Tafseer e Namoona

Topic

											

									  صيحه قیامت

										
																									
								

Ayat No : 33-42

: عبس

فَإِذَا جَاءَتِ الصَّاخَّةُ ۳۳يَوْمَ يَفِرُّ الْمَرْءُ مِنْ أَخِيهِ ۳۴وَأُمِّهِ وَأَبِيهِ ۳۵وَصَاحِبَتِهِ وَبَنِيهِ ۳۶لِكُلِّ امْرِئٍ مِنْهُمْ يَوْمَئِذٍ شَأْنٌ يُغْنِيهِ ۳۷وُجُوهٌ يَوْمَئِذٍ مُسْفِرَةٌ ۳۸ضَاحِكَةٌ مُسْتَبْشِرَةٌ ۳۹وَوُجُوهٌ يَوْمَئِذٍ عَلَيْهَا غَبَرَةٌ ۴۰تَرْهَقُهَا قَتَرَةٌ ۴۱أُولَٰئِكَ هُمُ الْكَفَرَةُ الْفَجَرَةُ ۴۲

Translation

پھر جب کان کے پردے پھاڑنے والی قیامت آجائے گی. جس دن انسان اپنے بھائی سے فرار کرے گا. اور ماں باپ سے بھی. اور بیوی اور اولاد سے بھی. اس دن ہر آدمی کی ایک خاص فکر ہوگی جو اس کے لئے کافی ہوگی. اس دن کچھ چہرے روشن ہوں گے. مسکراتے ہوئے کھلے ہوئے. اور کچھ چہرے غبار آلود ہوں گے. ان پر ذلّت چھائی ہوئی ہوگی. یہی لوگ حقیقتا کافر اور فاجر ہوں گے.

Tafseer

									  ٹفسیر
            صيحه قیامت 
 الٰہی برکتوں اور دنیاوی نعمتوں کے تذکرے کے بعد یہاں قرآن قیامت اور اس کے حوادث سے ایک گوشہ اور مومنین و کفار کی حالت کو بیان کرتا ہے تاکہ ، ایک طرف تو بے اعلان کرے کہ یہ نعمتیں اور مال و متاع جو کچھ بھی ہے جلد گزر جانے والا ہے اور اس کا ایک خاتمہ ہے اور دوسری طرف یہ بتائے کہ ان سب کا و خدا کے وجود اور قیامت کے بجائے خود ایک سیل ہے ۔ فرمایا ہے : 
 جس وقت وہ مہیب اور کانوں کو پھاڑ دینے والی آواز آئے گی تو کفار ومجرمین گہرے غم و اندوہ اور ندامت میں غرق ہو جائیں گے (فاذاجاءت الصاخة)۔ ؎1 
 "صاخة" "صخ"  کے مادہ سے اصل میں صوت شدید و سخت اور مہیب آواز کے معنی میں ہے، یعنی بہت ممکن ہے کہ اس سے کان بہرے ہو جائیں یا جو سچ مچ  کانوں کو بہرہ کر دیتی ہے۔ یہاں اس سے صور کے دوسرے نفخے کی طرف اشارہ ہے۔ وہی عظیم جو بیداری اور زندگی کا صیحہ ہے۔ جو سب کو زندہ کر کے عرصۂ 
۔---------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
  ؎1   یہ کہ اس جملہ شرطیہ میں جزا کیا ہے کئی احتمالی پہلا یہ کہ جزا مخزوف ہے اور بعد والی آیتوں سے اس کا پتہ چلتاہے اورتقدیر میں اس طرح ہے ( فاذا جاءت الصاخة نما اعظم اسف الكافرين) حبب وہ مہیب صدا آئی تو کفار کو کس قدر افسوس اور ندامت ہو گی (تفسيرمراغي) بعض مفسرین نے کہا ہے ( لكل امرئ منهم یومئذً شأن يغنيه) کا جملہ جزا ہے ( مجمع البیان) - یہ احتمال بھی پیش کیا گیا ہے کر جزا کا استفاده  (يوم يفر المرء) سے ہوتا ہے اور تقدیر میں اس طرح ہے  (فاذا جاءت الصاخة يوم يفر المرء من اخيه) (روح المعانی) جب مہیب صدا آئی تو انسان اپنے بھائی سے فرار کر گیا ۔ 
۔---------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
محشر کی طرف بلائے گا۔ 
 جی ہاں ! یہ اتنا عظیم اور دل ہلا دینے والا ہے جو انسان کو سوائے اس کی ذات، اس کے اعمال اور اس کی سرنوشت کے ہر دوسری چیز سے غافل کر د ے گا ۔ اسی لیے اس کے بعد بلا فاصلہ مزید فرماتا ہے: ۔ 
 "وہ دن جس دن انسان اپنے بھائی سے دور بھاگے گا" (يوم يفر المرء من اخيه). وہی بهائی جو جان کے برابر تھا اور جسے ہر جگہ یاد کرتا تھا اور اس کے بارے میں متفکر رہتا تھا آج کلی طور پر اس سے گریزاں ہو گا ، "اور اسی طرح اپنے ماں باپ سے " (وامه وابیه) ۔ "اور اپنی بیوی اور اولاد سے "و صاحبته وبنيه)۔ 
 اسی طرح انسان اپنے نزدیک ترین عزیزوں کویعنی بھائی ، ماں باپ اوراپنی اور اولاد کونہ صرف فراموش کردے گا بلکہ ان سے فرار کرے گا۔ یہ بات بتاتی ہے کہ قیامت کا ہول اس قدر زیادہ ہوگا کہ انسان کر تمام تعلقات سے بیگانہ کر دے گا ۔ وہ مال جو اس سے بے حد محبت کرتی تھی ، وہ ماں باپ جن کا وہ بہت زیادہ احترام کرتا تھا، وہ بیوی جس سے اسے شدید محبت تھی ، وہ اولاد جو اس کے دل کا سرور اور آنکھوں کا نور شمار ہوتی تھی، وہ اس وقت ان سب سے بے تعلق ہو جائے گا۔ 
 بعض مفسرین نے کہا ہے کہ انسان اپنے ان بھائیوں ، ماں باپ ، بیوی اور اوالار سے فرار کرے گا۔ جنہوں نے ایمان و تقویٰ اور اطاعت خدا کی راہ نہیں طے کی۔ وہ ان سے اس لیے فرار کرے گا کہ کہیں ان کا حال اس کو اپنے نرغہ میں نہ لے لے۔ 
 بعض مفسرین نے کہا ہے کہ یہ فرار اسی بنا پر ہے کہ مبادا ان کے کچھ حقوق اس کی گردن پر ہوں اور وہ اس سے ان کا مطالبہ کریں اور وہ خود ان کے ادا کرنے سے اس وقت عاجز ہو۔ 
 ان تینوں تفسیروں میں سے پہلی تفسیر زیادہ مناسب ہے۔ نیز ان تینوں کے جمع کرنے میں بھی کوئی مضائقہ نہیں ہے۔ 
 یہ بات کہ پہلے بھائی، اس کے بعد ماں باپ اس کے بعد بیوی اور آخری مرحلہ میں اولاد کے بارے میں کیوں گفتگو ہوئی ہے، اس بارے میں، بعض مفسران کا نظریہ ہے کہ ان تمام میں، سب سے نیچے کے مرحلہ سے بالاتر مرحلہ کی طرف بات ہوئی ہے کہ پہلے وہ اپنے بھائی سے گریز کرے گا، پھر اپنے ماں باپ سے اور اس کے بعد بیوی اور اولاد سے، لیکن اس طرف توجہ کرتے ہوئے کہ سب لوگ ان پانچ افراد سے تعلق کے بارے میں یکساں نہیں ہوتے، کبھی یہ ہوتا ہے کہ انسانی زندگی میں بھائی زیادہ اہم ہوتا ہے۔ لٰہذا اس سے زیادہ لگاؤ ہوتا ہے اور کبھی بیوی اور کھبی اولاد۔ لٰہذا یہاں کوئی قاعدہ کلیہ مقرر نہیں کیا جا سکتا۔ 
 البته آن پانچ افراد میں سے ہرایک کے ساتھ انسان کے رشتہ کی اہمیت سے متعلق بہت سے مطالب بیان کیے جا سکتے ہیں۔ لیکن اس طرح نہیں ہے کہ مطلق طور پر ایک کو دوسرے پر تمام جہتوں سے ترجیح دی جاسکے خصوصًا اس شکل میں جب شکل میں آیت میں آیا ہے۔ اس بنا پر مندرجہ بالا ترتیب اہمیت کی بنا پر نہیں ہے۔ 
 بعد والی آیت میں اس فرار کی دلیل بیان کرتے ہوئے ارشاد ہوا ہے ، "ایک دن ان میں سے ہر ایک ایسی حالت میں ہوگا کہ جو اسے مکمل طور پر اپنی ذات سے متعلق مصروف رکھے گی"۔ (لكل امرئ منهم يومئذ شأن يغنيه )
 "يغنيه" (اس کو بے نیاز کردے گی) اس حقیقت کی طرف ایک معنی خیز کنایہ ہے کہ اس دن انسان اپنی ذات سے متعلق اس قدر مصروف ہو گا کہ دوسرے کی طرف توجہ نہیں کرے گا اور حادثات اس قدرشدید ہوں گے کہ اس کی ساری فکر کو مشغول رکھنے کے لیے کافی ہوں گے۔ 
 ایک حدیث میں آیا ہے کہ آنحضرت سے آپ کے خاندان کے کسی فرد نے سوال کیا کہ قیامت میں انسان کیا اپنے عزیز و اقارب کو یاد کرے گا؟ تو آپ نے فرمایا : 
 ثلاثة مواطن لا يذكر (فیما) احداحدًا عند الميزان حتى ينظر ايثقل ميزانه
  ام يخف ؟ وعند الصراط حتى ينظر ایجوزه ام لا ؟ وعند الصحف حتي ينظر 
 بيمينه ياخذ الصحف ام بشماله ؟ فهذه ثلاثة مواطن لا يذكرنيها احد حميمه
  ولا حبيبه ولا قريبه ولاصديقه ولا بنيه ولا والديه وذالك قول الله تعالى :
  لكل امرئ منهم يومنيشان يغنيه۔ 
 "تین موقف ایسے ہیں جن میں کوئی شخص کسی کو یاد نہیں کرے گا پہلا میزان جهان اعمال
 تولے جائیں گے، وہاں جب تک یہ نہ دیکھے کہ اس کا پلڑا بھاری ہے یا نہیں۔ پھر پل صراط،
  جب تک ان دیکھ لے کہ وہ اس پر سے گزار سکے گا یا نہیں۔ پھر اس وقت جب نامہ اعمال انسانوں کے 
 ہاتھ میں دیں گے جب تک یہ نہ دیکھ لے کہ اس کے دائیں ہاتھ میں نامہ اعمال دیتے ہیں یا
  بائیں ہاتھ میں۔ یہ تین موقف ہیں جہاں کوئی انسان کسی دوسرے کو یاد نہیں کرے گا ۔ نہ قریبی
  دوست، یار مهربان اور اعزہ، نہ مخلص ساتھی اولاد اور نہ ماں باپ ۔ یہ وہی چین ہے کہ خدا وند
  عالم فرماتا ہے: 
 "اس دن انسان اپنے آپ میں بہت زیادہ مشغول ہوگا"۔ ؎1  اس کے بعد اس دن جو مومنین و کفار کی حالت ہو گی اس کو بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے :
 "اس دن کچھ چہرے خوشگوار اور نورانی ہوں گے۔“(وجوه يومئذ مسفرة) ۔  "خندان و مسرور،، (ضاحكة مستبشرة) -" اور کچھ چہرے اس دن غبار آلود ہوں گے"۔ (ووجوه يومئذ عليها غبرة)۔ 
 "تاریک دھوئیں نے انہیں ڈھانپ رکھا ہو گا" (تر هقها قترة)۔ 
۔----------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
  ؎1 تفسير برہان جلد 4 ص 429 - 
۔----------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
"وہی کا فرو فاجرهیں "۔ (اولك هم الكفرة الفجرة) 
  "مسفرة"  جیسا کہ ہم نے پہلے بھی کہا ہے "اسفار" کے مادہ سے آشکار ہونے اور چمکنے کے معنی میں ہے شب تاریکی کی طرح جس کے آخری سپید و سحری ہوتا ہے۔ 
 "غبرة " (بروزن غلبہ )  "غبار" کے مادہ سے اس باقی مانده خاک کے معنی میں ہے جو زمین سے اٹھے اور کسی چیز پر پڑجائے۔ 
  "قترة" اصل میں  "قتار" (بروزن غبار) کے مادہ سے اس دھوئیں کے معنی میں ہے جو جلتی ہوئی لکڑی یا کسی دوسری چیز سے اٹھتا ہے بعض ارباب العزت نے اس کی غبار کے معنی میں تفسیر کی ہے لیکن اوپر والی آیت میں ان دونوں تفسیروں کو جمع کرنا یہ بتانا ہے کہ یہ دونوں الفاط دو مختلف معانی رکھتے ہیں۔ 
 "كفرة" اور "فجرة" اسی وزن پر کافروجر کی جمع ہیں جن میں سے پہلا فاسد العقیدہ افراد کی طرف اور دوسرا فاسد العمل  لوگوں کی طرف اشارہ ہے۔ 
 ان آیات سے اچھی طرح معلوم ہوتاہے کہ صیحۂ قیامت کے وقت انسانوں کے برے عقائد اور اعمال کے آثاران کے چہروں سے نمایاں ہوں گے۔ "وجوه" چہرہ کی تعبیر اس بنا پر ہے کہ چہره کارنگ ہر چیزسے زیادہ انسان کی اندرونی حالت کو بیان کرتا ہے،  فکری و روحانی پریشانیوں کی بھی اور جسم سے متعلق دکھ درد کو بھی۔
 بہرحال ایک گروه وہاں مسرور ہوگا ان کے چہرے  شگفتہ اور نورانی ہوں گے۔ ایمان کی روشنی اورعمل کی پاکیزگی ان کے چہروں پر موجزن ہوگی۔ 
   رنگ رخساره انھا خبر از سردروں می دهد 
  ان کے رخسارے کا رنگ ان کے اندر کے راز کی خبر دیتا ہے۔ 
 اس کے برعکس دوسرا گردہ وہ ہے کہ کفر کی تاریکی اور ان کے اعمال کی برائی ان کے چہروں سے نمایاں ہوگی۔  گویا سیاه گردو غباران کے چہرہ پر پڑا ہوا ہے اور دھویں کا ہالہ اس کو گھیرے میں لیے ہوئے ہے، آثار و غم و رنج و اندوه و تکلیف و درد ان کے چہروں سے ہویدا ہیں اور، اصولی طور پر، جیسا کہ سورہ رحمٰن کی آیت  41 میں آیاہے: (یعرف المجرمون بسيما مهم) گنگا ر اپنی پیشانیوں سے پہچانے جائیں گے۔ اسی دن چہروں کا رنگ انسانوں کی پہچان کے لیے کافی ہوگا ۔