۲۔ روح و جان کے چہرہ پر عذاب
الَّذِينَ يُكَذِّبُونَ بِيَوْمِ الدِّينِ ۱۱وَمَا يُكَذِّبُ بِهِ إِلَّا كُلُّ مُعْتَدٍ أَثِيمٍ ۱۲إِذَا تُتْلَىٰ عَلَيْهِ آيَاتُنَا قَالَ أَسَاطِيرُ الْأَوَّلِينَ ۱۳كَلَّا ۖ بَلْ ۜ رَانَ عَلَىٰ قُلُوبِهِمْ مَا كَانُوا يَكْسِبُونَ ۱۴كَلَّا إِنَّهُمْ عَنْ رَبِّهِمْ يَوْمَئِذٍ لَمَحْجُوبُونَ ۱۵ثُمَّ إِنَّهُمْ لَصَالُو الْجَحِيمِ ۱۶ثُمَّ يُقَالُ هَٰذَا الَّذِي كُنْتُمْ بِهِ تُكَذِّبُونَ ۱۷
جو لوگ روز جزا کا انکار کرتے ہیں. اور اس کا انکار صرف وہی کرتے ہیں جو حد سے گزر جانے والے گنہگار ہیں. جب ان کے سامنے آیات کی تلاوت کی جاتی ہے تو کہتے ہیں کہ یہ تو پرانے افسانے ہیں. نہیں نہیں بلکہ ان کے دلوں پر ان کے اعمال کا زنگ لگ گیا ہے. یاد رکھو انہیں روز قیامت پروردگار کی رحمت سے محجوب کردیا جائے گا. پھر اس کے بعد یہ جہنمّ میں جھونکے جانے والے ہیں. پھر ان سے کہا جائے گا کہ یہی وہ ہے جس کا تم انکار رہے تھے.
گر بہت سے مفسرین نے کوشش کی ہے کہ آیت ( کلا انھم عن ربھم یومئذ لمحجو بون )میںکسی چیز کو مقدر قرار دیں اور کہیں کہ یہ گناہ گار خد اکی رحمت سے محجوب ہوں گے یا اس کے احسان ، کرامت اور ثواب سے محجوب ہوں گے ، لیکن بظاہر آیت کسی تقدیر کی محتاج نہیں ہے ۔
وہ واقعاً پرور دگار سے محجوب ہوں گے جب کہ نیک اور پاک افراد قربِ خدا وندی کی منزل پر فائز ہوںگے اور دیار محبوب اور اس کے شہود ِ باطنی سے بہرہ مند ہوں گے ۔
یہ بے ایمان اور گناہگار دوزخی ہیں جو اس فیض عظیم اور نعمت بے نظیر سے محروم ہیں ۔ بعض پاک دل مومن اس جہان میں بھی اس دیدار سے فیضیاب ہوتے ہیں جبکہ کور دل مجرم اس جہان میں بھی اس فیض سے محروم ہوں گے ۔ پاک دل ہمیشہ حضور خداوندی میں ہیں اور یہ بے بصیر تاریک دل اس سے دور ہیں۔
وہ اس کی مناجات سے اس قدرلذت حاصل کر تے ہیں جو کسی بیان کی محتاج نہیں ہے جبکہ یہ گناہگار اپنے گناہوں کی نحوست میں اس قدر غرق ہیں کہ ان کے لئے کو ئی راہ نجات نہیں ہے ۔
تو کز سرائے طبیعت نمی روی بیرون کجا بکوئے حقیقت گزرتوانی کرد
جمال یار ندارد و حجاب و پردہ دلے غبار راہ اشارہ نشاں تا نظر توانی کرد
تومادہ کے گھر سے باہرنہیں نکلتا تو پھر حقیقت کے کوچہ میں تیرا گذر کیسے ہو سکتاہے ۔ محبوب کے جمال پرکوئی پردہ نہیں ہے لیکن غبار ِ راہ کو بھٹانا کہ تو دیکھ سکے ۔