کیا یہ سورہ مدینہ میں نازل ہوا ہے ؟
کیا یہ سورہ مدینہ میں نازل ہوا ہے؟
اس بارے میں کہ سورہ "ہل اتی" مدنی ہے یا مکی؟ مفسرین کے درمیان اختلاف ہے، لیکن شیعہ علماء و مفسرین کا اجماع و اتفاق اس بات پر ہے کہ سارا سورہ، یا کم ازکم سورہ کے آغاز کی آیات کا وہ حصہ جو ابرار کے مقام اور ان کے اعمال صالح کو بیان کرتا ہے، وہ مدنیہ میں نازل ہوا ہے، جس کا شانِ نزول، یعنی علیؑ، فاطمہ زہراؑ، امام حسنؑ، امام حسینؑ اور فضہ کے نزر کرنے کی داستان تفصیل کے ساتھ بیان ہوگی۔
اور اسی طرح سے علماء اہلِ سنت کے درمیان بھی مشہور اس کا مدینہ میں نزول ہی ہے جیسا کہ اہل سنت کے مشہور مفسر قرطبی اپنی تفسیر میں کہتے ہیں۔
وقال الجمھور مدینۃ
"مشہور علماء کا نظریہ اور عقیدہ یہ ہے کہ یہ سورہ مدینہ میں نازل ہوا ہے"۔ ؎ 1
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
؎1 تفسیر قرطبی ، جلد 10 ص 6909
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
ان علماء میں سے جو اس ساری سورت کو یا آیات کے ایک حصہ کو ــــــــــ جس کی طرف اوپر اشارہ ہوا ہے ــــــــــــ "مدنی" سمجھتے ہیں ، ذیل کے علماء کا نام لیا جا سکتا ہے۔
1- حاکم ابو القاسم جسکانی نے ابن عباس سے ان آیات کی تعداد ، جو مکہ میں اور مدنیہ میں نازل ہوئی ہیں، بالتربیت تفصیل کے ساتھ نقل کی ہیں اور اس سور کو مدنی سورتوں میں شمار کیا ہے، جو سورہ "رحمٰن" کے بعد اور سورہ "طلاق" سے پہلے نازل ہوا ہے۔ ؎1
صاحب کتاب "ایضاح" استاد احمد زاہد نے بھی یہی معنی ابن عباس سے نقل کیا ہے ۔ ؎2
2- "تاریخ القرآن" میں ابو عبداللہ زنجانی نے کتاب "نظم الدرروتناسق الاٰیات والسور" سے اہل سنت کے بزرگوں کی ایک جماعت سے نقل کیا ہے کہ انھوں نے سورہ انسان کو مدنی سورتوں کی ردیف میں شمار کیا ہے۔ ؎3
3- اور اسی کتاب میں "فہرست ابن ندیم" سے بھی ابن عباس ہی سے یہ نقل ہوا ہے کہ وہ سورہ ہلاتٰی کو گیارویں مدنی سورت شمار کرتے ہیں۔ ؎4
4- سیوطی نے "اتقان" میں بہیقی کی "دلائل النبوت" سے مکرمہ سے نقل کیا ہے کہ سورہ ہل اتی مدینہ میں نازل ہوا ہے۔ ؎5
5- "درالمنشور" میں بھی یہی مضمون ابن عباس سے مختلف طریقوں سے نقل ہوا ہے۔ ؎6
6- زمخشری نے "تفسیر کشاف" میں اس سورہ کی ابتدائی آیات کو مشہور شان نزول علیؑ اور ان کی زوجہ محترم اور ان کے بچوں کی نزرکے بارے میں نقل کیا ہے۔ ؎7
7- مزکورہ بالا موارد کے علاوہ اہل سنت کے دوسرے بزرگ علماء کی ایک کثیر جماعت نے اس سورہ کی ابتدائی آیات (ان الابرار...) کا نزول علیؑ، فاطمہ زہراؑ،امام حسنؑ اور امام حسینؑ کے بارے میں نقل کیا ہے، جو اس بات کی شہادت ہے کہ یہ سورہ مدنی ہے (کیوں کہ ہم جانتے ہیں کہ امام حسنؑ اور امام حسینؑ کی ولادت مدینہ میں ہوئی ہے)۔ مثلاً واحدی نے "اسباب النزول" میں ، بغوی نے "معالم التنزیل" میں، سبط بن جوزی نے "تزکرہ" میں ، گنجی شافعی نے "کفایت الطالب"میں ، اور بہت سے دوسرے علماء نے۔ ؎8
یہ مسئلہ اس قدر مشہور و معروف ہے کہ (اہل سنت کے چار اماموں میں سے ایک) "محمد بن ادریس شافعی" اپنے مشہور اشعار میں کہتا ہیں
الی م الی م و حتی متٰی ؟ اعتب فی حب ھٰذا الفتٰی
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
؎1 مجمع البیان جلد 10 ص 405
؎2 گزشتہ مدرک
؎3 تاریخ القرآن ص 55
؎4 تاریخ القرآن
؎5 تفسیر المیزان جلد 20 ص 221
؎6 تفسیر المیزان جلد 20 ص 221
؎7 کشاف جلد 4 ص 270
؎8 احقاق الحق جلد 2 ص 157 تا 170 (کتابوں کے نام اور صفحات کے ذکر کے ساتھ)۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
اھل زوجت فاطمہ غیرہ؟ وفی غیرہ ھل اتٰی ھل اتٰی ؟
"کب تک، کس وقت تک اور کس زمانہ تک؟
مجھے اس جوان مد کی محبت میں سرزنش کرتے رہوگے
کیا فاطمہ کی اس کے علاوہ کسی اور سے شادی ہوئی ہے؟
"اور کیا سورہ ہل اتٰی اس کے علاوہ کسی اور کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ ؎1
اس سلسلہ میں اور بھی بہت سے مدرک موجود ہیں، جن کے ایک حصہ کی طرف ہم "ان الابرار یشربون ......"والی آیات کا شان نزول بیان کرتے ہیں وقت اشارہ کریں گے۔
لیکن ان تمام باتوں کے باوجود بعض متعصب افراد کا اصرار ہے کہ اس سورہ کو مکی سمجھیں اور مدینہ میں اس کے نزول کی تمام روایات کا اور اسی طرح اس سورہ کے کے علیؑ و فاطمہؑ اور حسنین کے بارے میں نزول کا انکار کریں۔
واقعاً عجیب بات ہے کہ جب کوئی آیت یا روایت علیؑ اور اہل بیتؑ کے فضائل بیان کرتی ہوئی دکھائی دیتی ہے تو ایک گروہ داد فریاد بلند کرنے لگ جاتا ہے اور حد سے زیادہ حساسیت دکھانے لگتا ہے، گویا کہ اسلام خطرے میں پڑگیا ہے۔
حالانکہ دعویٰ یہ کرتے ہیں کہ وہ علیؑ کو خلفاراشدین اور اسلام کے عظیم پیشواؤں میں سے سمجھتے ہیں اور اہل بیت کے بارے میں بھی اظہار عقیدت کرتے ہیں۔ ہمارے نظریہ کے مطابق یہ تعصب اس گروہ کے افکار پر روح اموی کی حاکمیت کا نتیجہ ہے اور اسی شوم و منحوس سور کے پرو پیگنڈوں کی پیداوار ہے۔ خدا ہم سب کو اسی قسم کے اشتباہات سے محفوظ رکھے۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
؎1 گزشتہ مدرک ص 158