی ہے. اور جب زمین برابر کرکے پھیلا دی جائے گی. اور وہ اپنے ذخیرے پھینک کر خالی ہوجائے گی. اور اپنے پروردگار کا حکم بجا لائے گی اور یہ ضروری بھی ہے. اے انسان تو اپنے پروردگار کی طرف جانے کی کوشش کررہا ہے تو ایک دن اس کا سامنا کرے گا. پھر جس کو نامہ اعمال داہنے ہاتھ میں دیا جائے گا. اس کا حساب آسان ہوگا. اور وہ اپنے اہل کی طرف خوشی خوشی واپس آئے گا.
ایک حدیث میں اذاالسماء انشقت کی تفسیر کے سلسلے میں حضرت علی علیہ السلام سے منقول ہے کہ آپ نے فرمایا ( انھا تنشق من المجرة)( ستارے ) کہکشا وٴںسے الگ ہوجائیں گے ۔ 1
یہ حدیث پر معنی اور قابل دِقّت ہے اور علمی معجزات میں شمار ہوتی ہے اور ایسی حقیقت پر سے پر دہ اٹھاتی ہے کہ اس زمانہ کے ماہرین علماء میں سے کوئی اس تک نہیںپہنچتا تھا ۔ وہ یہ کہ موجودہ زمانے کے ماہرین فلکیات نے اپنے نجوم سے متعلق مشاہدات اور دور بینوں کے ذریعہ ثابت کیا ہے کہ عالم کہکشاں کا مجموعہ ہے اور ہر کہکشاں شمسی نظاموں اور ستا روں کا مجموعہ ہے اسی بناپر انہیں ستاروں کے شہر کانام دیتے ہیں ۔
کہ کہکشاں مشہور شہر کا راستہ ہے جو آنکھ سے نظر آسکتا ہے اور نظام ہائے شمسی اور ستاروں کے عظیم مجموعہ اور دائرہ کی مانند ہے ، اس کی ایک سمت ہم سے اس قدر دور ہے کہ اس کے ستارے ہمیں سفید بادل کی شکل میں نظر آتے ہیں ، لیکن وہ در حقیقت ایک دوسرے سے نزدیک نورانی نقطوں کا مجموعہ ہےں ۔
وہ سمت جو ہم سے نزدیک ہے اس کے ستارے قابل روٴیت ہیںیہ وہی ستارے ہیں جو رات کے وقت ہم آسمان پر دیکھتے ہیں اور اس طرح ہمارا نظام شمسی سوائے اس کہکشاں کے اور کچھ نہیں ہے ۔
مندرجہ بالا روایت کے مطابق حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیںکہ قیامت کے بر پا ہونے کے وقت یہ ستارے جنہیں تم دیکھتے ہوکہکشاں سے جدا ہو جائیں گے اور سب کا نظام درہم بر ہم ہو جائے گا ۔
اس زمانے میں کون جانتا تھا کہ یہ ستارے جنہیں ہم دیکھ رہے ہیں ، واقعی اس کہکشاں کا جز ہیں سوائے اس شخص کے کہ جس کا دل عالم غیب سے مربوط ہو اور علم خدا کے سر چشمہ سے سیراب ہوا ہو۔
1- روح المعانی ، جلد ۳۰ ص۸۷ و در المنثور، جلد ۶ ص ۳۲۹