Tafseer e Namoona

Topic

											

									  کافر کہیں گے کاش هم مٹی هوتے

										
																									
								

Ayat No : 38-40

: النبا

يَوْمَ يَقُومُ الرُّوحُ وَالْمَلَائِكَةُ صَفًّا ۖ لَا يَتَكَلَّمُونَ إِلَّا مَنْ أَذِنَ لَهُ الرَّحْمَٰنُ وَقَالَ صَوَابًا ۳۸ذَٰلِكَ الْيَوْمُ الْحَقُّ ۖ فَمَنْ شَاءَ اتَّخَذَ إِلَىٰ رَبِّهِ مَآبًا ۳۹إِنَّا أَنْذَرْنَاكُمْ عَذَابًا قَرِيبًا يَوْمَ يَنْظُرُ الْمَرْءُ مَا قَدَّمَتْ يَدَاهُ وَيَقُولُ الْكَافِرُ يَا لَيْتَنِي كُنْتُ تُرَابًا ۴۰

Translation

جس دن روح القدس اورملائکہ صف بستہ کھڑے ہوں گے اورکوئی بات بھی نہ کرسکے گا علاوہ اس کے جسے رحمٰن اجازت دے دے اور ٹھیک ٹھیک بات کرے. یہی برحق دن ہے تو جس کا جی چاہے اپنے رب کی طرف ٹھکانا بنالے. ہم نے تم کو ایک قریبی عذاب سے ڈرایا ہے جس دن انسان اپنے کئے دھرے کو دیکھے گا اورکافرکہے گا کہ اے کاش میں خاک ہوگیا ہوتا.

Tafseer

									  تفسیر 
            کافر کہیں گے کاش هم مٹی هوتے 
 گزشت آیتوں میں قیامت کے دن سرکشوں پر نازل ہونے والے عذاب اور پرہیزگاروں کو حاصل ہونے والی نعمتوں کا قابل ملاحطہ بیان تھا۔ زیر بحث آیات میں اس عظیم دن کا تعارف کرانے کے لیے اس کے بعض اوصاف اور حوادث کی تشریح کرتے ہوئے فرماتا ہے: ” یہ سب کچھ اس دن ہو گا جب روح  اور تمام ملائکہ ایک ہی صف میں کھڑے ہوں گے اور خداوند رحمن کے اذن کے بغیر کوئی بھی بات نہ کرسکے گا ، اور جو بات کرۓ گا بھی تو حق کے علاوہ اور کچھ نہیں کہے گا - (ويوم يقوم الروح والملائكة صفًا لا يتكلمون الا من اذن له الرحمن وقٰال صوابًا)۔ ؎1 
 اس میں شک نہیں کہ روح اور فرشتوں کا اس دن ایک ہی صف میں قیام اور خدا وند رحمٰن کے اذن کے بغیر بات نہ کر سکنا صرٖف فرمان خدا کے اجراء کے لیے ہے، وہ اس جہان میں بھی "مدبرات امر" یعنی اس کے فرمان جاری کرنے والے ہیں اور عالم آخرت میں یہ امر زیادہ آشکار ، زیادہ واضح اور وسیع صورت میں ہوگا۔ 
 یہ کہ یہاں روح سے کیا مراد ہے، مفسرین نے اس کی بہت سی تفسیریں کی ہیں بعض تفاسیر کو آٹھ احتمال تک بیان کیے گئے ہیں۔ ؎2 جن میں سے زیاده اہم درج ذیل تفاسیر و احتمالات ہیں۔ 
 1- فرشتوں کے علا وہ ان سے افضل و برتر مخلوق مراد ہے 
 2-  حضرت جبرائیل امین مراد ہیں جو امین وحی خدا ہیں اور خدا اور تمام انبیاء و رسل کے درمیان واسطہ ہیں ۔ سارے فرشتوں کے سردار ہیں اور سب سے بڑے فرشتے ہیں۔ 
 3- انسانوں کی ارواح مراد ہیں جو فرشتوں کے ہمراہ قیام کریں گی۔ 
 4- ایک فرشتہ مراد ہے جو تمام فرشتوں سے برتر ہے جبرائیل امین سے بھی افضل و برتر ہے۔ یہ وہی ہے 
جو انبیاء و مفسرین کے ہمراہ تھا اور ہے۔ 
 قابل توجہ بات یہ ہے کہ روح کا لفظ قرآن مجید میں بھی مطلق صورت میں اور بغیر کسی قید و شرط کے بیان ہوا ہے اور اس حالت میں زیادہ تر مقابلہ کے لیے قرار پایا ہے مثلاً : (تعرج الملائكة والروح الیه)۔ فرشتے اور روح اس کی طرف اوپر جاتے ہیں ، (معارج /4) ۔ (تنزل الملائكة والروح فيها باذن ربهم من كل امر) شب قدر میں ملائکہ اور روح اپنے پروردگار کے فرمان سے ہر چیز کے ساتھ تنازل ہوں گے۔ (قدر /4)۔ 
 ان دو آیات میں ملائکہ کے بعد روح کا ذکر ہوا ہے اور زیر بحث آیت میں ملا ئکہ سے پہلے ہواہے۔ البتہ ممکن ہے کہ یہ اس کا الگ ہونا ایک بزرگ فرد کے عنوان کے ماتحت ہوا اور اصطلاح کے مطابت خاص بعد عام کا ذکر یا عام کے بعد خاص کا ذکر ہو، لیکن بہت سی آیتوں میں روح ایک صفت کی طرف اضافہ کے
----------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
  ؎1      بہت سے مفسرین کا نظریہ ہے کہ یوم اس آیت میں ظرف ہے اور گزشتہ آیات میں لا يملكون کے فعل سے تعلق ہے، یہ احتمال بھی ہے کہ ان تمام چیزوں سے تعلق ہو جو گزشتہ آیتوں میں آئی ہیں اور تقدیر عبارت اس طرح ہوا (كل ذالك يكون يوم يقوم الروح) یہ سب کچھ اسی دن ہو گا جب روح و ملائک الی صف میں کھڑے ہوں گے۔
  ؎2       تفسیر قرطبی، جلد 8 ص 6977۔
----------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
ساتھ آیا ہے مثلاً "الروح القدس" (قل نزله روح القدس من ربك بالحق) کہہ دے روح القدس نے اس قرآن کو تیرے پروردگار کی جانب سے حق کے ساتھ نازل کیا (نحل /102) - یا آیہ (نزل به الروح الامین)۔ "قرآن اور روح الامین نے نازل کیا ہے"۔ (شعراء / 193). 
 بعض آیات میں خدا نے روح کو اپنی طرف سے اضافت دی ہے۔ فرماتا ہے: (ونفخت فيه من روحی) آدم میں میں نے اپنی روح پھونکی "ایک شریف روح جو اپنی شرافت کی وجہ سے اس کی ذات مقدس کی طرف مضاف ہوئی ہے۔ (حجر /29) ۔ 
 دوسری جگہ فرماتا ہے : (فارسلنا اليها روحنا) "ہم نے مریم کی طرف اپنی روح بھیجی"۔ (مریم /17). ایسا نظر آتا ہے کہ لفظ روح ان آیات میں چونکہ مختلف شکلوں میں بیان ہوا ہے، لہزا اس کے مختلف معانی ہیں جن کی تشریح انہی آیات کے ذیل میں بیان ہو چکی ہے۔ لیکن ، جو مختلف تفاسیر سے ، زیر بحث آیات کے بارے میں زیادہ مناسب نظر آتا ہے وہ یہ ہے کہ یہاں روح سے مراد خدا کا ایک بہت بڑا فرشتہ ہے جو بعض روایات کے مطابق جبریل امین سے بھی افضل و برتر ہے جیسا کہ ایک حدیث میں آیا ہے: 
 امام جعفرصادق سے منقول ہے کہ (هو ملك اعظم من جبرائیل و میکائیل) وہ ایک فرشہ ہے جوجبرائیل و میکائیل سے بھی بڑا ہے۔ ؎1 
 اور تفسیر علی بن ابراہیم میں بھی آیا ہے (الروح ملك أعظم من جبرائیل و میکائیل وكان مع رسول الله وهو مع الائمة) روح ایک فرشتہ ہے جو جبریل و میکائیل سے افضل و برتر ہے۔ وہ رسول اللہ کے ساتھ تھا اور آئم کے ساتھ بھی ہے۔ ؎2 
 اگرچہ بعض روایات میں اہل سنت کی تفاسیر میں پیغمبر اکرمؐ سے منقول ہے کہ: (الروح جند من جنود الله لیوا بملائكة لهم رؤس وایدی و ارجل شوقرأ يوم يقوم الروح والملائكة صفًا قال هؤلاء جند و هؤلاء جند) روح خدا کے لشکروں میں سے ایک لشکر ہے جو ملائکہ نہیں ہیں ، ان کے سر ہاتھ اور پائوں ہیں ۔ اس کے بعد پیغمبر نے اس آیت کی تلاوت فرمائی (يوم يقوم الروح والملائكة صفًا) پھر مزید فرمایا سے ایک الگ لشکر ہے اور ملائکہ الگ لشکر ہیں۔ ؎3 
 انسان کی روح اور اس کے تجرد و استقلال کے بارے میں مشرح اورمفصل بحثیں ہم جلد 12 ص 250 سے لے کر ص 255 (سوره اسریٰ کی آیت 85 کے ذیل میں) پیش کر چکے ہیں۔ 
--------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- 
  ؎1   مجمع البیان ، جلد ،10 ص 427
  ؎2   تفسیرعلی بن ابراہیم جلد 2 ص 402 
  ؎3   تفسیر درا لمنشور ، جلد 6 ص 309 
-----------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
 بہرحال جیسا کہ اشارہ ہو چکا ہے یہ عظیم خدائی مخلوق چاہے فرشتوں میں سے ہو یا اور کوئی خدا کی پیدا کی ہوئی مخلوق اور خدا کے فرمان کی اطاعت کے لیے ملائکہ کے ساتھ اطاعت کو آمادہ ہے اور اسی طرح قیامت کی حولاناکی اور محشر کے اضطراب نے سب کو گھیر رکھا ہو گا کہ کسی کو کبھی بات کرنے کی طاقت نہیں ہوگی اور جہاں کوئی بات کرے گا یا شفاعت کرے گا وہ صرف پروردگار کی اجازت سے ہوگا۔ وہ خدا کی حمد و ثنا کریں گے اور جو لائق شفاعت ہیں ان کی شفاعت کریں گے۔ 
 ایک حدیث میں آیا ہے کہ آ مام جعفر صادق سے اس آیت کے بارے میں سوال ہوا تو آپ نے فرمایا : 
(تخن والله المأذون لهم يوم القيامة والقائلون) خدا کی قسم ! قیامت کے دن ہمیں اجازت ہو گی اور ہم ہی گفتگو کریں گے۔ 
راوی سوال کرتا ہے اسی روز آپ کون سی بات کریں گے۔ تو آپ نے فرمایا : (نمجد ربنا ونصلی على نبينا و نفع لشيعتنا فلايرد نا ربنا) ہم اپنے پروردگاہ کن تمجید و تعریف کریں گے اور اپنے پیغمبرؐ پر ورود وسلام بھیجیں گے اور اپنے پیروکاروں کی شفاعت کریں گے اور خدا ہماری شفاعت کو رد نہیں کرے گا۔ ؎1 
  اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ انبیاء و ائمہ معصومین بھی ملائکہ اور روح کی صف میں قیام کریں گے اور انہیں بات کرنے ، خدا کی حمد و ثنا کرنے اور شفاعت کرنے کی اجازت دی جائے گی ۔ ؎2 
 "صوابا" کی تعبیر اس بات کی دلیل ہے کہ اگر ملا ئکہ و روح یا انبیاء و اولیا کسی کے لئے شفاعت کریں تو بھی کسی حساب کتاب کی بنیاد پر ہو گا اور بغیر وجہ وسبب کے نہیں ہوگا۔ 
 اس کے بعد اس عظیم دن کی طرف جو انسانوں اور فرشتوں کے قیام کا دن بھی ہے، وہ یوم الفصل ہے سرکشوں پہ نزول عذاب کا دن ہے اور متقیوں کے اجر پانے کا دن اس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتا ہے : "وہ دن حق ہے"۔ (ذالك اليوم الحق)۔ 
 حق اس چیز کے معنی میں ہے جو ثابت ہے اور واقعیت رکھتی ہے اور تحقق پائے گی اور یہ معنی قیامت کے بارے میں مکمل طور پر ثابت ہیں ۔ اس کے علاوہ ایسا دن ہے جس دن برشخص کا حق دیا جا ئے گا ۔ مظلوموں کاحق ظالموں سے لیا جائے گا ۔ اس دن اسرار ظاہر ہوں گے ، اس لیے وہ ایسا دن ہے جو پورے طور پر حق ہے ۔ چونکہ اس واقعیت کی طرف توجہ انسان کے خدا کی طرف رجوع اور اس کے فرمان کی اطاعت کے لیے موثر ترین محرک اور سبب بن سکتی ہے، اس لیے بلا فاصله مزید کہتا ہے:
------------------------------------------------------------------------- 
  ؎ 1        مجمع البیان ،جلد 15 ص 427- 
  ؎2        شفاعت اس کے شرائط و خصوصیات اور اس کے فلسفہ کے بارے میں اسی طرح اس کے مربوط اعتراضات و شکایات کے سلسلہ میں تفصیلی بحثیں جلد 1 سورہ البقرہ کی آیت 48 کے ذیل میں ہم کر چکے ہیں -  
-------------------------------------------------------------------------
  "پس جو شخص چاہے اپنے پروردگار کی طرف جاتا ہے اور لوٹتاہے (اس کی طرف) راستہ "- (فمن شاء اتخذ الى ربه ماٰبًا)۔ 
 یعنی اس محرک کے تمام اسباب فراہم ہیں جو خدا کی طرف رجوع کے لیے ہے اور راستے اورکنویں دکھائے جا چکے ہیں۔ انبیاء نے کافی حد تک فرمان حق کی تبلیغ کی ہے اورعقل انسانی نے بھی ،جو اس کے اندر کا پیغمبرہے۔ سرکشوں اور پریہزگارواں کی سرنوشت اچھی طرح واضح ہوچکی ہے، عدالت مظلوم اور قاضی میں متعین ہو چکے ہیں۔ اکیلی پر جو باقی رہ گئی ہے وہ یہ ہے کہ انسان دو ٹوک فیصلہ کرے اور اس اختیار سے فائدہ اٹھاتے ہوئے جوخدا نے اسے دیا ہے راستے کا انتخاب کرے اور آگے بڑھے۔ 
 "ماب"  کے معنی محل بازگشت ہیں ۔ یہ راستے کے معنی میں بھی آیا ہے ۔ اس کے بعد مجرمین کی سزا کے مسئلہ پر تاکید کے عنوان سے اور اس عظیم دن کے ان لوگوں سے نزدیک ہونے کو بیان کرتے ہوئے جو اسے دور سمجھتے ہیں، یا اس کے وجود کوتسلیم ہی نہیں کرتے۔ 
 مزید فرماتا ہے: "میں قریب کے عذاب سے ڈراتے ہیں"۔ (انا آنذرناكم عذابا قریبًا). دنیا کی عمر جتنی بھی ہے آخرت کی عمر کے مقابلے میں ایک لمحے کے برابر بھی نہیں ہے نیز عربوں کی مشہور ضرب المثل کے مطابق "جو یقینا" آۓ گی وہ نزدیک ہے "۔ (كل ما هوات قريب)۔
 اسی لئے سوره معارج کی آیت پانچ سے لے کر سات تک خدا اپنے پیغمبرسے فرماتا ہے : (فاصبر صبرًا جميلاً انهم يرونه بعيدًا ونراه قریبًا) صبر کر، صبر جمیل جو ہرقسم کے جزع و فزع سے خالی ہو. وہ اس دن کو دور سمجھتے ہیں اور ہم اسے نزدیک دیکھے ہیں۔ 
 امیرالمومنین علی بھی اس سلسلہ میں فرماتے ہیں : (كل أت قریب دان) ہر وہ چیز جو آنے والی ہے قریب ہے ۔ ؎1 
 کیوں نزدیک نہ ہو جبکہ عذاب النی کا اصل سبب خود انسانوں کے اعمال ہیں جو ہمیشہ ان کے ساتھ ہیں اور جہنم نے ابھی سے ان کا احاطہ کیا ہواہے (وان جهنم لمحيطة بالكافرين) (عنکبوت/ 54)۔  اور چونکہ اس دن ایک گروه عظیم حسرت و اندوہ میں غرق ہوتے ہوئے نادم و پشیمان ہو گا اورجس کا کوئی نتیجہ نہیں نکلے گا۔ 
ا س تنبیہ کے بعد مزید کہتا ہے: ”یہ عذاب اس دن واقع ہو گا جس دن انسان جو کچھ اپنے ہاتھ سے آگے بھیج چکا ہے وہ سب دیکھے گا اور کافر کہے گا (اے کاش میں مٹی ہوتا)  ( يوم ينظر المرء ما قدمت يداه ويقول الكافر يا ليتني كنت ترابًا)۔
---------------------------------------------------------------------- 
  ؎1    نہج البلاغہ خطبہ 103- 
---------------------------------------------------------------------- 
 مفسرین کی ایک جماعت  "ينظر" کے لفظ کی اس آیت میں "ينتظر" کے معنی میں تفسیر کرتی ہے اور کہتی ہے کہ مراد یہ ہے کہ انسان اس دن اپنے اعمال کی جزاء کے انتظار میں ہے بعض اسے نامہ اعمال کے مشاہدہ اور نیکیوں اور برائیوں کے دیکھنے کے معنی میں کہتے ہیں ، اور پھر یہ احتمال بھی پیش کیا گیا ہے کہ اس مراد اعمال کی جزا و سزا کا مشاہدہ ہے۔ 
 یہ سب تفسیریں یہاں سے پیدا ہوتی ہیں کہ انہوں نے مسئلہ حضور یعنی اعمال انسان کی اس دن تجسیم کی طرف بہت کم توجہ دی ہے ورنہ اس واقعیت کی طرف توجہ کی صورت میں آیت کا مفہوم واضح ہے اور کسی قسمم کی تقدیر و تاویل کی ضرورت نہیں ہے ۔
 اس کی وضاحت کچھ اس طرح ہے کہ قرآن کی محتلف آیات اور اسلامی روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان کے اعمال اسی دن مناسب صورتوں میں مجسم ہو کر اس کے سامنے ظاہر ہوں گے۔ وہ حقیقتًا اپنے اعمال کو دیکھے گا اور اپنے برے اعمال کے منظر کے مشاہد ہ سے وحشت و ندامت محسوس کرے گا اور حسرت میں ڈوب جائے گا اور اپنے حسنات کو دیکھنے سے شادومسرور ہو گا اور اصولی طور پر نیکو کاروں کا بہترین اجر اور بدکاروں کی مناسب ترین سزا ان کے مجسم اعمال ہیں جو ان کے ساتھ ساتھ ہوں گے۔ 
 سورہ کہف کی آیت 49 میں ہم پڑھتے ہیں : (ووجدوا ما عملوا حاضرًا)۔ "جوکچھ وہ انجام دیتے اسےحاضر پائیں گے" اور سورہ زلزال کی آخری آیات میں آیا ہے۔ (فمن يعمل مثقال ذرة خيرًايره ومن يعمل مثقال ذرة شرًايره) "جس شخص نے ذرہ برابر بھی نیک کام کیا ہوگا وہ اسے دیکھے گا اور جس نے ذرہ برابر بھی برا کام کیا ہو گا وہ اسے دیکھے گا"۔ 
 اور روز قیامت کے عجائبات میں سے ہے کہ وہاں انسان کے اعمال مجسم ہوں گے اور قوتیں مادہ تبدیل ہو کر جاندار ہوجائیں گی (قد مت يداه) ۔ "اس کے دونوں ہاتھوں نے آگے بھیجا ہے" کی تعبیر اس لیے ہے کہ انسان زیادہ تر کام اپنے ہاتھ سے انجام دیتا ہے لیکن مسلم ہے کہ صرف ہاتھ کے اعمال پر نہیں ہے بلکہ جو کچھ وہ زبان ، آنکھ اور کان سے بھی انجام دیتا ہے وہ سب اس قانون کے ذیل میں ہے۔ 
 قرآن اس دن کے آنے سے پہلے ہمیں خبردار کرتا ہے اور کہتا ہے ہر شخص کو  دیکھنا چاہیے کہ اس دن کے لیے اس نے آگے کیا بھیجا ہے (ولننظر نفس ما قدمت لغد) (حشر /18)۔ 
 بہرحال بعد اس کے کہ کفار اپنی عمر کے تمام اعمال کو اپنے سامنے موجود پائیں گے اسی غم و اندوه و حسرت میں ڈوبے ہوئے ہوں گے اور کہیں گے کاش ہم خاک ہوتے، کاش ابتدا میں ہم خاک کے مرحلہ سے اوپر نہ جاتے۔ جماد سےنامی  (نشو و نما کرنے والے نباتات) اور نامی سے حیوان اور حیوان سے انسان نہ بنتے اور کاش بعد اس کے کہ ہم انسان ہو گئے اور مر گئے تو مرنے اور خاک ہونے کے بعد قیامت میں نئی زندگی حاصل نہ کرتے۔ 
 
 البتہ وہ جانتے ہیں کہ مٹی بھی ان سے بہتر ہے کیونکہ مٹی ایک دانہ لیتی ہے اور کبھی کبھی سو دانے واپس کرتی ہے، انواع و اقسام کے غذائی مواد معدنیات اور بہت سی برکتوں کا منبع و سرچشمہ ہے۔ مٹی انسان کا بستر اور اس کی زندگی کا گہوارہ ہے اور بغیر اس کے کہ اس میں کو ئی ضرر ہر وہ یہ سب فوائد لیے ہوئے ہے لیکن وہ مٹی کے فوائد میں سے ایک بھی نہیں رکھتے ، اس پر مستزاد یہ کہ بہت سی خرابیوں کی کان ہیں۔ 
 جی ہاں ! اس انسان کا کام جو اشرف المخلوقات ہے بعض اوقات کفرو گناہ کی بنیاد بنتا ہے اور نوبت یہاں تک پہنج جاتی ہے کہ وہ آرزو کرتے ہیں کہ وہ کسی بے روح اورپست مخلوق کی صف میں کھڑے ہوتے۔ آیات قرانی میں ہم پڑھتے ہیں کہ کفار اور مجرم جب قیامت میں پروردگار کی داد رسی کا منظر اور اعمال کی جزا کا مشاہدہ کریں گے تو وہ کئی عکس العمل دکھائیں گے جو ان کی شدت تاثرو تاسف کی ترجمانی کریں گے۔ 
 کبھی کہیں گے وائے ہو ہم پر اور ہماری اس حسرت پر کہ ہم نے فرمان خدا وندی کی اطاعت میں کوتاہی کی (با حسرتي على ما فرطت في جنب الله) (زمر ط/ 56 ) . اور کہیں گے خدا وندا ! ہمیں دنیا کی طرف پلٹا تاکہ ہم عمل صالح کرسکیں، (فارجعنا نعمل صالحا، (الم سجده  /12 ) ۔ اور بھی کہیں گے کاش ہم خاک ہوتے اور بھی زندہ نہ ہوتے، جیسا کہ زیر بحث آیات میں آیا ہے۔