Tafseer e Namoona

Topic

											

									  ۱۔ دل کے لئے گناہ کیوں زنگ ہے

										
																									
								

Ayat No : 11-17

: المطففين

الَّذِينَ يُكَذِّبُونَ بِيَوْمِ الدِّينِ ۱۱وَمَا يُكَذِّبُ بِهِ إِلَّا كُلُّ مُعْتَدٍ أَثِيمٍ ۱۲إِذَا تُتْلَىٰ عَلَيْهِ آيَاتُنَا قَالَ أَسَاطِيرُ الْأَوَّلِينَ ۱۳كَلَّا ۖ بَلْ ۜ رَانَ عَلَىٰ قُلُوبِهِمْ مَا كَانُوا يَكْسِبُونَ ۱۴كَلَّا إِنَّهُمْ عَنْ رَبِّهِمْ يَوْمَئِذٍ لَمَحْجُوبُونَ ۱۵ثُمَّ إِنَّهُمْ لَصَالُو الْجَحِيمِ ۱۶ثُمَّ يُقَالُ هَٰذَا الَّذِي كُنْتُمْ بِهِ تُكَذِّبُونَ ۱۷

Translation

جو لوگ روز جزا کا انکار کرتے ہیں. اور اس کا انکار صرف وہی کرتے ہیں جو حد سے گزر جانے والے گنہگار ہیں. جب ان کے سامنے آیات کی تلاوت کی جاتی ہے تو کہتے ہیں کہ یہ تو پرانے افسانے ہیں. نہیں نہیں بلکہ ان کے دلوں پر ان کے اعمال کا زنگ لگ گیا ہے. یاد رکھو انہیں روز قیامت پروردگار کی رحمت سے محجوب کردیا جائے گا. پھر اس کے بعد یہ جہنمّ میں جھونکے جانے والے ہیں. پھر ان سے کہا جائے گا کہ یہی وہ ہے جس کا تم انکار رہے تھے.

Tafseer

									نہ صرف اس سورہ کی آیت میں دل کو تاریک کرنے پر گناہ کی تاثیر کو ذمہ دار ٹھہرا یا گیا ہے بلکہ قرآن مجید کی بہت سی دوسری آیتوں میں بھی ان معانی کی کئی مرتبہ تکرار کی گئی ہے اور بری صراحت کےساتھ انھیں قابل توجہ قرار دیا گیا ہے ۔ ایک جگہ فرماتاہے :
( کذلک یطبع اللہ علیٰ کل قلب متکبر جبار ) ” اسی طرح خدا ہر متکبر جبار اور سر کش کے دل پر مہر لگا دیتا ہے “۔ ( مومن ۔ ۳۵)۔ ایک دوسری جگہ ہٹ دھرم اور عناد رکھنے والے گناہگا روں کے گروہ کے بارے میں فرماتا ہے :
( ختم اللہ علیٰ قلوبھم و علیٰ سمعھم و علیٰ ابصار ھم غشاوة ولھم عذاب عظیم )
” خدا نے ان کے دلوں پر مہر لگادی اور اسی طرح ان کے کانوں اور ان کی آنکھوں پر پر دہ ڈال دیا ہے اور ان کے لئے بہت بڑا عذاب ہے “۔ ( بقرہ۷)۔ اور سورہ حج کی آیت ۴۶ میں ہم پڑھتے ہیں :( فانھا لاتعمی الابصار ولکن تعمی القلوب التی فی الصدور)ظاہری آنکھیں نابینانہیں ہوتیں بلکہ وہ دل ہے جو سینوں میں اندھے اور نابیناہوجاتے ہیں ۔ 
جی ہاں! گناہ اور اس کو جاری رکھنے کا بد ترین اثر دل کا تاریک ہوجانا ہے اور نورِ عالم اور حسّ کا ختم ہوناہے ۔گناہ اعضاء و جوارح سے سرزد ہوتے ہیں لیکن دل کومتاثر کرتے ہیں اور اسے غلیظ و متعفن کیچڑ میں تبدیل کردیتے ہیں۔ 
یہ وہ مقام ہے جہان انسان راہ اور چاہ کے درمیان امتیاز نہیں کرسکتا اور عجیب و غریب شہادت کا شکار اور غلطیوں کا مر تکب ہوتاہے جن سے ہر شخص حیران ہو جاتا ہے وہ اپنے پیروں پر خود کلہاری مارتا ہے اور اپنی خوشبختی کا سرمایہ بر بادکردیتاہے ۔ 
ایک حدیث میں پیغمبر اسلام سے منقول ہے ( کثرة الذنوب مفسدة للقلب) گناہوں کی فراوانی انسان کے دل کو تباہ کردیتی ہے ۔۱
پیغمبر اسلام و کی ایک اورحدیث ہے ( ان العبد اذا اذنب ذنبا نکتت فی قلبہ نکتة سوداء فان تاب و نزع و استغفر صقل قلبہ و ان عاد زات حتی تعلوقلبہ فذٰلک الدین الذی ذکر اللہ فی القرآن ( کلّا بل ران علیٰ قلوبھم ما کانوا یکسبون) 
جس وقت بندہ گناہ کرے تو اس کے دل میں ایک سیاہ نکتہ پید اہو جاتا ہے اگر توبہ کرے اور گناہ سے دست بردار ہوجائے اور استغفار کرے تو اس کا دل صیقل ہوجاتاہے اور اگر دوبارہ گناہ کی طرف پلٹے تو سیاہی بڑھ جاتی ہے،یہاں تک کہ اس کے پورے دل کو گھیر لیتی ہے اور یہ وہی زنگ ہے جس کی طرف اس آیت ( کلا بل اران علیٰ قلوبھم ما کانوا یکسبون ) میں اشارہ ہو اہے ۔ ۲
یہی مفہوم امام محمد باقرعلیہ السلام سے بھی اصول کافی میں مختصر سے فرق کے ساتھ منقول ہے ۔ ۳
نیز اسی اصولی کافی میں رسول خدا سے منقول ہے کہ ( تذاکر وا و تلاقوا و تحد ثوا فان الحدیث جلاء للقلوب ان للقلوب لترین کما کما یرین السیف و جلائہ الحدیث)
مذاکر ہ کرو اور ایک دوسرے ملاقات کرو اور ( دین کے پیشواوٴں کی ) احادیث نقل کرو اس لئے کہ حدیث دلوں کی جلا کا سبب ہے ۔ دل بھی زنگ آلود ہو جاتے ہیں جس طرح تلوار کو زنگ لگ جاتا ہے اور قلوب کا صیقل حدیث ہے ۔ ۴
اصول نفسیات کی رو سے بھی مفہوم ثابت ہو چکاہے کہ انسان کے اعمال کا ہمیشہ اس کی روح پر اثر ہوتا ہے اور وہ اعمال روح کو آہستہ آہستہ اپنی صورت پر لے آتے ہیں ، یہاں تک کہ انسان کے سوچنے کے طریقہ اور فیصلہ کرنے کے انداز پر بھی اپنا اثر ڈالتے ہیں ۔ 
یہ نکتہ بھی قابل توجہ ہے کہ انسان گناہ کو جاری رکھنے کے نتیجے میں رفتہ رفتہ روح کی تاریکی میں ڈوبتا چلا جاتاہے اور ایسی منزل پرپہنچ جاتاہے کہ اس کواپنے گناہ حسنات نظر آتے ہیں یعنی اپنی برائیوں ہی کو اچھائیاں سمجھنے لگتاہے ۔ وہ بعض اوقات اپنے گناہ پر فخر کرتا ہے ایسی منزل پر پہنچ کر اس کے لئے واپسی کا کوئی امکان نہیں رہتا ، یہ ایک خطر ناک ترین حالت ہے جو ایک انسان کو پیش آتی ہے ۔

 


۱۔ در المنثور،جلد۶ ص ۳۲۶۔
۲۔ در المنثور، جلد ۶ ص ۳۲۵۔ 
۳۔ نور الثقلین ، جلد ۵ ص ۵۳۱ حدیث ۲۲،۲۳۔ 
۴۔ نور الثقلین ، جلد ۵ ص ۵۳۱ حدیث ۲۲،۲۳۔