ہم پہلے چوری چھپے سن لیا کرتے تھے لیکن ...
وَأَنَّهُمْ ظَنُّوا كَمَا ظَنَنْتُمْ أَنْ لَنْ يَبْعَثَ اللَّهُ أَحَدًا ۷وَأَنَّا لَمَسْنَا السَّمَاءَ فَوَجَدْنَاهَا مُلِئَتْ حَرَسًا شَدِيدًا وَشُهُبًا ۸وَأَنَّا كُنَّا نَقْعُدُ مِنْهَا مَقَاعِدَ لِلسَّمْعِ ۖ فَمَنْ يَسْتَمِعِ الْآنَ يَجِدْ لَهُ شِهَابًا رَصَدًا ۹وَأَنَّا لَا نَدْرِي أَشَرٌّ أُرِيدَ بِمَنْ فِي الْأَرْضِ أَمْ أَرَادَ بِهِمْ رَبُّهُمْ رَشَدًا ۱۰
اور یہ کہ تمہاری طرح ان کا بھی خیال تھا کہ خدا کسی کو دوبارہ نہیں زندہ کرے گا. اور ہم نے آسمان کو دیکھا تو اسے سخت قسم کے نگہبانوں اور شعلوں سے بھرا ہوا پایا. اور ہم پہلے بعض مقامات پر بیٹھ کر باتیں سن لیا کرتے تھے لیکن اب کوئی سننا چاہے گا تو اپنے لئے شعلوں کو تیار پائے گا. اور ہمیں نہیں معلوم کہ اہل زمین کے لئے اس سے برائی مقصود ہے یا نیکی کا ارادہ کیا گیا ہے.
تفسیر
ہم پہلے چوری چھپے سن لیا کرتے تھے، لیکن......
یہ آیات اسی طرح سے "جن مومنین" کے بیان کو جاری عکھے ہوئے ہیں، جو اپنی قوم کو تبلیغ کرتے وقت بیان کررہے تھے، اور مختلف طریقوں سے انھیں اسلام اور قرآن کی طرف دعوت دے رہے تھے۔ پہلے کہتے تھے: "انسانوں کا ایک گروہ، تمھاری طرح ہی یہ گمان کرتا تھا، خدا کسی بھی انسان کو (موسٰیؑ و مسیحؑ کے بعد)نبوت کے ستھ مبعوث نہیں کرے گا"۔(وَاَنَّـهُـمْ ظَنُّوْا كَمَا ظَنَنْتُـمْ اَنْ لَّنْ يَّبْعَثَ اللّـٰهُ اَحَدًا)۔
لہذا وہ قرآن کے انکار اور پیغمبرِاسلام کی نبوت کی تکذیب کے لیے اٹھ کھڑے ہوئے، لیکبن ہم نے جب غور سے اس کتاب آسمانی کی آیات کو سنا، تو ہم نے اس کی حقانیت کا واضح طور پر ادراک کرلیا۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ تم بھی مشرک انسانوں کی طرح کافر ہوجاؤ اور انھیں جیسی سرنوشت میں گرفتار ہوجاؤ۔
یہ تعبیر مشرکین کے لیے ایک تنبیہ ہے کہ ہو جان لیں کہ جب جنوں کی منطق یہ ہے اور ان کا فیصلہ یہ ہے تو پھر وہ بیدار ہوجائیں اور قرآن اور پیغمبر اکرمؐ کے دامن سے متمسک ہوجائیں۔
بعض نے یہ احتمال دیا ہے کہ "ان لن یبعث اللہ احدًا" کا جملہ معاد کے انکار کی طرف اشارہ ہے، نہ کہ پیغمبر کی بعثت کے انکار کی طرف اور یہ بھی کہا کہ یہ آیت اور اس سے پہلے والی آیت کلی طور پر خدا کا کلام ہے، نہ کہ مومنین "جن" کا اور یہ جملہ ہا کے معترضہ کی صورت میں ان کی باتوں کے درمیان آیا ہے اور اس میں مخاطبِ مشرکین عرب ہیں۔
اس تفاسیر کے مطابق آیت کا مفہوم اس طرح ہوگا کہ اے مشرکین عرب جن بھی تمھاری طرح ہی اس طرح کا گمان رکھتے تھے کہ خدا ب کسی بھی رسول کو معبوث نہیں کرے گا۔ لیکن قرآن کو سننے کے بعد وہ اپنی غلطی کو سمجھ گئے۔ لہذا اب وہ وقت آ گیا ہے کہ تم بھی بیدار ہو جاؤ۔
لیکن یہ تفسیر بہت بعید نظر آتی ہے، بلکہ ظاہر یہ ہے کہ یہ جن مومنین کی گفتگو ہی چل رہی ہے اور اس میں "کافرین جن" مخاطب ہیں۔
اس کے بعد مومنین جن ، اپنی گفتگو کی صداقت کی ایک نشانی کی طرف ــــــــجو عالم طبیعت میں تمام جنوں کے لیے قابل ادراک ہےــــــــــ اشارہ کرتے ہوئے کہتے ہیں: "ہم نے آسمانوں میں جستجو کی ، تو ہم نے ان سب کو نگہبانوں اور قوی محافظوں اور شہاب کے تیروں سے بھرپور پایا"۔(وَاَنَّا لَمَسْنَا السَّمَآءَ فَوَجَدْنَاهَا مُلِئَتْ حَرَسًا شَدِيْدًا وَشُهُبًا)۔
ہم اس پہلے چوری چھپے باتیں سننے کے لیے آسمانوں میں بیٹھ جایا کرتے تھے اور وہاں سے کچھ خبریں معلوم کرلیا کرتے تھے۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
؎ 1 "لمسنا" "لمس" کے مادہ سے ہے، جس کا معنی مشہور ہے، لیکن یہاں طلب و جستجو سے کنایہ ہے (مفرادات راغب و تفسیر کبیر فخر رازی اور تفسیر قرطبی)۔
؎ 2 "حرس" (بروزن قفس) جمع ہے "حارس" کی جو نگیبان کے معنی میں ہے اور بعض اس کو اسم جمع سمجھتے ہیں۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
اور اپنے دوستوں کو ان کی اطلاع دے دیا کرتے تھے ، لیکن اب معملہ ایسا ہو گیا ہے کہ اگر کوئی چوری چھپے کچھ سننا چہتا ہے تو وہ اپنی گھات میں ایک شہاب کو پاتا ہے جو اس کو نشانہ بنا لیتا ہے"۔(وَاَنَّا كُنَّا نَقْعُدُ مِنْـهَا مَقَاعِدَ لِلسَّمْـعِ ۖ فَمَنْ يَّسْتَمِـعِ الْاٰنَ يَجِدْ لَـهٝ شِهَابًا رَّصَدًا)۔
تو کیا یہ نئی وضح و کیفیت اس حقیقت کی دلیل نہیں ہے کہ اس پیمغبر کے ظہور اور اس کی کتاب آسمانی کے نزول سے عالم میں ایک عظیم تغیر پیدا ہوگیا ہے؟ آخڑ پہلے تم میں چوری چھپے سننے کی طاقت کیوں تھی اور اب تم میں سے کوقئی بھی اس کام پر قدرت کیوں نہیں رکھتا؟ کیا اس وضح جدید اور نئی کیفیت کا مفہوم یہ نہیں ہے کہ شیطنت ، کہانت اور مکرو فریب کا دور ختم ہوگیا ہے اور جہالت کی تاریک رات ڈھل گئی ہے اور وحی و نبوت کا آفتابِ عالم تاب طلوع ہوگیا ہے۔
"شھاب" اصل میں اس شعلہ کے معنی میں ہے جو آگ میں سے بھڑک کر نکالتا ہے اور اس اتشبن شعلہ کو بھی جو ایک لمبے خط صورت میں ظاہر ہوتا ہے "شہاب" کہتے ہیں۔ موجودہ دور کے ماہرین کی تحقیقات کے مطابق وہ پتھروں کے چھوٹے ٹکڑے ہوتے ہیں، جو کرہ زمین سے باہر کی فضا میں حرکت کررہے ہوتے ہیں، جب وہ زمین کےقریب آتے ہیں تو اس کی قوت کشش کے زیرِ اثر آجاتے ہیں، اور تیزی کے ساتھ زمین کی طرف گرتے ہیں ، جب وہ فضا یعنی زمین کے گرداگرد پھیلا ہوئی تہہ بہ تہہ ہوا میں داخل ہوتے ہیں ، تواس کے ساتھ شدید ٹکراؤ کی وجہ سے جل کر آگ بن جاتے ہیں ، اور جلانے والے شعلہ کی صورت اختیار کر لیتے ہیں، اور آکر کار ان کی راکھ زمین پر آگرتی ہے۔
قرآن مجید میں یہ مسئلہ بارہا بیان ہوا ہے کہ "شھاب" وہ تیر ہیں جو ان شیاطین کی طرف، چوری چھہے باتیں سننے کا ارادہ کرتے ہیں ، پھینکے جاتےہیں۔
اس بارے میں کہ چوری چھہے سننے سے مراد کیا ہے ؟ اور جن اور شیاطین آسمان سے کس طرح بھگائے جاتے ہیں؟ ہم نے سورہ حجر کی آیہ 18کے ذیل میں (جلد 18 ص 40 کے بعد) اور سورہ صافات کی آیہ 10 کے ذیل میں (جلد 19 ص 15 کے بعد ) تفصیلی مباحث پیش کیے ہیں۔
بہرحال لفظ "رصد" (بروزن حسد) کسی چیز کے انتظار میں آمادگی کے معنی میں ہے، جسے فارسی (اور اردو )میں "گھات لگا کر بیٹھنے" سے تعبیر کرتے ہیں۔ یہ لفظ بعض اوقات اسم فاعل کے معنی استعمال ہوتا ہے، یعنی وہ چیز یا وہ شخص جو گھات لگا کر بیٹھا ہو اور اوپر والی آیات میں اسی معنی میں استعمال ہوا ہے۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
اس کے بعد انھوں نے مزید کہا ان اوضع و حالات میں ہم نہیں جانتے ، کہ کیا چوری چھپے سننے کی ممنوعیت اس بات کی دلیل ہے کہ زمین پٌر عہنے والے لوگوں کےلیے شر اور برائی کا ارادہ ہوا ہے، یا خدا چاہتا ہے کہ انھیں اس طریقہ سے ہدایت کرے۔"(وَاَنَّا لَا نَدْرِىٓ اَشَرٌّ اُرِيْدَ بِمَنْ فِى الْاَرْضِ اَمْ اَرَادَ بِـهِـمْ رَبُّهُـمْ رَشَدًا)۔
دوسرے لفظوں میں ہم نہیں جانتے کہ کیا امر خدا کی طرف سے نزولِ ؑذاب ویلا کا مقدمہ ہے یا ان کی ہدایت کی تمہید ہے۔
لیکن مومنین جن کو اصولی طور پر یہ سمجھ لینا چاہیے کہ چوری چھپے سننے کی ممانعت، جو پیغمبر اسلام کے ظہور کے قریب ہوئی ہے، انسانوں کیہدایت کا مقدمہ ہے اور کہانت کے اداروں اور اسی جیسی خرافات کے ختم ہونے کی تمہید ہے ، اور یہ چیز تاریکی کے دور کے ختم ہونے ، اور ایک نورانی اور روشن دعر کے آغاز کے علان کے علاوہ کچھ اور نہیں ہوسکتی۔
لیکن چونکہ "جن" چوری چھپے سننے کے مسئلہ سے ایک خاص دلچسپی رکھتے تھے ۔لہذا وہ بھی یہ باور نہیں کرسکتے تھے کہ یہ محرومیت ایک قسم کی خیروبرکت ہے۔ ورنہ یہ بات واضح ہے کہ زمانہ جاہلیت کے کاہن اس چوری چھپے سننے کے مسئلہ پر تکیہ کرتے ہوئے، لوگوں ایک ایک بہت بڑے حصہ کو گمراہ کیا کرتے تھے۔
قابل توجہ بات یہ کہ وہ اس جملہ میں ہدایت کی نسبت تو خدا کی طرف کر دیتے ہیں، لیکن شر کو فعلِ مجہول کی صورت میں ، خدا کی طرف نسبت دیے بغیر زکر کرتے ہیں۔ یہ اس با ت کیطرف اشارہ ہے کہ خدا کی طرف سے جو کچھ آتا ہے وہ خیر و ہدایت ہوتی ہے۔ لیکن شر و فساد خود لوگوں کی طرف سے اور خدا کی نعمتوں اور مواہبِ آفرینش کے سواء استفادہ سے پیدا ہوتا ہے۔