ہم نے ایک عجیب قرآن سنا ہے
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ قُلْ أُوحِيَ إِلَيَّ أَنَّهُ اسْتَمَعَ نَفَرٌ مِنَ الْجِنِّ فَقَالُوا إِنَّا سَمِعْنَا قُرْآنًا عَجَبًا ۱يَهْدِي إِلَى الرُّشْدِ فَآمَنَّا بِهِ ۖ وَلَنْ نُشْرِكَ بِرَبِّنَا أَحَدًا ۲وَأَنَّهُ تَعَالَىٰ جَدُّ رَبِّنَا مَا اتَّخَذَ صَاحِبَةً وَلَا وَلَدًا ۳وَأَنَّهُ كَانَ يَقُولُ سَفِيهُنَا عَلَى اللَّهِ شَطَطًا ۴وَأَنَّا ظَنَنَّا أَنْ لَنْ تَقُولَ الْإِنْسُ وَالْجِنُّ عَلَى اللَّهِ كَذِبًا ۵وَأَنَّهُ كَانَ رِجَالٌ مِنَ الْإِنْسِ يَعُوذُونَ بِرِجَالٍ مِنَ الْجِنِّ فَزَادُوهُمْ رَهَقًا ۶
پیغمبر آپ کہہ دیجئے کہ میری طرف یہ وحی کی گئی ہے کہ جنوں کی ایک جماعت نے کان لگا کر قرآن کو سنا تو کہنے لگے کہ ہم نے ایک بڑا عجیب قرآن سنا ہے. جو نیکی کی ہدایت کرتا ہے تو ہم تو اس پر ایمان لے آئے ہیں اور کسی کو اپنے رب کا شریک نہ بنائیں گے. اور ہمارے رب کی شان بہت بلند ہے اس نے کسی کو اپنی بیوی بنایا ہے نہ بیٹا. اور ہمارے بیوقوف لوگ طرح طرح کی بے ربط باتیں کررہے ہیں. اور ہمارا خیال تو یہی تھا کہ انسان اور جناّت خدا کے خلاف جھوٹ نہ بولیں گے. اور یہ کہ انسانوں میں سے کچھ لوگ جناّت کے بعض لوگوں کی پناہ ڈھونڈ رہے تھے تو انہوں نے گرفتاری میں اور اضافہ کردیا.
تفسیر
ہم نے ایک عجیب قرآن سنا ہے
اب جو کچھ بیان ہوچکا، اس کی طرف توجہ کرتے ہوئے، آیات کی تفسیر کی طرف لوٹتے ہیں۔
پہلی آیات میں فرماتا ہے: "کہہ دیجیے کہ میری طرف وحی ہوئی ہے کہ جنوں کی ایک جماعت نے میری باتوں کو کان لگا کر سنا، تو انھوں نے کہا کہ ہم نے ایک عجیب قرآن سنا ہے۔"( قُلْ اُوْحِىَ اِلَىَّ اَنَّهُ اسْتَمَعَ نَفَرٌ مِّنَ الْجِنِّ فَقَالُـوٓا اِنَّا سَـمِعْنَا قُرْاٰنًا عَجَبًا)۔ ؎ 3
"اوحی الی" (میری طرف احی کی گئی ہے) کی تعبیر اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ پیغمبر نے بذات خود اس واقعہ جنوں کو مشاہدہ نہیں کیا تھا، بلکہ آپ وھی کے ذریعے آگاہ ہوئے ہیں کہ انھوں نے قرآن مجید کو کان دحر کے سنا ہے۔
ضمنی طور پر آیت، اچھی طرح سے، اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ گروہ "جن" صاحبانِ عقل ق شعور، فہم و ادراک والے اور تکلیف و مسئولیت کے حامی ہیں، اور زبان سے آشنائی اور اعجاز آمیز کلام میں فرق کو سمجھتے ہیں اور اسی طرح سے خود کو تبلیغ حق کا زمہ دار جانتے ہیں،
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
؎ 3 ارباب لغت، و تفسیر کے قول کے مطابق "نفر" 3سے 9 افراد تک کو کہا جاتا ہے
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
اور قرآن کے خطاب کے مخاطب بھی ہیں۔
یہ اس زندہ نظر آنے والے موجود کی خصوصیات کا ایک حصہ ہے، جو صرف آسی آیت سے معلوم ہوتا ہے، ان کی کچھ اور خصوصیات بھی ہیں، جنھیں ہم انشاءاللہ اسی بحث کی آخر میں تفصیل سے بیان کریں گے۔
انھیں اس بات کا حق تھا کہ وہ قرآن کو عجیب بات شمار کریں، کیونکہ اس کا لب و لہجہ اور طرز آہنگ بھی عجیب ہے اور اس کا نفوذ کرنا اور قوت جاذبہ بھی، اس کے مضمون و مطالب اور اس کی تاثیر بھی عجیب ہے اور اس کالانے والا بھی کہ جس نے کسی سے تعلیم حاصل نہیں کی تھی اور وہ احیین میں معبوث تھا۔
یہ ایک ایسا کلام ہے جو ظاہر و باطن میں عجیب ہے اور ہر دوسری گفتگو سے مختلف ہے اور اس طرح سے انھوں نے قرآن کے معجزہ ہونے کا اعتراف کر لیا ہے۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
انھنوں نے اس جملہ کے بعد کچھ اور باتیں بھی اپنی قوم سے کہیں، جھیں قرآن نے بعد والی آیات میں بارہ جملوں میں بیان کیا ہے، جن میں سے ہر ایک "انۤ" کے ساتھ شروع ہوتا ہے، جو تاکید کی نشانی ہے۔ ؎ 1
ہپلے فرماتا ہے: انھوں نے کہا: "یہ قرآن سب کو راہ راست کی طرف ہدایت کرتا ہے ، لہزا ہم ایمان لے آئے، اور ہم ہرگز کسی کو اپنے پروردگار کا شریک قرار نہیں دیتے۔"(يَـهْدِىٓ اِلَى الرُّشْدِ فَـاٰمَنَّا بِهٖ ۖ وَلَنْ نُّشْرِكَ بِرَبِّنَآ اَحَدًا)۔
"رشد" کی تعبیر بہے وسع اور ایک جامع تعیر ہے، جو ہرقسم کا امتیاز اپنے اندر لیے ہوئے ہے، ایک ایسا صاف ستھرا راستہ ہے، جس میں کوئی پیچ و خم نہیں ہے، روشن اور واضح جو طے کرنیوالوں کو سعادت و کمال کی منزل تک پہچا دیتا ہے۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــ
ایمان کے اظہار اور ہر قسم کے شرک کی نفی کے بعد، انھوں نے صفات خدا کے بارے میں اپنی گفتگو کو اس طرح جاری رکھا:"ہمارے پروردگار کا باعظمت مقام(مخلوق کے ساتھ مشابہت اور ہر قسم کے عیب و نقص سے)بلند ہے اور اس نے اپنے لیے بیوی اور اولاد کا ہرگز انتخاب نہیں کیا"۔( وَاَنَّهٝ تَعَالٰى جَدُّ رَبِّنَا مَا اتَّخَذَ صَاحِبَةً وَّّلَا وَلَـدًا)۔
"جد" کے لغت میں بہے سے معانی ہیں منجملہ ان کے "عظمت" ، "جدیت" ، "حصہ و نصیب" ، "نیا ہونا" اور اس کے مانند لیکن اس کا اصلی ریشہ اور جڑ، جیسا کہ "راغب" نے "مفردات" میں نقل کیا ہے۔ "قطع" کے معنی میں ہے اور چونکہ ہر باعظمت وجاد دوسرے
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
؎ 1 علماء نحو کے درمیان مشہور ہے کہ "ان" جب مقول قول میں ہو تو اسے زیر کے ساتھ پڑھا جانا چاہیے اور اوپر والی آیات میں پہلے مرحلہ میں تو زیر کے ساتھ ہے، لیکن بعد والی آیات میں جن کا اس پر عطف ہے زبر کے ساتھ ہے۔ اس لیے بہت سے مفسرین اس بات پر مجبور ہوئے ہیں کہ ان آیات میں مقدرات فرض کریں یا کچھ اور توجیہیں کریں، لیکن اس بات میں کیا حرج ہےم کہ ہم یہ کہیں یہ نحوی قئدہ انتشار بھی رکھتا ہے اور وہ یہ کہ جن موارد میں مقول قول پر عطف ہوتو جائز ہے کے اسے زبر کے ساتھ پڑھا جئے اور اس کی دلیل اس سورہ کی آیات ہیں۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
موجودات سے قطع اور جدا ہوجاتا ہے، لہذا یہ لفظ عظمت کے معنی میں آیا ہے۔
اس طرح اس کے باقی معانی کے بارے میں اسی تناسب کو نظر میں تکھا جاتا ہے اور دادا یا نانا کو جد کہا جاتا ہے ، تو وہ بھی اس کی بزرگی مقام اور سن کے واسطہ سے ہے۔
بہت سے مفسرین نے یہاں "جد" کے بہت ہی محدود معنی ذکر کیے ہیں ۔ بعض نے اس کی "صفات" کے معنی میں، اور بعض نے "قدرت" کے معنی ، میں، بعض نے "ملک و حکومت" کے معنی میں، بعض نے "نعمت" کے معنی میں اور بعض نے "نام" معنی میں تفسیر کی ہے، جو سب کے سب عظمت کے معنی میں جمع ہیں۔
لیکن چونکہ یہ تعبیر "جد" کے مشہور معنی، جو وہی "دادا " "نانا" کا اظہار کرتی ہے۔ اس لیے بعض رویات میں یہ آیا ہے کہ گروہ جن نادانی کی بناء پر اس قسم کی غیر مناسب تعبیر کو انتخاب کیا ، یعنی تم لوگ خدا کے بارے میں ہرگز اس قسم کی تعبیر نہ کرو۔ ؎ 1
یہ حدیث ممکن ہے ایسے مواقع کے لیے ہو ، جہاں اس قسم کا اظہار ہوتا ہو، ورنہ قرآن ان آیات میں، جنوں کی باتوں کو موافق لب ولہجہ میں نقل کرتا ہے اور انھیں صحح و درست سمجھتا ہے۔ علاوہ ازیں نہج البلاغہ کے بعض خطنٓبوں میں بھی یہ تعبیر استعمال ہوئی ہے۔ جیسا کہ خطبہ 191 میں آیا ہے۔
الحمدللہ الفاشی فی الخلق حمدہ والغلب جندہ و المتعالی جدہ
"حمد و ستائش اس خدا کےلیے مخصوص ہے، جس کی حمد و ثناء نے ہر جگہ کو گھیر رکھا ہےاور اس کا لشکر ہر جگہ کامیاب ہے اور اس کی مجد و عظمت بلند ہے۔"
بعض روایات میں آیا ہے کہ "انس بن مالک" کہتے ہیں:-
کان الرجل اذا اقرء سورۃ البقرۃ جد فی اعیننا
جب کوئی شخص سور بقرہ کو یاد کرلیا کرتا تھا اور اس کی قراءت کیا کرتا تھا، تو وہ ہماری نظر میں بزرگ اور باعظمت دکھائی دیتا تھا۔ ؎ 2
بہرحال مجدد بزرگی و عظنت کے معنی ہیں اس لفظ کا استعمال ایک ایسا مطب ہے جو متون لغت کے ساتھ بھی ہم آہنگ ہے اور موارد استعمال کے ساتھ بھی۔
وابل توجہ بات یہ ہے کہ ان باتوں کے کہنے والے "جن" یہاں خصوصیت کے ساتھ اس مطلب پر تکیہ کرتے ہیں کہ خدا کی بیوی اور اولاد نہیں ہے اور احتمال یہ ہےکہ یہ تعبیر اس بےہودگی کی طرف اشارہ ہو جوعربوں میں موجود تھی، جو یہ کہتے تھے کہ فرشتے خدا کی بیٹیاں ہیں، "ایک جن" بیوی سے، جسے خدا نے انتخاب کیا ہے۔
یہی معنی ایک احتمال کی عنوان سے سورہ صافات کی آیہ 158 کی تفسیر میں بھی آیہ ہے "وجعلوا بینہ و بین الجنۃ نسباً"
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
؎ 1 مکمع البیان جلد 10 ص 368 و"نورالثقین" جلد 5 ص 435 "علی بن ابراہیم" میں اس تعبیر کی طرف اشارہ ہوا ہے۔
؎2 "تفسیر قرطبی" جلد 10 ص 68.1
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
"وہ خدا اور جنوں کے درمیان رشتہ داری کے قائل تھے"۔
_________________
اس کے بعد انھوں نے مزید کہا: "اب ہم اعتراف کرتے ہیں ہم میں سے کچھ بےوقوف لوگ خدا کے بارے میں ناروا اور حق سے دور بات کیا کرتے تھے"۔(وَاَنَّهٝ كَانَ يَقُوْلُ سَفِـيْهُنَا عَلَى اللّـٰهِ شَطَطًا)۔
یہاں ممکن ہے "سفیہ" کی تعبیر جنسی اور جمع کے معنی میں ہو، یعنی ہمارے سفہاء اور بےوقوف لوگ خدا کے بیوی اور اولاد کے قائل تھے اور انھوں نے شبیہ و شریک بنا لیا تھا اور راہِ حق سے منحرف ہو کر فضول اور بےہودہ باتیں کہا کرتے تھے۔
بہت سے مفسرین نے یہ احتمال بھی دیا ہے کہ یہاں "سفیہ" کا مفہوم وہی ایک فرد ہے اور ابلیس کی طرف اشارہ ہے جو خدا کے فرمان کی مخالفت کرنے کے بعد، اس کی ساخت مقدس کی طرف بہت سی ناروا نسبتیں دیں ، یہاں تک کہ اس نےآدمؑ کے سجدہ کے بارے میں ، پروردگار کے حکم پر علی الاعلان اعتراض کیا، اور اسے حکمت سے دور سمجھا، اور اپنے آپ کو آدمؑ سے افضل و برتر خیال کیا۔
چونکہ "ابلیس" "جن" تھا۔ لہذا مومنین جن اس سے نفرت کا اظہار کر رہے ہیں، اور اس کی بات کو فضول اور حق سے دور کررہے ہیں۔ اگرچہ وہ ظاہرًاعالم و عابد تھا۔ لیکن عالم بے عمل اور عابد خود خواہ و منحرف و مغرور، "سفیہ" کے واضح مصادیق میں سے ہے۔
"شطط" (بروزن وسط) حدِ اعتدال سے خارج ہوکر دور جا پڑنے کے معنی میں ہے۔ اس لیے وہ باتیں جو حق سے دور ہوں انھیں شطط کہا جاتا ہے اور اسی لیے ان بڑے دریاؤن کے کناروں کو جن کا فاصلہ پانی زیادہ دور ہو، اور اس دیواریں بلند ہوں "شط" کہا جاتا ہے۔
ــــــــــــــــــــــــ
اس کے بعد انھوں نے مزید کہا:" ہم یہ گمان کیا کرتے تھے کہ جن اور انسان ہرگز خدا پر جھوٹ نہیں باندھیں گے"(وَاَنَّا ظَنَنَّـآ اَنْ لَّنْ تَقُوْلَ الْاِنْسُ وَالْجِنُّ عَلَى اللّـٰهِ كَذِبًا)۔
ان کی یہ بات ممکن ہے اس اندھی تقلید کی طرف اشارہ ہو جو یہ گروہ اس سے پہلے دوسروں کی کیا کرتا تھا اور اس بناء پر وہ خدا کا شریک بناتے تھے اور اس کے لیے بیوی اور اولاد کے قائل تھے، لہذا وہ کہتے ہیں کہ اگر ہم نے ان مسئل کو دوسروں سے بغیر کسی دلیل کے قبول کرلیا تھا تو وہ غلط فہمی کی بناء پر تھا۔ ہمٰن یہ خیال ہی نہیں آیا کہ انسان اور جن اتنی جراءت کریں گے کہ اتنا بڑا جھوٹ خدا پر بانھیں گے، لیکن اب جبکہ ہم نے اس بات کی تحقیق کرلی ہے اور اس پر ایمان لے آئے ہیں۔ لہذا ہم اب اس ناروا تقلید کو غلط سمجھتے ہیں، اوراس طرح اپنی غلطی اور مشرکین جن کے انحراف کا اعتراف کرتے ہیں۔
ـــــــــــــــــــــــــ
اس کے بعد انھوں نے کہا: جنوں اور انسانوں کے انحرافات میں سے ایک یہ تھا کہ "انسانوں میں سے کچھ لوگ، جنوں میں سے کچھ کی پناہ لیا کرتے تھے، اور وہ ان کی گمراہی، گناہ اور طغیان و سرکشی کی زیادتی کا سبب بنتے تھے"۔(وَاَنَّهٝ كَانَ رِجَالٌ مِّنَ الْاِنْسِ يَعُوْذُوْنَ بِـرِجَالٍ مِّنَ الْجِنِّ فَزَادُوْهُـمْ رَهَقًا)۔
"رھق" (بروزن شفق) اصل ،میں کسی چیز کو قہر و غلبہ کے ذریعے چھپانے کے معنی میں ہے اور چونکہ گمراہی، گناہ ، طغیان اور خوف انسان کے قلب و روح پر مسلط ہوجاتے ہیں اور اس کو چھپا لیتے ہیں اور ان اک ان معانی پر اطلاق ہوا ہے۔
بہت سے مفسرین نے اس جملہ کو ایک دوسری بیہودہ اور فضول بات کی طرف اشارہ سمجھا ہے جو زمانہ جاہیلیت میں موجود تھی اور وہ یہ تھی کہجب عربوں کے قافلے رات کے وقت کسی درہ میں داخل ہوتے تھے تو یہ کہا کرتے تھے۔
اعوذ بعزیز ھٰذا الوادی من شر سفھاء قومہ!
"میں اس سر زمین کے بزرگ و رئیس کی ــــــــــاس کی قوم کے......؟ اور بےوقوفوں کے شرسے
سے ــــــــــــــــپناہ مانگتا ہوں"۔
اور ان کا عقیدہ یہ تھا کہ اس بات کے کہنے سے جنوں کا بزرگ اور رئیس ، ان کی نادان اور بیوقوف جنوں کے شر سے حفاظت کرے گا ۔ ؎ 1
ضمنی طور پر اس آیت سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ جنوں میں بھی مرد اور عورتیں ہوتی ہیں، کیونکہ اس میں "رجال من الجن" کی تعبیر آئی ہے۔ ؎ 2
لیکن آیت کا مفہوم بہرحال ایک وسیع مفہوم ہے، جو انسانوں کی جنوں سے ہر قسم کی پناہ لینے کو شامل ہے اور اوپر والی فضول اوربیہودہ بات اس کا ایک مصداق ہے، کیونکہ ہم جانتےہیں کہ عربوں کے درمیان کاہن بہت تھے، جن کا عقیدہ تھا کہ وہ جنوں کے ایک گروہ کے ذریعہ بہت سی مشکلات کو حل کرتے ہیں آنے والے واقعات کی خبر دیتے ہیں۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
؎1 "مجمع البیان" جلد 10 ص 369 و "روح المعانی" جلد 28 ص 85
؎2 اوپر والی آیت کی تفسیر میں ایک اور بیان بھی آیاہے جسے مفسرین کے ایک گروہ نے ایک احتمال کے عنوان سے آیت کی تفسیر میں ذکر کیا ہے، اور وہ یہ ہے کہ انسانوں کی جماعت کا جنوں کی طرف پناہ حاصل کرنا، جنوں کے طغیان کا سبب بنا اور انھوں نے خود کو اہم کاموں کا مبداء ومنشاءخیال کر لیا۔ لیکن پہلی تفسیر زیادہ صیحح نظر آتی ہے۔(پہلئی تفسیر کے مطابق "زادوا" میں ضمیر "جن" کی طرف لوٹتی ہے اور "ھم" کی ضمیر انسانوں کیطرف ، دوسری تفسیر کے برعکس)۔