رات کے وقت کی عبادت کا اثر
إِنَّ نَاشِئَةَ اللَّيْلِ هِيَ أَشَدُّ وَطْئًا وَأَقْوَمُ قِيلًا ۶إِنَّ لَكَ فِي النَّهَارِ سَبْحًا طَوِيلًا ۷وَاذْكُرِ اسْمَ رَبِّكَ وَتَبَتَّلْ إِلَيْهِ تَبْتِيلًا ۸رَبُّ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ لَا إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ فَاتَّخِذْهُ وَكِيلًا ۹وَاصْبِرْ عَلَىٰ مَا يَقُولُونَ وَاهْجُرْهُمْ هَجْرًا جَمِيلًا ۱۰
بیشک رات کا اُٹھنا نفس کی پامالی کے لئے بہترین ذریعہ اور ذکر کا بہترین وقت ہے. یقینا آپ کے لئے دن میں بہت سے مشغولیات ہیں. اور آپ اپنے رب کے نام کا ذکر کریں اور اسی کے ہو رہیں. وہ مشرق و مغرب کا مالک ہے اور اس کے علاوہ کوئی خدا نہیں ہے لہذا آپ اسی کو اپنا نگراں بنالیں. اور یہ لوگ جو کچھ بھی کہہ رہے ہیں اس پر صبر کریں اور انہیں خوبصورتی کے ساتھ اپنے سے الگ کردیں.
تفسیر
رات کے وقت کی عبادت کا اثر
یہ آیات اسی طرح رات کی عبادت اور رات کی تاریکی میں قرآن کی تلاوت کے ذریعے، معنوی تعلیمات کے سلسلہ میں ، بحث کو جاری رکھے ہوۓ ہیں ، اور حقیقت میں کو کچھ گزشتہ آیات میں بیان ہوا ہے، یہ اس کی دلیل کے طور پر آئی ہیں۔"یہ عبادت اور رات کی تلاوت کا حکم اس بناء پر ہے کیونکہ (عبادت اور تعلیم کا)یہ پروگارام زیادہ مضبوظ اور زیادہ استقامت والا ہے"۔(اِنَّ نَاشِئَةَ اللَّيْلِ هِىَ اَشَدُّ وَطْئًا وَّاَقْوَمُ قِيْلً)۔ ؎ 1
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
؎ 1 "ناشئۃ" اسم فاعل ہے لیکن یہ احتمال بھی دیا گیا ہے کہ یہ مصدر ہو "عافیۃ" کی طرح۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
"ناشئۃ" "نشئی" (بروزنثر) کے مادہ سے "حادثہ" کے معنی میں ہے ، اور یہ بات کہ یہاں اس سے کیامرادہےاس کے تین تفاسیر بیان ہوئی ہیں۔
پہلی یہ ہے کہ اس سے مراد رات کی گھڑیاں ہیں، جو کہ یکے بعد دیگرے حادیث ہوتی ہیں ، یا خصوصیت کے ساتھ آخرِ شب اور سحر کی گھڑیاں ہیں۔
دوسری یہ ہے کہ اس سے مراد نماز و عبادت اور تلاوت کے لیے قیام کا پروگرام ہے جیسا کہ ایک حدیث میں امام باقرؑ اور امام صادقؑ سے نقل ہوا ہے کہ انھوں نے فرمایا:
ھی القیام فی اٰخر اللیل الٰی صلاۃ اللیل
اس سے مراد آخرِشب میں نماز تہجد کے لیے قیام کرنا ہے۔ ؎ 1
ایک اور حدیث میں امام صادقؑ سے اس آیہ کی تفسیر میں آیا ہے :
قیامہ عن فراشہ لا یرید الا اللہ
اس سے مراد بستر سے کھڑا ہونا ہے جس کا مقصد خدا کے سوا اور کچھ نہ ہو۔ ؎ 2
تیسری یہ ہے کہ اس مراد "معنوی و روحانی حالات" اور "ملکوتی نشاط و جذبہ" پے، جو انسان کے دل و جان میں، رات کی ان مخصوص گھڑیوں میں پیدا ہوتا ہے جس کے اثرات روحِ انسانی میں ذیادہ گہرے ہوتے ہیں اور ان کا دوام زیادہ سے زیادہ ہوتا ہے۔
البتہ یہ تفسیر اور اس سے پہلے والی تفسیر ایک دوسرے کی لازم و ملزوم ہیں اور یہ مناسب ہے کہ یہ دونوں ہی آیت میں جمع ہوں۔
"وطئًا" اصل میں قدم رکھنے اور اسی طرح موافقت کرنے کے معنی میں ہے۔
"اشد و طئًا" کی تعبیر یا تو مشقت و زحمت کے معنی میں ہے جو زبانہ قیام اور عبدت میں ہوتی ہے یا پھر ثابت و راسخ تاثیرات کے معنی میں ہے جوان وعبادت کے سایے میں انسان کی روح اور جان میں پیدا ہوتی ہے (البتہ دوسرا معنی زیادہ مناسب ہے)
یہ احتمال بھی ہے کہ یہ اس زیادہ موافقت کے معنی میں ہے جو ان لمحات میں انسان کے دل آنکھ اور کان کے درمیان ہوتی ہے اور ان سب کے اجتماع سے عبادت کی راہ پیدا ہوتی ہے۔
"اقوام" "قیام" کے مادہ ست محکم و مضبوط اور زیادہ صاف کے معنی میں ہے اور "قیل" بات کرنے کے معنی میں ہے، یہاں ذکر خدا اور تلاوتِ قرآن کی طرف اشارہ ہے۔
مجموعی طور پر یہ آیت ان آیات میں سے ہے جو "شبانہ عبادت" اور سحرگاہی دعا ثنا ، اور ایسے لمحات میں کبکہ ہر وقت کی نسبت، دلی فراغت کے اسباب زیادہ فراہم ہوتے ہیں ـــــــــ محبوب کے ساتھ راز و نیاز کی رساترین باتوں کو اپنی معنی خیز تعبیروں کے ساتھ بیان کرتی ہے اور اسی طرح سے انسان کی تہزیبِ نفس، اور روحِ جان کی پرورش میں اس کی تاثیر کو بیان کرتی ہے۔ یہ اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
؎ 1 مجمع البیان جلد 10 ص 378
؎ 2 نورالثقلین جلد 5 ص 448 حدیث 16
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
انسان کی روح، ان لمحات میں دعاء و مناجات اور ذکر و فکر کے لیے ایک خاص قسم کی آمادگی رکھتی ہے۔
ـــــــــــــــــــــــــ
بعد والی آیارت میں مزید کہتا ہے :"یہ اس بناء پر ہے کہ دن میں تو تمھیں مسلسل اور بہت زیادہ سعی و کوششں جدوجہد کرنی پڑے"۔(اِنَّ لَكَ فِى النَّـهَارِ سَبْحًا طَوِيْلًا)۔
تم ہمیشہ مخلوق کی ہدایت اور پروردگار کی رسالت کی تبلیغ اور انفرادی و اجتماعی زندگی کے مشکلات کو حل کرنے میں لگے رہتے ہو، اور عبادت اور مناجات کت لیے کافی وقت نہیں ملتا، لہذا اس کی بجاۓ رات کو عبادت کیا کرو۔
ایک اور اختمال بھی جو آیت کی تفسیر میں موجود ہے اور کئی جہات سے زیادہ بہتر اور قبل و بعد کی آیات کے ساتھ زیادہ ہم آہنگ ہے یہ ہے کہ چونکہ تم دن بھر میں سنگین وظائف، بھاری ذمہ داریوں اور بہے زیادہ جدوجہد کا بوجھ اپنے کاندھوں پر اٹھاتے ہو، لہزا تمھیں رات کی عبادت کے ساتھ خود کو تقویت دینی چاہیے اور ان عظیم فعالییتوں کے لیے اس قیام شب کے ذریعہ ضرور تیار ہونا چاہیے۔
"سبح" (بروزن "مدح") اصل میں حرکت اور آمدورفت کے معنی میں ہے اور بعض اوقات تیرنے پر بھی اس کا اطلاق ہوتا ہے کیونکہ وہ مسلسل حرکت میں رہتا ہے۔
گویا وہ انسانی معاشرے کو ایک بے کراں سمندر سے تشبیہ دیتا ہے، جس میں ایک گروہ کثیر غرق ہونے کی حالت میں ہے، اسکی امواجِ خروشاں ہر طرف حرکت میں ہیں، سرگرواں کشتیاں اس میں پناہ گاہ تلاش کرتی ہھرتی ہیں اور پیغمبراسلامؑ اس سمندر میں غرق ہونے والوں کے لیے، اکیلے نجات دہندہ ہیں اور آپ کا قرآن اس سمندر میں اکیلی نجات کی کشتی ہے۔
اس عظیم تیراک کو چاہیے کہ وہ اپنے آپ کو اپنی شبانہ عبادت کت ذریعہ اس روزانہ کی عظیم ماموریت اور رسالت کے لیے آمادہ کرے۔
ــــــــــــــــــــــــــــ
رات کی عبادت کے قیام کے حکم ، اور اس کے عمیق اور گہرے آثار کی طرف اجمالی اشارہ کرنے کے بعد پانچ احکام کا ، جوان کی تکمیل کرتے ہیں۔، ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے :"اپنے پروردگار کے بنام کو یاد کرو اور اس کا ذکر کرو"۔(وَاذْكُرِ اسْـمَ رَبِّكَ)۔
مسلمہ طور پر اس سے مراد صرف خدا کے نام کا ذکر کرنا نہیں ہے بلکہ معنی کی طرف توجہ ہے، کیونکہ لفظی ذکر قلبی یاد کاایک مقدمہ اور تمہید ہے اور قلبی ذکر روح و جان کو صفا بخشتا ہے اور دل میں معرفت و تقوٰی کے نہال کی آبیاری کرتا ہے۔
"رب" کی تعبیر اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ جس وقت تم اس کے مقدس نام کا ورد کرو تو اس کی بےپایاں نعمتوں اور اپنے لیے اس کی مسلسل تربیت کی طرف توجہ رکھو۔
ایک مفسر نے پروردگار کے ذکر کے کچھ مراحل بیان کیے ہیں۔
پہلا مرحلہ اس کے نام کے ذکر کا ہے، جس کی طرف زیرِ بحث آیت میں اشارہ ہوا ہے۔
اس کے بعد والے مرحلہ میں اس کی پاک ذات کی دل میں یاد آوری کی نوبت آتی ہے، جو سورہ اعراف کی آہی 205 میں بیان ہوئی ہے "وَاذْكُرْ رَّبَّكَ فِىْ نَفْسِكَ تَضَرُّعًا وَّخِيْفَةً" "اپنے پروردگار کو اپنے دل میں تضرع اور خوف کے ساتھ یاد کرو"
آکر کار تیسرا مرحلہ آن پہنچتا ہے ، اس مرحلہ میں خدا کی ربوبیت کے مرحلہ سے اوپر چلاجاتا ہے اور خدا کے صفاتِ جمال و جلال کے مجموعہ کے مقام تک ــــــــــ جو اللہ میں جمع ہے ـــــــ پہنچ جاتا ہے، جیسا سورہ احزاب کی آیہ 41 میں فرماتا ہے :
يَآ اَيُّـهَا الَّـذِيْنَ اٰمَنُوا اذْكُرُوا اللّـٰهَ ذِكْرًا كَثِيْـرًا
"ےا ایمنان لانے والو! خدا کو کثرت سے یاد کیا کرو"
اور اس طرح سے یونہی یہ ذکر جاری و ساری رہےگا اور مرحلہ بہ مرحلہ تکامل وارتقاء پیدا کرتا رہے گا اور ذکر کرنے والوں کو اوجِ کمال تک پہنچا دے گا۔ ؎ 1
دوسرے حکم میں فرماتا ہے۔"خڈا ہی کے ساتھ اپنے دل کو لگاؤ اور اس کے غیر سے امید کو قطع کرلو اور خلوص کے ساتھ عبادت کے لیے کھڑے ہوجاؤ"۔(وَتَبَتَّلْ اِلَيْهِ تَبْتِيْلًا)۔ ؎ 2
"تبتل" "تبل" (بروزن حتم) کے مادہ سے اصل میں انقطاع کے معنی میں ہے اور اسی لیے مریم کو "بتول" کہا گیا ہے کیونکہ انھوں نے اپنے لیے کوئی شوہر انتخاب نہیں کیا اور اگر بانوۓ اسلام فاطمہ زہرا (سلام اللہ علیہا) کو بھی بتول کہا جاتا ہے، تو اس کی وجہ یہ ہے کہ وپ اپنے زمانہ کی تمام عورتوں سے اعمال و رفتار اور معرفت کے لحاظ سے جدا اور برتر تھیں اور انقطاع الی اللہ کی ھالت تک پہنچی ہوئی تھیں۔
بہرحال "تبتل" یہ ہے کہ انسان اپنے پورے دل کے ساتھ خدا کی طرف متوجہ ہو اور اللہ کے سوا ہر کسی سے منقطع ہوجاۓ، اور اپنے اعمال صرف اسی کے لیے بجالائے اور اخلاص میں غرق ہو۔
اور اگر ایک روایت میں پیغمبر گرامی اسلام سے یہ نقل ہوا ہے کہ :
لارھبانیۃ، ولا تبتل فی الاسلام
"اسلام میں نہ تو رہبانیت ہے اور نہ ہی تبتل"۔ ؎ 3
تو یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اس طرح سے ترکِ دنیا کرنا، جو عیسائی راہبوں میں رائج ہے، وہ اسلام میں موجود نہیں ہے وپ ترکِ دنیا کے لیے شادی بیاہ کو بھی ترک کرتے ہیں اور ہر قسم کی اجتماعی فعالیت کو بھی، لیکن اگر واقعی اور حقیقی مسلمان، قلب ِاجتماع میں زندگی بسر کرنے کے باوجود تمام تر خدا ہی طرف متوجہ رہتا ہے۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
؎ 1 "تفسیر فخررازی" جلد 30 ص 177 (اقتباس)
؎ 2 قاعدہ کے مطابق یہاں "مفعول مطلق" "تبتل" ہونا چاہیے جو باب "تفعل" کا مصدر ہے ، لیکن اس کی جگہ یہاں پر باب تفعیل کا مصدر آیا ہے۔ یہ امر اس بات کے علاوہ کہ یہ آیات کے آخر میں ہم آہنگی کو محفوظ رکھتا ہے، ممکن ہے ایک لطیف نکتہ کی طرف اشرہ بھی ہو اور وہ یہ ہے کہ "انقطاع الی اللہ" نہ سارا کا سارا اکتسابی ہے اور نہ ہی تمام کا تمام موہوبی، کیونکہ اس میں ایک طرف تو پرہیزگار بندہ کی سعی و کوشش شرط ہے اور دوسری طرف سے پروردگار کا لطف۔
؎ 3 "مفرادت" و "مجمع البحرین" مادہ "تبتل"
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
بعض روایات میں، آمہ معصومین سے نقل ہوا ہے کہ "تبتل" کا معنی حالتِ نماز میں ہاتھ کو بلند کرنا ہے۔ ؎1 لیکن یہ بات واضح ہے کہ یہ حقیقت میں اخلاص اور انقاطاع الی اللہ کے ایک مظہر کا بیان ہے۔
بہرحال پروردگار کی وہ یاد اور یہ اخلاص ، مخلوقِ خدا کی ہدایت کے سنگین و سخت پروگرام میں مردانِ خدا کا عظیم سرمایا ہے۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
اس کے بعد تیسرے حکم کو پیش کرتے ہوۓ فرماتا ہے : "وہی مشرق و مغرب کا پروردگار ، جسکے علاوہ کوئی معبود نہیں اپنا محافظ اور کارساز مانو"۔(رَّبُّ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ لَآ اِلٰـهَ اِلَّا هُوَ فَاتَّخِذْهُ وَكِيْلًا)۔
یہاں "ذکراللہ" اور "اخلاص" کے مرحلہ کے بعد ، توکل اور تمام کاموں کو خدا کے سہرد کرنے کا مرحلہ آتا ہے ، یعنی جہانِ ہستی کا سارا مجموعہ، اسی کی حکومت و ربوبیت کے زیر تسلط ہے اور پرستش کے لائق وہی یکہ و تنہا معبود ہے ، یہ تعبیر حقیقت میں، توکل بر خدا کے موضوع پر ، ایک دلیل کے طور پر آئی ہے، انسان اس پر توکل کیسے نہ کرے اور اپنے معاملات کو اس کے سپرد کیوں نہ کرے، حالانکہ اس وسیع عالمِ ہستی میں اس کے علاوہ کوئی اور حاکم، فرمانروا، منعم، مربی اور معبود نہیں ہے۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
آخری چوتھے اور پانچویں حکم میں فرماتا ہے : "دشمن جو کچھ کہتے ہیں اس پر صبروشکیبائی اختیار کرو اور ان سے شائستہ اور عمدہ طریقہ سے دوری اختیار کرو"۔(وَاصْبِـرْ عَلٰى مَا يَقُوْلُوْنَ وَاهْجُرْهُـمْ هَجْرًا جَـمِيْلًا)۔
اور اس طرح سے یہاں "صبر" اور "ہجران" کا مقام آپہنچتا ہے، کیونکہ حق کی طرف دعوت کی راہ میں، دشمنوں کی بد گوئی اور ان کااذیت و آزار پہچانا بہت زیادہ، اور اگر باغبان کوئی پھول توڑنا چاہتا ہے تو اسے کاٹنے کی زبان کے مقابلہ میں صبر کرنا پڑے گا۔
اس کے علاوہ بعض اوقات یہاں بے اعتنائی اور دوری ضروری ہوجاتی ہے ، تاکہ ایک تو ان کے شر سے محفوظ رہے، دوسرے اس طرح سے انھیں ایک سبق بھی دے، لیکن یہ ہجراں و دوری ، تربیتی پروگراموں اور خدا کی طرف تبلیغ و دعوت کے قطع کرنے کے معنی میں نہیں ہونی چاہیے۔
اس طرح سے اوپر والی آیات، پیغمبراسلامؐ اور ان تمام لوگوں کے لیے جو آپ کی پیروی کرتے ہیں ایک جامع اور کامل نسخہ دیتی ہیں کہ وہ رات کی عبادات اور بوقت سحر پروردگار سے دعا و مناجات سے مدد حاصل کریں اور پھر اس پودے کی یادِ خدا، اخلاص ، توکل، صبر اور ہجرانِ جمیل کے پانی سے آبیاری کریں۔ کیسا جامع اور عمدہ نسخہ ہے؟
"رب المشرق و المغرب" (مشرق و مغرب کے پروردگار) کی تعبیر تمام عالمِ ہستی پر اس کی حاکمیت و ربوبیت کی طرف اشارہ ہے، جیسا کہ ہم روزمرہ کی تعبیروں میں کہتے ہیں : فلاں شخص نے زمین کے مشرق و مغرب پر تسلط جمالیا ہے، یعنی تمام تمام روئے زمین کو ، نہ کہ صرف مشرق و مغرب کے نقطہ کو۔
"ھجر جمیل" (شائستہ دوری و جدائی) ، جیسا کہ ہم نے اشارہ کیا ہے کہ دلسوزی اور حق کی طرف دعوت و تبلیغ سے تو ام ہجان و دوری کے معنی میں ہے، کو خاص خاص علاقوں میں ایک تربیتی روش شمار ہوتی ہے اور دوسرے علاقوں میں "جہاد" کے مسئلہ کے
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
؎ 1 نورالثقلین جلد 5 ص 45 حدیث 27
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
ساتھ بالکل منافات نہیں رکھتی ، کیونکہ ہر ایک کی ایک جگہ ہے اور ہرنقطہ کا ایک مقام ہے، دوسرے لفظوں میں یہ دوری بے اعتنائی نہیں ہے ، بلکہ خود ایک قسم کی اعتناء اور پروہ کرتا ہے، بہرحال یہ جو بعض نے اوپر والی آیت کو آیات جہاد سے منسوخ سمجھا ہے، صحیح نہیں ہے۔
مرحوم "طبرسی" "مجمع البیان" میں اس آیہ کے ذیل میں کہتے ہیں:
وفی ھٰذا دلالۃ علی و جوب الصبر علی الاذی، لمن یدعوالی الذین و
والمعاشرۃ باحسن الاخلاق واستعمال الرفق لیکونوا اقرب الی الاجابۃ
"یہ آیت اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ مبلغین اور قرآن کی طرف دعوت دینے والے تکالیف اور
اذیتوں میں صبر اختیار کریں، اور حسن خلق و مدارات کے ساتھ لوگوں میں معاشرت کریں، تاکہ
ان کی باتیں جلدی قبول ہوں"۔ ؎ 1
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
؎ 1 "مجمع البیان" جلد 10 ص 379