Tafseer e Namoona

Topic

											

									  معاد صرف ایک عظیم صیحه سے رونما هوگا

										
																									
								

Ayat No : 6-14

: النازعات

يَوْمَ تَرْجُفُ الرَّاجِفَةُ ۶تَتْبَعُهَا الرَّادِفَةُ ۷قُلُوبٌ يَوْمَئِذٍ وَاجِفَةٌ ۸أَبْصَارُهَا خَاشِعَةٌ ۹يَقُولُونَ أَإِنَّا لَمَرْدُودُونَ فِي الْحَافِرَةِ ۱۰أَإِذَا كُنَّا عِظَامًا نَخِرَةً ۱۱قَالُوا تِلْكَ إِذًا كَرَّةٌ خَاسِرَةٌ ۱۲فَإِنَّمَا هِيَ زَجْرَةٌ وَاحِدَةٌ ۱۳فَإِذَا هُمْ بِالسَّاهِرَةِ ۱۴

Translation

جس دن زمین کو جھٹکا دیا جائے گا. اور اس کے بعد دوسرا جھٹکا لگے گا. اس دن دل لرز جائیں گے. آنکھیں خوف سے جھکیِ ہوں گی. یہ کفاّر کہتے ہیں کہ کیا ہم پلٹ کر پھر اس دنیا میں بھیجے جائیں گے. کیا جب ہم کھوکھلی ہڈیاں ہوجائیں گے تب. یہ تو بڑے گھاٹے والی واپسی ہوگی. یہ قیامت تو بس ایک چیخ ہوگی. جس کے بعد سب میدان هحشر میں نظر آئیں گے.

Tafseer

									  تفسیر 
           معاد صرف ایک عظیم صیحه سے رونما هوگا
 بعد اس کے کہ قیامت کا وقوع گزشتہ آیات میں تاکیدی قسموں کے ساتھ ایک امرحمتی ویقینی کی صورت میں بیان ہوا ، زیربحث آیات میں اس عظیم دن کی نشانیوں اور حوادث کی تشریح کرکے فرمایاہے: 
 یہ قبروں سے اٹھنا ایسے دن ہو گا جس میں وحشتناک زلزلے ہر چیز کو لرزه براندام کردیں گے۔ "(یوم ترجف الراجفة)- "پھردوسرا عظیم حادثہ رونما ہو"، (تتبعها الرادفة)۔ 
 "راجفه" "رجف" (بروزن کشف) کے مادہ سے اضطراب اور شدید لرزے کے معنوں میں اور چونکہ فتنہ انگیز خبریں معاشرہ کے اضطراب کا سبب ہوتی ہیں لہذا انہیں اراجیف کہتے ہیں۔
  "رادفه"  "ردف" (بروزن حرف) کے مادہ سے ایسے شخص یا چیز کے معنی میں ہے جو دوسری چیزیا شخص کے پیچھے ہو اسی لیے اس شخص کو جو مرکب پر دوسرے کے پیچھے بیٹھے اسے ردیف کہتے ہیں۔ بہت سے مفسرین کا نظریہ ہے کہ راجفہ سے مراد وہی پہلا صیحہ ہے یا پہلے صور کا پھونکا جانا ہے جو عالم کو فنا کرنے والی ناقوس ہے اور ایسا زلزلہ ہے جو دنیا کو فنا کر کے رکھ دے گا اور رادفہ دوسرا صیحہ یا دوسرے صور کا پھونکا جانا ہے جس سے قیامت کا برپا ہونا اور نئی زندگی کی طرف بازگشت متعلق ہے ۔ ؎1
 اسی بنا پر آیت اس چیز کے مشابہ ہے جو سوره زمر کی آیت 68 میں آئی ہے.(ونفخ في الصور فصعق من في السماوات ومن في الارض الامن شاءالله ثم نفخ فيه اخرى فاذا هم قیام ينظرون) صور پھونکا جائے گا اور وہ تمام لوگ جو زمین اور آسمانوں میں میں مدہوش ہو جائیں گے اور مرجائیں گے سواۓ اس کے جسے خدا چاہے گا ۔ 
 اس کے بعد دوبارہ صور پھونکا جائے گا۔ اچانک سب کھڑے ہو کر حساب کے انتظار میں ہوں گے۔ بعض نے یہ بھی کہا ہے کہ راجفہ اس زلزلے کی طرف اشارہ ہے جو زمین کو لرزه براندام کردے گا اور رادفہ وہ زلزلہ ہے، جو آسمانوں کو درہم برہم کر دے گا لیکن پہلی تفسیر زیادہ مناسب نظر آتی ہے۔
-----------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
  ؎1     توجہ کرنی چاہیئے کہ رجف کا مادہ فعل متعدی کی شکل میں بھی آتا ہے اور فعل لازم کی شکل میں بھی ۔ پہلی شکل میں راجفہ اس عظیم زلزلے کے معنی میں ہے جس میں زمین اور تمام موجودات کرنے لرزنےلگیں گے ۔ دوسری صورت یا راجفہ خود زمین کے معنوں میں ہے جو لرزنے لگے گی . (غور کیجئے)۔
----------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
  اس کے بعد مزید کہتا ہے :" اس دن وہ دل سخت اور مضطرب ہوں گے "( قلوب يومئذ واجفة)۔ مجرموں گنہگاروں اور سرکشی کرنے والوں کے والی شدید طور پر لرز رہے ہوں گے اور وہ حساب و کتاب اور جزا و سزا کے منتظر ہوں گے۔ 
 "واجفه" "وجفہ" (بروزن حزف) کے مادہ سے اصل میں سرحت سیر کے معنی میں ہے اور "اوجفت البعيره"، اس مقام پر کہا جاتا ہے جہاں انسان اونٹ کو بہت تیز چلانے لگے اور چونکہ تیز چلنا اضطراب کا باعث ہے اس لیے یہ لفظ شدت اضطراب کے معنی میں بھی استعمال ہو تا ہے 
 یہ اندرونی اضطراب اس قدر شدید ہو گا کہ اس کے آثار گنہگاروں کے سارے وجود میں ظاہر ہوں گے۔ اس لیے ابد والی آیت میں مزید کہتا ہے ، ان کی آنکھیں شدت خوف و ہراس سے نیچے کی طرف کی ہوئی ہوں گی" (ابصارهاخاشعة)۔ ؎1 
 "اس دن میں پھنسی ہوئی ہوں گے اور حرکت نہیں کر سکیں گی اور خیرہ ہوں گی گویا وہ لوگ شدتِ خوف سے اپنی نگاه گم کر دیں گے۔ اب گفتگو کو قیامت سے دنیا کی طرف لے آیا ہے اور فرماتا ہے: 
 "ان سب چیزوں کے باوجود وہ اس دنیا میں کہتے ہیں کیا ہم دوبارہ زندگی کی طرف اور لوٹ آئیں گے"۔ (يقولونء انا لمردودون في الحافرة). 
 "حافره" حضر کے مادہ سے زمین کے کھودنے کے معنی میں ہے اور جو اس کھودنے نے کا اثر با قی رہ جاتاہے اسے حفر کہتے ہیں گھوڑے کے سم کو حافر کہتے ہیں اس لیے کہ وہ زمین کو کھودتا ہے ۔ اس کے بعد حافرہ کنایہ کے کے طور پر پہلی حالت میں استعمال ہوا ہے اس لیے کہ انسان حبس راستے سے جاتاہے زمین کو اپنے پاؤں سے کھوتا ہواجاتا ہے اور اس طرح اس کے پاؤں کے نشان باقی رہ جاتے ہیں اور جب واپس لوٹا ہے تو انہیں پہلے نشانات پر قدم رکھتا ہے اس لیے یہ لفظ پہلی حالت کے معنی میں آیا ہے۔ ؎2 
 بعد والی آیت ان کی باتوں کو نقل کرتے ہوئے کہتی ہے کیا جس وقت ہم بوسیدہ اور پراگندہ ہڈیوں کی شکل میں ہو گئے تو دوباره زندگی کی طرف لوٹیں گے"  (اذا كنا عظامًا نخرة )۔ ؎3 
---------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
  ؎1      ابصارها کی ضمیر قلوب کی طرف لوٹتی ہے جو یہاں نفوس و ارواح کے معنی میں ہیں اور یہ اضافت اس بناء پر ہے کہ انسانی حواس کے تاثرات سب اس کی روح اور ان سے متعلق ہیں اور اضطراب و وحشت کا منبع جو آنکھوں میں و وحشت ہے جو روح پر سایہ فگن ہے۔ 
  ؎2     توجہ کرنی چاہیئے کہ اسم فاعل با اسم مفعول کے معنی میں ہے اور حافرہ و محفور کے معنی میں ہے۔ 
  ؎3     اس جملہ میں کچھ محذوف ہے اور تقدیر عبارت اس طرح ہے "(ءاذا كنا عظامًا نخرة نرداحیاء)" (ءانا لمبعوثون)۔ 
------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- 
 یہ وہی چیز ہے جس پر منکرین معاد و قیامت ہمیشہ انحصار کرتے تھے اور کہتے تھے کہ یہ بات باؤ نہیں کیجا سکتی کہ ریزہ ریزہ ہو جانے والی بوسیدہ بڑی دوباره بدن میں لباس حیات پہنے. وجہ اس کی یہ تھی کہ وہ اس صورت حال اور ایک زندہ وجود کے درمیان بہت زیادہ فاصلہ دیکھتے تھے۔ وہ گویا فراموش کر چکے تھے کہ ابتداء اس میں بھی اسی خاک سے پیدا ہوئے تھے۔ 
 "نخره" "صفت شبہ ہے (نخر بروزن نخل ) کے مادہ سے اور اسی طرح (بروزن شجر) اصل میں بوسیدہ اور کھوکھلے درخت کے معنوں میں ہے جب ہوا چلتی ہے تو وہ آواز دیتا ہے۔ وہ آواز جو ناک میں گردش کرتی ہے اُسے نخیر کہتے ہیں ، اس کے بعد یہ لفظ ہر بوسیدہ اور ٹوٹے پھوٹے وجود کے بارے میں استعمال ہوتا ہے۔ 
  معاد صرف اسی پر قناعت نہیں کرتے بلکہ معاد کا مزاق اڑاتے ہیں اور تمسخر کے انداز میں کہتے ہیں " اگر قیامت ہوتی ہے نقصان دہ بازگشت کا سبب ہے ہماری حالت اس روز سخت اور درد ناک ہوگی"۔ (قالوا تلك اذًاكرة خاسرة)۔ 
 دوسرا احتمال جو اس آیت کی تفسیر میں ہے وہ یہ ہے کہ یہ بات مذاق کے طور پر نہیں بلکہ سنجیدگی سے ہیں۔ ان کا مقصد یہ ہے کہ اگر دوباره زندگی کی طرف واپس لوٹنا ہے تو ایک فضول اور بے ہودہ قسم کا لوٹنا ہے اور یہ نقصان دہ ہے۔ اگر زندگی اچھی چیز ہے تو کیا ہی بہتر ہو کہ خدا اس زندگی کو باقی رکھے اور اگر بری ہے توپھر بازگشت کس لیے ہے. (انا لمردودون في الحافرة)۔ 
 اس طرف توجہ کرتے ہوئے کہ "حافره" گڑھے کے معنوں میں ہے وہ بھی تفسیر کے لئے قرینہ بن سکتا ہے لیکن مفسرین کے درمیان جو مشہور ہے وہ پہلی تفسیر ہے۔ 
 قابل توجہ یہ بات ہے کہ گزشتہ آیات میں "يقولون" تعبیر آئی ہے جو ان کی جانب سے اس بات کی تكرار اور استمرار کی نشانی ہے لیکن "قالوا" (انہوں نے کہا) کی تعبیر زیر بحث آیت میں اس بات کی دلیل ہے کہ اس بات کی وہ ہمیشہ تکرار نہیں کرتے تھے۔ یہ بات ان سے کبھی کبھار سرزد ہوتی تھی اور یہ نکتہ ہے اس تعبیر کے مختلف ہونے کا۔
  ان آیات کے آخر میں ایک مرتبہ پھر قیام قیامت اور حشر کے برپا ہونے کے مسئلہ کی طرف رخ کرتے ہوئے دو ٹوک اور سرکوبی کرنےوالےاندازمیں فرماتاہے:  
 "یہ بازگشت صرف ایک صیحہ اور عظیم فریاد سے واقع ہوگی" (فانما هی زجرة واحدة )- اچانک سب کے سب کھڑے ہو جا ئیں گے (افاذا هم بالساهرة) - یہ کام پیچیدہ اور مشکل نہیں ہے جب بھی بحکم خدا دوسرا نفخہ پھونکا جائے گا اور زندگی کی اذان دی جائے گی تو تمام مٹی اور بوسیدہ ہڈیاں ایک ہی مرتبہ جمع ہو جائیں گی اور ان میں جان پڑ جائے گی اور سب قبروں سے نکل کر باہر آ جائیں گے۔ 
 "زجرة"  اصل میں اس فریاد اور بلند آواز کے معنی میں ہے جو کسی کے ہانکنے کے لیے نکالی جاتی ہے اور یہاں دوسرے نفخے کے معنوں میں ہے۔ 
  "زجرة واحدة " کی تعبیر کا انتخاب ان دونوں الفاظ کے مفہوم کی طرف توجہ کرتے ہوئے قیامت کے تیزی سے اور ناگہانی طور پر برپا ہونے اور خدا کی قدرت کے سامنے اس کے نہایت آسان ہونے کی طرف اشارہ ہے۔ اس لیے کہ قیامت کے فرشتے کا صور اسرافیل کی ایک تحکمانہ آواز مردوں کے بدن کو زندگی کا لباس پہنادے 
گی اور وہ عرصۂ حشر میں حساب کتاب کے لیے حاضر ہوجائیں گے۔
  "ساهرة"  "سهر" (بروزن سحر) کے مادہ سے شب بیداری کے معنوں میں ہے اور چونکہ وحشت ناک 
حوادث رات کی نیند اڑا دیتے ہیں ، پھر قیامت کی زمین نہایت  دهشت انگیز ہے اس لیے عصر حشر کے لیے لفظ ، ساھره ، صرف کیا گیا ہے۔ 
 بعض مفسرین نے یہ بھی کہا ہے کہ "ساهره" ہر بیابان کو کہتے ہیں چونکہ اصولی طور پر تمام بیابان وحشت ناک ہوتے ہیں گویا وحشت کی بنا پر رات کی نیند اڑا دیتے ۔
----------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- 
  ؎1  لسان العرب مادہ سھرا اور مجمع البیان ، جلد 10 ص 429 ، تفسیر قرطبی، جلد 10 ص 699 -