Tafseer e Namoona

Topic

											

									  اہل بیت، پیغمبر کی فضیلت پر ایک عظیم سند

										
																									
								

Ayat No : 5-11

: الانسان

إِنَّ الْأَبْرَارَ يَشْرَبُونَ مِنْ كَأْسٍ كَانَ مِزَاجُهَا كَافُورًا ۵عَيْنًا يَشْرَبُ بِهَا عِبَادُ اللَّهِ يُفَجِّرُونَهَا تَفْجِيرًا ۶يُوفُونَ بِالنَّذْرِ وَيَخَافُونَ يَوْمًا كَانَ شَرُّهُ مُسْتَطِيرًا ۷وَيُطْعِمُونَ الطَّعَامَ عَلَىٰ حُبِّهِ مِسْكِينًا وَيَتِيمًا وَأَسِيرًا ۸إِنَّمَا نُطْعِمُكُمْ لِوَجْهِ اللَّهِ لَا نُرِيدُ مِنْكُمْ جَزَاءً وَلَا شُكُورًا ۹إِنَّا نَخَافُ مِنْ رَبِّنَا يَوْمًا عَبُوسًا قَمْطَرِيرًا ۱۰فَوَقَاهُمُ اللَّهُ شَرَّ ذَٰلِكَ الْيَوْمِ وَلَقَّاهُمْ نَضْرَةً وَسُرُورًا ۱۱

Translation

بیشک ہمارے نیک بندے اس پیالہ سے پئیں گے جس میں شراب کے ساتھ کافور کی آمیزش ہوگی. یہ ایک چشمہ ہے جس سے اللہ کے نیک بندے پئیں گے اور جدھر چاہیں گے بہاکر لے جائیں گے. یہ بندے نذر کو پورا کرتے ہیں اور اس دن سے ڈرتے ہیں جس کی سختی ہر طرف پھیلی ہوئی ہے. یہ اس کی محبت میں مسکینً یتیم اور اسیر کو کھانا کھلاتے ہیں. ہم صرف اللہ کی مرضی کی خاطر تمہیں کھلاتے ہیں ورنہ نہ تم سے کوئی بدلہ چاہتے ہیں نہ شکریہ. ہم اپنے پروردگار سے اس دن کے بارے میں ڈرتے ہیں جس دن چہرے بگڑ جائیں گے اور ان پر ہوائیاں اڑنے لگیں گی. تو خدا نے انہیں اس دن کی سختی سے بچالیا اور تازگی اور سرور عطا کردیا.

Tafseer

									  شانِ نزول
             اہل بیت پیغمبر کی فضیلت پر ایک عظیم سند
 ابن عباس کہتے ہیں کہ حسن و حسین بیمار ہوۓ تو پیغمبرؐ صحابہ کی ایک جماعت کے ساتھ ان کی عبادت کے لیے آئے اور علیؑ سے کہا اے ابوالحسن بہتر یہ ہے کہ تم اپنے بچوں کی شفا کے لیے نزر مانو، تو علیؑ اور فاطمہؑ اور فضہ نے ــــــــــ جو ان کی خادمہ تھیں ، نزر مانی ، کہ اگر انھوں نے شفاء پائی تو وہ تین دن روزہ رکھیں گے۔(بعض روایات کے مطابق حسنؑ و حسینؑ نے بھی کہا کہ ہم بھی نزر مانتے ہیں کہ ہم بھی روزہ رکھیں گے)۔
 زیادہ وقت نہ گزرا تھا کہ دونوں شفایاب ہوگئے لیکن حالت یہ تھی کہ ان کے پاس کھانے کا کوئی سامان موجود نہ تھا۔ علیؑ نے تین صاع جو قرض لیے اور فاطمہؑ نے اس میں سے ایک تہائی کا آٹا پیسا اور روٹیاں پکائیں، ایک سائل گھر کے دروازے پر آیا اور اس نے کہا:
 اسلام علیکم اہلِ بیت محمدؐ ! اے اہلِ بیتِ محمد تم پر سلام ہو! میں ایک مسلمان فقیر ہوں، مجھے کھانا دو، خدا تمھیں بہشتی کھانے دے، ان سب نے مسکین کو اپنے اوپر ترجیح دی اور اپنا اپنا حصہ اس کودے دیا اور اس رات انھوں نے صرف پانی سے افطار کیا۔  
 دوسرے دن اسی طرح روزہ رکھا اور افطار کے وقت جب (اسی نانِ جویں کا) کھانا تیار ہوگیا تو ایک یتیم گھر کے دروزے پر آیا، تو اس دن بھی ایثار کیا اور اپنا کھانا اسے دےدیا (دوبارہ پھر پانی سے ہی افطار کیا اور تیسرا روزہ بھی رکھا)۔
 تیسرے دن غروب آفتاب کے وقت ایک اسیر (قیدی) گھر کے دروازے پر آیا، پھر سب نے اپنے اپنے کھانے کا حصہ اسے دے دیا، جب صبح ہوئی تو علیؑ نے حسن و حسینؑ کا ہاتھ پکڑا اور پیغمبرؐ کی خدمت میں آئے، جب پیغمبرؐ نے مشاہدہ کیا تو دیکھا کہ وہ بھوک کی شدت سے سے کانپ رہے تھے، آپ نے فرمایا: تمھاری یہ حالت جو میں دیکھ رہا ہوں میرے لیے بہت ہی گراں ہے۔ پھر آپ کھڑے ہوگئے اور ان کے ساتھ چل پڑے جب آپ فاطمہؑ کے گھر میں داخل ہوۓ تو دیکھا کہ وہ محزومہ محرابِ عبادت میں کھڑی ہیں اور بھوک کی شدت سے ان کا پیٹ پشت سے لگا ہوا ہے اور آنکھیں دھنسی ہوئی ہیں، پیغمبرؐ کو بہت دکھ ہوا۔
 اسی وقت جبرئیل نازل ہوۓ اور کہا اے محمدؐ! یہ سورہ لیجیے، خدا ایسے اہل بیت کے لیے آپ کو مبارک  باد دیتا ہے۔ اس کت بعد سورہ "ہل اتٰی" کی تلاوت کی، (بعض نے کہا ہے کہ آیہ "ان الابرار" سے لے کر "کان سعیکم مشکورًا" کی آیت تک ، جو مجموعی طور پر اٹھارہ آیات ہیں اسی موقع پر نازل ہوئی ہیں)۔
 ہم نے جو کچھ اوپر بیان کیا ہے، یہ اس حدیث کی نص  ہے جو کتاب "لغدیر" میں اسی سلسلہ کی بہت سی روایات میں "قدر مشترک" کے عنوان سے، تھوڑے سے اختصار کے ساتھ بیان کی گئی ہیں اور اسی کتاب میں اہل سنت کے مشہور علماء میں سے 34 افراد کے نام لکھے ہیں، جنھوں نے اس حدیث کو اپنی کتابوں میں نقل کیا ہے(کتاب کے نام اور اس کے صفحہ کے ذکر کے ساتھ)۔
 اس طرح سے اوہر والی روایت ان روایات میں سے ہے اہلِ سنت میں مشہور بلکہ متوتر ہے۔ ؎1
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
  ؎1    "الغدیر" جلد 3 ص 107 تا 111 اور کتاب "احقاق الحق" جلد 3 ص 157 تا 171 ، میں اوپر والی حدیث اہل سنت کے 32 علماء سے راغز کے ساتھنقل ہوئی ہے۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
 باقی رہے شیعہ علماء تو وہ سب کے سب اس بات پر متفق ہیں کہ یہ اٹھارہ آیات، یا یہ سارے کا سارا سورہ، اوپر والے واقعہ میں نازل ہوا ہے اور سب نے بلا استثناء ، تفسیر یا حدیث کی کتابوں میں ، اس واقعہ سے مربوط روایت کو ، علیؑ و فاطمہؑ اور ان کے بیٹوں کے افتخارات اور اہم فضائل میں سے سے ایک کے عنوان سے نقل کیا ہے۔
 یہاں تک کہ ـــــــــ جیسا کہ ہم نے سورہ کے آغاز میں بیان کیا تھا ــــــــ یہ مطلب اتنا مشہور و معروف ہے کہ شعراء  اشعار اور حتیٰ کہ "امام شافعی" کے مشہور اشعار میں آیا ہے۔ 
 یہاں بہانہ جوئی کرنے والے لوگوں نے ــــــــ جو علیؑ کے فضائل تک پہنچتے ہی حد سے زیادہ حساس ہوجاتے ہیں ــــــــــ اس شان نزول کے سلسلہ میں انتہائی محنت کے ساتھ اعتراض گھڑے ہیں اور بہت زیادہ نکتہ چینیاں کی ہیں ، منجملہ ان کے یہ ہیں :-
 1- یہ سورہ "مکی" ہے ، جبکہ شانِ نزول کی داستان امام حسینؑ اور امام حسنؑ کی ولادت کے بعد سے مربوط ہے ، جو یقینی طور پر مدینہ میں ہوئی ہے۔
 لیکن جیسا کہ ہم نے اس سورہ کے آغاز میں تفصیل کے ساتھ بیان کیا ہے کہ ہمارے پاس ایسے واضح اور روشن دلائل موجود ہیں، جو اس بات  
کی نشاندہی کرتے ہیں کہ سارے کا سارا سورہ "ہل اتٰی" یا کم ازکم اس کی اٹھارہ آیات مدینہ میں نازل ہوئی ہیں۔
 2- آیت کے الفاظ عام ہیں، انھیں معین افراد کے ساتھ کس طرح تخصیص دی جاسکتی ہے۔
 لیکن یہ بات کہے بغیر واضح ہے کہ آیت کے مفہوم کا عام ہونا، اس کے خاص محل میں نازل ہونے کے ساتھ منافات نہیں رکھتا، قرآن کی بہت سی آیات عام اور وسیع مفہوم رکھتی ہیں، لیکن اس کی شانِ نزول جو اس کا کامل اور اعلٰی مصداق ہے۔ وہ ایک خاص محل کے لیے ہوتا ہے اور یہ عجیب بات ہے کہ کوئی شخص آیت کے مفہوم کو شانِ نزول کی نفی پر دلیل قرار دے۔
 3- بعض نے کچھ اور دوسرے شانِ نزول نقل کیے ہیں جو اوپر والے شان نزول کے ساتھ سازگار نہیں ہیں، منجملہ ان کے "سیوطی" نے  "درالمنشور" میں یہ نقل کیا ہے کہ ایک سیاہ فام آدمی پیغمبر کی خدمت میں آیا، اور اس نے "تسبیح" و "تہلیل" کے بارے میں سوال کیا، تو عمر نے کہا بس کرو۔ رسولِ خدا سے زیادہ سوالات نہ کرو، پیغمبرؐ نے فرمایا: اے عمر خاموش رہ ، تو اس موقع پر "سورہ ہل اتٰی" پیغمبرؐ پر نازل ہوئی۔ ؎1
 ایک اوردوسری حدیث میں اسی کتاب سے آیا ہے کہ حبشہ کا ایک شخص رسولِ خداؐ کی خدمت میں آیا، وہ آپ سے کچھ سوال کرنا چاہتا تھا۔ پیغمبر نے فرمایا: کہ سوال کرو  اور اس کا جواب لو، اس نے عرض کیا : اے رسول خداؐ آپ کا گروہ رنگ، صورت اور نبوت کے لحاظ سے ہم پر برتری رکھتا ہے۔ لیکن اگر میں اس چیز پر ایمان لے آؤں جس پر آپ ایمان لاۓ ہیں اور جو عمل آپ کرتے ہیں میں بھی وہی عمل کروں، تو کیا میں جنت میں آپؐ کے ساتھ ہوں گا؟ آپؐ نے فرمایا: ہاں ! قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے، جنت میں سیاہ رنگ والون کی سفیدی ہزار سال کی راہ سے نظر آۓ گی اور پھر پیغمبرؐ نے  لاالٰہ الا اللہ اور سبحان اللہ و بحمدہ کہنے کے لیے بہت سے اہم ثواب بیان فرماۓ اور اس موقع پر سورہ "ہل اتٰی" نازل ہوئی۔ ؎2    
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
  ؎1    "درالمنشور" جلد 6 ص 297
  ؎ 2   گزشتہ ماخز
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
 لیکن اس بات کی طرف توجہ کرتے ہوۓ کہ یہ روایات تقریباً کسی قسم کی مناسبت، سورہ "ہل اتٰی" کی آیات کے مضمون کے ساتھ نہیں رکھتیں، ایسا معلوم ہوتا ہے کہ سابقہ شانِ نزول کو پائمال کرنے کے لیے ، بنی امیہ کے کاندوں یا ان ہی جیعے لوگوں کی طرف سے گھڑی گئی ہے۔ 
 4- ایک اور بہانہ جو ممکن ہے یہاں پیس کیا جاۓ، یہ ہے کہ انسان تین دن تک کس طرح بھوکا رہ سکتا ہے کہ صرف پانی پر یہ افطار کرے؟   
 لیکن یہ ایک عجیب اعتراض ہے، کیونکہ ہم خود کئی ایسے افراد کو دیکھا ہے کہ انھوں نے بعض طبی علاجون کے لیے ـــــــــ تین دن تو بہت ہی آسان ہیں ــــــــــ مشہور "چالیس دن" کا چلہ کاٹا ہے، یعنی مکمل چالیس دن تک پانی پیا ہے اور بالکل کوئی کھانا نہیں کھایا اور یہی چیز ان کو بہت سی بیماریوں کا شفا کا با عث بن گئی ۔ یہاں تک کہ ایک غیر مسلم مشہور طبیب "الکسی سوفورین" نے ایک کتاب اس قسم کے صبر کرنے سے علاج کے اہم اثرات کے سلسلہ میں ، اس کے دقیق پروگرام کے ذکر کے ساتھ لکھی ہے۔ ؎1 
 5- بعض دوسرے افراد اس بناء پر کہ آسانی کے ساتھ اس فضیلت کے قریب سے گزر جائیں، ایک اور طریقہ سے وارد ہوۓ ہیں مثلاً "آلوسی" کہتا ہے کہ اگر ہم یہ کہیں کہ یہ سورہ علیؑ و فاطمہؑ کے بارے میں نازل ہوا تو ان کی قدرومنزلت میں کسی چیز کی کمی نہیں ہوگی، کیونکہ ان کا "ابرار" کے عنوان میں داخل ہونا ایک واضح و آشکار مطلب ہے، جسے ہر شخص جانتا ہے، اس کے بعد ان کے بعض فضائل پیش کرکے کہتا ہے، ان دو بزرگ ہستیوں کے بارے میں انسان کیا کہہ سکتا ہے، سواۓ اس کے کہ علیؑ مومنین کے مولا اور پیغمبرؐ کے وصی ہیں، اور فاطمہ پیغمبر کے بدن کا حصہ اور وجودِ محمدیؐ کاجز ہیں اور حسنین روح و ریحان اور جوانانِ جنت کے سردار ہیں، لیکن اس بات کا مفہوم دوسروں کو چھوڑ دینااور انھیں ترک  کرنا نہیں ہے، بلکہ جو شخص اس راستہ کے علاوہ کوئی اور راہ اختیار کرے وہ گمراہ ہے۔ ؎2    
 لیکن ہم کہتے ہیں کہ اگر بناء یہ ہو کہ اس فضیلت کو باوجود  اس شہرت کے نظر انداز کردیں ، تو باقی فضائل بھی آہستہ آہستہ اس قسم کی سرنوشت سے دوچار ہو جائیں گے اور ایک دن ایسا آجاۓ گا کہ بعض لوگ علیؑ اور خاتون اسلام اور حسنین علیہماالسلام کی اصل فضیلت کا ہی انکار کردیں گے۔
 قابل توجہ بات یہ کہ بعض روایات میں خود علیؑ سے نقل ہوا ہے کہ آپ نے متعدد موارد میں ، ان آیات کے اپنے اور اپنے شہزادوں کے بارے میں نزول سے مخالفین کے مقابلہ میں استدلال کیا ہے۔ ؎3
 یہ نکتہ بھی قابل توجہ ہے کہ "اسیر" عام طور پر "مدینہ" میں ہی موجود تھے اور مکہ میں اس بناء پر کہ ابھی اسلامی جنگیں شروع ہی نہیں ہوئی تھیں، لہزا کسی اسیر کا وجود ہی نہیں تھا، اور یہ اس سورہ کے مدنی ہونے کی ایک اور گواہی ہے۔ 
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
  ؎1        یہ کتاب "روزہ، روش نویں براۓ درمان بیمار مہیا" کے نام سے فارسی میں ترجمہ و نشر ہوچکی ہے۔
  ؎2          "روح المعانی" جلد 29 ص 158
  ؎3         "احتجاج طبرسئ" و "خصال صدوق" (مطابق المیزان جلد 20 ص 224)
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
 آخری نکتہ کہ جس کا ذکر کرنا یہاں ضروری ہے سمجھتے ہیں یہ ہے کہ علماء اسلام کی ایک جماعت کے قول کے مطابق ، جن میں اہلِ سنت کے مشہور مفسر "آلوسی" بھی ہیں، اس سورہ میں جنت کی بہت سی نعمتوں کو شمار کیا گیا ہے۔ لیکن حورالعین کے بارے میں ـــــــــ جنھیںعام طور پر قرآن مجید میں جنت کی نعمتوں کا شمار کرتے وقت بیان کیا جاتا ہے ــــــــــ بالکل گفتگو نہیں کی گئی ہےممکن ہے کہ یہ امر اس بناء پر ہو کہ چونکہ اس سورہ کا نزول فاطمہ زہرا، ان کے شوہرنا مدار اور ان کے فرزندانِ عالی قدر کے بارے میں ہے، لہزا بانواۓ اسلام کے احترام کو مدنظر رکھتے ہوۓ "حور" کا کوئی ذکر درمیان میں نہیں آیا۔ ؎1
 اگرچہ ہماری بحث اس شانِ نزول کے سلسلہ میں طویل ہوگئی ہے، لیکن بہانہ گھڑنے والے لوگوں کی اعتراض تراشیوں کے مقابہ میں اسکے علاوہ اور کوئی چارہ نہیں تھا۔
      ــــــــــــــــــــــــ
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
  ؎1    روح المعانی جلد 29 ص 158