مسئلہ جبر و اختیار کے حل ہونے کا واضح راستہ
يَوْمَ يَقُومُ الرُّوحُ وَالْمَلَائِكَةُ صَفًّا ۖ لَا يَتَكَلَّمُونَ إِلَّا مَنْ أَذِنَ لَهُ الرَّحْمَٰنُ وَقَالَ صَوَابًا ۳۸ذَٰلِكَ الْيَوْمُ الْحَقُّ ۖ فَمَنْ شَاءَ اتَّخَذَ إِلَىٰ رَبِّهِ مَآبًا ۳۹إِنَّا أَنْذَرْنَاكُمْ عَذَابًا قَرِيبًا يَوْمَ يَنْظُرُ الْمَرْءُ مَا قَدَّمَتْ يَدَاهُ وَيَقُولُ الْكَافِرُ يَا لَيْتَنِي كُنْتُ تُرَابًا ۴۰
جس دن روح القدس اورملائکہ صف بستہ کھڑے ہوں گے اورکوئی بات بھی نہ کرسکے گا علاوہ اس کے جسے رحمٰن اجازت دے دے اور ٹھیک ٹھیک بات کرے. یہی برحق دن ہے تو جس کا جی چاہے اپنے رب کی طرف ٹھکانا بنالے. ہم نے تم کو ایک قریبی عذاب سے ڈرایا ہے جس دن انسان اپنے کئے دھرے کو دیکھے گا اورکافرکہے گا کہ اے کاش میں خاک ہوگیا ہوتا.
ایک نكته
مسئلہ جبر و اختیار کے حل ہونے کا واضح راستہ
یہ مسئلہ قدیم ترین مسائل میں سے ہے جو علماء کو درپیش ہے کہ ایک گروہ ارادہ انسانی کا قائل ہے، دوسرا گروہ جبر کا طرفدارہے اور ہرایک گروہ نے اپنے مقصد کو ثابت کرنے کے لیے کچھ دلائل پیش کیے ہیں لیکن جاذب توجہ یہ ہے "جبریئین" اور اختیار کے طرف دونوں میں عمل میں اصل اختیار اور ارادہ کی آزادی کو قانونی طور پے قبول کرتے ہیں ۔ دوسرے لفظوں میں یہ ساری بحثیں مباحث علمی کے دائرہ میں تھیں، نہ کہ مقام عمل میں اور یہ چیز اچھی طرح سے بتاتی ہے کی اصل ارادہ کي آزادی اور اختیار تمام انسانوں کا فطری ہے ۔
اگر درمیان میں مختلف وسوے نہ ہوں تو تمام لوگ آزادی ارادہ کے معترف ہوں۔ یہ عمومی و جدان اور فطرت جو اختیار کے دلائل میں سب سے زیادہ واضح ہے انسان کی زندگی میں مختلف شکلوں میں ظاہر ہوتی ہے۔ اس لیے کہ اگر انسان خود کو اپنے اعمال کے بارے میں مجبور سمجھتا اور اپنے لیے اختیار کا قائل نہ ہوتا تو ایسا کیوں ہے کہ:
1- ان اعمال کی بنا پر نہیں انجام دیا،یا ان اعمال کی بنا پر جنہیں انجام نہیں دیا، پشیمان ہوتا ہے اورپختہ ارادہ کرتا ہے کہ آئندہ زمانہ میں تجربہ سے فائدہ اٹھائے۔ یہ حالت مذمت عقید و جبر کے قاتلوں میں زیادہ ہے اگر اختیار نہیں ہے تر ندامت کیوں؟
2- بدکاروں کو سب لوگ ملامت و سرزنش کرتے ہیں اگر جبر ہے تو یہ سرزنش کیسی؟
3۔ نیک کاروں کی مدح وتعرفي وستائش کرتے ہیں ۔ کیوں؟
4. اولاد کی تعلیم و تربیت میں کوشش کرتے ہیں کہ وہ سعادت مند ہوں ۔ اگر سب مجبور ہیں تو پھر تعلیم کیا مفہوم رکھتی ہے۔؟
5- معاشرہ کے اخلاق کو بلند کرنے کے لیے سب عمل بغير استثناء کو شش کرتے ہیں۔
6- انسان اپنی خطاؤں اور غلطیوں سے توبہ کرتا ہے.اصل جبر کو قبول کر لینے کی صورت میں توبہ کیا معنی رکھتی ہے؟
7۔ انسان اپنی کوتائیوں پرحسرت کرتا ہے۔ آخر کیوں ؟
8۔ ساری دنیا بدکاروں اور مجرموں کا محاسبہ کرتی ہے اور ان سے شدید طور پر باز پرس ہوتی ہے وہ کام جو اختیار سے باہر ہے اس کی بازپرس ہیں اور محاکمہ کیسا؟
9- ساری دنیا اور تمام اقوام عالم کے درمیان عام اس سے کہ وہ خدا پرست ہوں یا مادیتیں یہ طے ہے کہ وہ مجرموں کے لیے سزا کے قائل ہیں۔اس کام
کی سزاکیسی جیس پر وہ مجبور تھا۔
10۔ یہاں تک کہ جبر کے حامی ، جب کوئی شخص ان کو گھٹائے اور ان کی برائی کرے اور حیثیت کو مجروح کرے، توفریاد کرتے ہیں اور اس کو قصور
وار ٹھہراتے ہیں اور اسے عدالت میں لے جاتے ہیں۔
خلاصہ کلام یہ کہ اگر واقعی انسان کوئی اختیار نہیں رکھتا تو پھر پشمانی کے کیا معنی ہیں اور ملامت و سرزنش کس لیے ہے۔ کیا یہ ہو سکتا ہے کہ جس شخص کے ہاتھ میں ریشہ ہو اس کو ملامت کی جائے۔ نیکوکاروں کی تعریف کیوں کی جاتی ہے اور انہیں نیکی پر آمادہ کیا جاتا ہے، کیا وہ اختیار رکھتے ہیں کہ شوق دلانے سے نیک کام کرنے لگیں گے۔؟ اصولی طور تعلیم و تربیت کی تاثیر کو قبول کر لینے کی صورت میں جبر اپنا مفہوم کھو بیٹھتا ہے؟
اس سے قطع نظر ارادہ کی آزادی کے بغیراخلاقی مسائل کا بھی کوئی مفہوم نہیں ہے۔ اگر ہم اپنے کاموں میں مجبور ہیں تو توبہ کی کیا ضرورت ہے۔ حسرت و ندامت کس لیے ہے۔ شخص مجبور کا محاکمہ کرنا اور اسے عدالت میں لے جانا سب زیادہ ظالمانہ کام ہے اور اس کو سزا دینا اس محاکمہ زیادہ نامناسب ہے۔
سب چیزیں بتاتی ہیں کہ ارادہ کی آزادی والی حقیقت سب انسانوں میں فطری ہے اور تمام نوع بشر کے وجدان کے موافق ہے۔ نہ صرف عوام بلکہ سارے خواس اور سب فلاسفہ عمل کی دنیا میں اسی طرح ہیں، یہاں تک کہ جبری بھی عمل میں اختیاری ہیں (الجبريون اختياريون من حيث لا يعلمون)۔
قابل توجہ یہ کہ قرآن مجید نے بارہا اس مسئلہ پر روشنی ڈالی ہے، وہ نہ صرف زیر بحث آیات میں فرماتا ہے: (فمن شاءاتخذالٰى ربه مابا) جو چاہےاپنےپروردگار کی طرف راستے کا انتخاب کر سکتا ہے ۔ بلکہ دوسری آیات میں کبھی انسان کے ارادہ پر بہت سے مقامات پر خصوصی روشنی ڈالی ہے، جن سب کا ذکر طوالت کا باعث ہو گا ۔
ہم صرف ولی کی تین آیات پر اکتفا کرتے ہیں : (انا هديناه السبيل اماشاكرًا واما کفورًا ) بھی انسان کو راستہ دکھا دیا ہے چاہے وہ قبول کرکے شکر گزار بنے یا مخالفت کرکے کفران کرے ۔ (دھر /3) اور سورہ کہف کی آیت 29 میں فرماتا ہے: (فمن شاء فليؤمن ومن شاء فليكفر)۔ "جوشخص چاہتا ہے ایمان لے آئے اور جو شخص چاہتا ہے ایمان لے آۓ اور جو نہیں چاہتا کفر کی راہ اختیار کرے"۔ نیز سوره دھر کی آیت 29 میں تم پڑھتے ہیں (ان هٰذه تذكرة فمن شاء اتخذالى ربه سبیلاً) یہ تذکرہ ہے جو چاہے اپنےپروردگار کی طرف راستے کا انتخاب کرے۔
مسئلہ جبر و تفویض کے بارے میں گفتگو بہت طولانی ہے اور اس سلسلہ میں کئی کتابیں اور مقالے لکھے گئے ہیں اور جو کچھ اوپر کہا گیا ہے وہ صرف اس مسئلہ کی طرف قرآن وجدان کے زاویہ سے نگاہ ڈالی ہے ، اس گفتگو کوہم ایک اہم نکتہ پیش کرکے ختم کرتے ہیں۔ ایک گروہ کا مسئلہ جبر کا قائل ہونا چندفلسفیانہ اوراستدلالی سے تعلق رکھنے والی مشکلات کی بنا پر ہے۔ اس کے علاوہ کچھ دوسرے نفسیاتی ، اجتماعی اور معاشرتی اہم عوامل بھی بلاشک و شبہ اس عقیدہ کے پیدا ہونے اور باقی رہنے میں دل رکھتے ہیں ۔
بہت سے افراد نے جبر کے عقیدہ کو ، یا جبری سرنوشت کو ، یا اس قضا و قدر کو جس کے معنی میں جبر داخل ہے اور جن سب کی ایک ہی بنیاد ہے، زمہ داری اور جوابدہی سے بچنے کے لیے قبول کیا ہے یا پھراس عقیدہ کو اپنی ان ناکامیوں کے لیے ایک حجاب کے طور پر اپنایا ہے جو ذاتی کوتاہیوں اور سہل انگاری کی بنا پر سامنے آتی ہیں۔ یا سرکش ہوا و ہوس پر پردہ ڈالنے کے لیے اسے اختیار کیا ہے اور یہ نظریہ اپنا لیا ہے کہ ہمارے شراب پینے کو وہ ازل سے جانتا ہے اور ہم اسی لیے شراب پیتے ہیں تاکہ خدا کا علم جہالت میں نہ بدل جاۓ.
بعض اوقات استعمار اور سامراج کی فضا میں پرورش پانے والے افراد کی قوت مقابلہ کو شکست دینے کے لیے اورمختلف اقوام وملل کے قہر و غضب کی آگ کو بجھانے کے لیے بہت سے لوگ اس عقیدہ سے متوسل ہوتے ہیں اور اپنے آپ کو دوسروں کی گردنوں پر سوار کرتے ہیں کہ تمہاری تقدیر میں یہی تھا اور ظاہر ہے تسلیم و رضا کے علاوہ کوئی پاره کار ہے ہی نہیں ۔
اسی طرز فکر کو قبول کر لینے سے تمام ظالموں کے اعمال کی توجہیہ ہوجاتی ہے اور تمام گنہگاروں کے گناہ مطقی توجہیہ پا لیتے ہیں اور مطبع و مجرم کے درمیان کوئی فرق باقی نہیں رہتا۔
خدا وندا ! ہمیں ان انحرافي عقائد اور ان کے نتائج سے محفوظ فرما ۔ پروردگارا ! ہمیں معلوم ہے کہ جہنم سرکشوں کے لیے مرصاد اور جنت متقیوں کے لیے کامیابی کی جگہ ہے۔ ہم سب کی چشم امید تیرے لطف و کرم پرلگی ہوئی ہے۔
بارالٰہا! وہ دن جس میں ہم اپنے تمام اعمال اپنی آنکھوں سے دیکھیں گے تو ہمیں اس روز شرمندگی و شرمساری سے بچالیجو۔ آمین یا رب العالین .
سواره نباکا اختتام