قرآن کی فضیلت کا ایک گوشہ
هَلْ أَتَاكَ حَدِيثُ مُوسَىٰ ۱۵إِذْ نَادَاهُ رَبُّهُ بِالْوَادِ الْمُقَدَّسِ طُوًى ۱۶اذْهَبْ إِلَىٰ فِرْعَوْنَ إِنَّهُ طَغَىٰ ۱۷فَقُلْ هَلْ لَكَ إِلَىٰ أَنْ تَزَكَّىٰ ۱۸وَأَهْدِيَكَ إِلَىٰ رَبِّكَ فَتَخْشَىٰ ۱۹فَأَرَاهُ الْآيَةَ الْكُبْرَىٰ ۲۰فَكَذَّبَ وَعَصَىٰ ۲۱ثُمَّ أَدْبَرَ يَسْعَىٰ ۲۲فَحَشَرَ فَنَادَىٰ ۲۳فَقَالَ أَنَا رَبُّكُمُ الْأَعْلَىٰ ۲۴فَأَخَذَهُ اللَّهُ نَكَالَ الْآخِرَةِ وَالْأُولَىٰ ۲۵إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَعِبْرَةً لِمَنْ يَخْشَىٰ ۲۶
کیا تمہارے پاس موسٰی کی خبر آئی ہے. جب ان کے رب نے انہیں طویٰ کی مقدس وادی میں آواز دی. فرعون کی طرف جاؤ وہ سرکش ہوگیا ہے. اس سے کہو کیا یہ ممکن ہے تو پاکیزہ کردار ہوجائے. اور میں تجھے تیرے رب کی طرف ہدایت کروں اور تیرے دل میں خوف پیدا ہوجائے. پھر انہوں نے اسے عظیم نشانی دکھلائی. تو اس نے انکار کردیا اور نافرمانی کی. پھر منہ پھیر کر دوڑ دھوپ میں لگ گیا. پھر سب کو جمع کیا اور آواز دی. اور کہا کہ میں تمہارا رب اعلیٰ ہوں. تو خدا نے اسے دنیا و آخرت دونو ںکے عذاب کی گرفت میں لے لیا. اس واقعہ میں خوف خدا رکھنے والوں کے لئے عبرت کا سامان ہے.
ایک نکته
قرآن کی فضیلت کا ایک گوشہ
مندرجہ بالا آیات میں غور و فکر کرنے سے قرآن کی انتہائی فصاحت و بلاغت نظر آتی ہے۔ ان چند مختصر سطروں میں موسٰی و فرعون کے تمام واقعہ کا خلاصہ ، محرک رسالت ،مقصد رسالت ، تزکیہ کا وسیلہ ، دعوت فکر کی کیفیت ، رد عمل کی کیفیت ، فرعون کی سازش کی کیفیت ، اس کے فضول اور بے بنیاد دعووں کا نمونہ اور آخر کاراس مست بادہُ غرور کو ملنے والی ردرناک سزا اور آخری درس عبرت کا فائدہ تمام بیدارمغزانسانوں کو پہنچا ہے یہ سب موجود ہے۔