Tafseer e Namoona

Topic

											

									  پروردگار کے لشکروں کی تعداد 

										
																									
								

Ayat No : 31

: المدثر

وَمَا جَعَلْنَا أَصْحَابَ النَّارِ إِلَّا مَلَائِكَةً ۙ وَمَا جَعَلْنَا عِدَّتَهُمْ إِلَّا فِتْنَةً لِلَّذِينَ كَفَرُوا لِيَسْتَيْقِنَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ وَيَزْدَادَ الَّذِينَ آمَنُوا إِيمَانًا ۙ وَلَا يَرْتَابَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ وَالْمُؤْمِنُونَ ۙ وَلِيَقُولَ الَّذِينَ فِي قُلُوبِهِمْ مَرَضٌ وَالْكَافِرُونَ مَاذَا أَرَادَ اللَّهُ بِهَٰذَا مَثَلًا ۚ كَذَٰلِكَ يُضِلُّ اللَّهُ مَنْ يَشَاءُ وَيَهْدِي مَنْ يَشَاءُ ۚ وَمَا يَعْلَمُ جُنُودَ رَبِّكَ إِلَّا هُوَ ۚ وَمَا هِيَ إِلَّا ذِكْرَىٰ لِلْبَشَرِ ۳۱

Translation

اور ہم نے جہنمّ کا نگہبان صرف فرشتوں کو قرار دیا ہے اور ان کی تعداد کو کفار کی آزمائش کا ذریعہ بنادیا ہے کہ اہل کتاب کو یقین حاصل ہوجائے اور ایمان والوں کے ایمان میں اضافہ ہوجائے اور اہل کتاب یا صاحبانِ ایمان اس کے بارے میں کسی طرح کا شک نہ کریں اور جن کے دلوں میں مرض ہے اور کفار یہ کہنے لگیں کہ آخر اس مثال کا مقصد کیا ہے اللہ اسی طرح جس کو چاہتا ہے گمراہی میں چھوڑ دیتا ہے اور جس کو چاہتا ہے ہدایت دے دیتا ہے اور اس کے لشکروں کو اس کے علاوہ کوئی نہیں جانتا ہے یہ تو صرف لوگوں کی نصیحت کا ایک ذریعہ ہے.

Tafseer

									  ایک نکتہ
     پروردگار کے لشکروں کی تعداد
  ہر گجہ خدا کا حضور اور اس کی قدرت کی وسعت ، تمتما عالمِ ہستی مینٓں ، اس کی پاک ذات کو ہر قسم کے یارومددگار اوت لشکر سے بے نیاز کر دیتی ہے یلکن اس کے باوجود مخلوقات کو اپنی عظمت بنانے، اور ان کے تذکر اور یاددہانی کے لیے اس نے فراواں لشکروں کا انتخاب کیا ہے، جو سارے عالم میں اس کے فرمان کو اجرء کرنے والے ہیں۔
 اسلامی روایات میں پروردگار کے لشکروں کی کثرت و عظمت اور قدرت کے لیے عجیب و غریب تعبیریں وارد ہوئی ہیں ، چونکہ وہ ان موازین کے ساتھ ، جن سے ہم سروکار رکھتے ہیں سازگار نہیں ہیں ، اسی لیے ان کا سننا ہمارے لیے بہت تعجب آور ہے۔

 یہاں پر ہم حضرت علیؑ کے اس عظمت والے کلام پر ، جو اس سلسلہ میں نہج البلاغہ کے پہلے خطبہ میں نقل ہوا ہے ، قناعت کرتے ہیں، اور چونکہ عبادت طولانی ہے ۔ لہذا ہم اس کا صرف ترجمہ پیش کرتے ہیں ۔
 اس وقتر اپور والے آسمانوں کو ایک دوسرے سے جدا کیا، اور ان کو فرشتوں کی مختلف اصناف و اقسام سے پر کردیا۔
 ان میں سے ایک گروہ ہمیشہ سجدہ میں رہتا ہے اور وہ رکوع میں نہیں جاتا۔
 اور ایک گروہ ہمیشہ رکوع میں رہتا ہے اور وہ رکوع سے سر نہیں اٹھاتا۔ 
 اور ایک گروہ ہمیشہ قیام میں  رہتا ہے اور عبادت میں مشغول رہتا ہےاور وہ اپنی جگہ کو نہیں بدلتا۔
 ایک گروہ ہمیشہ تسبیح کرتا ہے اور تھکتا نہیں۔
 کبھی نیند ان کی آنکھوں کو بند نہیں کرتی اور سہوونسیان ان کی عقل پر غالب نہیں آتے۔
 ان کے جسم سستی کی طرف مائل نہیں ہوتے اور غفلت اور فراموشی انھیں لاحق نہیں ہوتی۔
 اور ایک دوسرا گروہ اس کی وحی کا امین ہے اور اس کے پیغمبروں کی طرف اس کی زبان ہے اور یہ گورہ اس کے فرمان اور امر کی تبلیغ کے لیے مسلسل آتا جاتا رہتا ہے۔

 کچھ اور اس کے بندوں کے محافظ ہیں اور بہشت بریں کے دربان ہیں۔
 ان میں سے بعض کے پاؤں زمین کے نچلے طبقات میں ثابت اور ان کی گردنیں آسمان بریں سے آگے نکل گئی ہیں اور ان کے کے وجود کے ارکان ابعادو اطراف جہان سے خارج ہوگئے ہیں اور ان کے کندھے عرشِ خدا کے پایوں کی حفاظت کے لیے آمادہ ہیں۔ ؎ 1 
 جیسا کہ ہم پہلے بھی بیان کر چکے ہیں(ملک) ایک وسیع و عریض مفہوم رکھتا ہے جو ان فرشتوں کو بھی شامل ہے جو عقل و شعور اور اطاعت و تسلیم کے حامل ہیں اور عالمِ ہستی کی بہت قوتوں اور توانائیوں کو بھی۔
 ہن مے اس موضوع کے بارے میں سورہ فاطر کے آغاز کی آیات میں (جلد 18 ص 165 سے آگے) مزید تفصیل بیان کی ہے۔
    ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
  ؎ 1   نہج البلاغہ ۔ خطبہ اول