Tafseer e Namoona

Topic

											

									  شان نزول 

										
																									
								

Ayat No : 1-6

: الجن

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ قُلْ أُوحِيَ إِلَيَّ أَنَّهُ اسْتَمَعَ نَفَرٌ مِنَ الْجِنِّ فَقَالُوا إِنَّا سَمِعْنَا قُرْآنًا عَجَبًا ۱يَهْدِي إِلَى الرُّشْدِ فَآمَنَّا بِهِ ۖ وَلَنْ نُشْرِكَ بِرَبِّنَا أَحَدًا ۲وَأَنَّهُ تَعَالَىٰ جَدُّ رَبِّنَا مَا اتَّخَذَ صَاحِبَةً وَلَا وَلَدًا ۳وَأَنَّهُ كَانَ يَقُولُ سَفِيهُنَا عَلَى اللَّهِ شَطَطًا ۴وَأَنَّا ظَنَنَّا أَنْ لَنْ تَقُولَ الْإِنْسُ وَالْجِنُّ عَلَى اللَّهِ كَذِبًا ۵وَأَنَّهُ كَانَ رِجَالٌ مِنَ الْإِنْسِ يَعُوذُونَ بِرِجَالٍ مِنَ الْجِنِّ فَزَادُوهُمْ رَهَقًا ۶

Translation

پیغمبر آپ کہہ دیجئے کہ میری طرف یہ وحی کی گئی ہے کہ جنوں کی ایک جماعت نے کان لگا کر قرآن کو سنا تو کہنے لگے کہ ہم نے ایک بڑا عجیب قرآن سنا ہے. جو نیکی کی ہدایت کرتا ہے تو ہم تو اس پر ایمان لے آئے ہیں اور کسی کو اپنے رب کا شریک نہ بنائیں گے. اور ہمارے رب کی شان بہت بلند ہے اس نے کسی کو اپنی بیوی بنایا ہے نہ بیٹا. اور ہمارے بیوقوف لوگ طرح طرح کی بے ربط باتیں کررہے ہیں. اور ہمارا خیال تو یہی تھا کہ انسان اور جناّت خدا کے خلاف جھوٹ نہ بولیں گے. اور یہ کہ انسانوں میں سے کچھ لوگ جناّت کے بعض لوگوں کی پناہ ڈھونڈ رہے تھے تو انہوں نے گرفتاری میں اور اضافہ کردیا.

Tafseer

									           شانِ نزول
          سورہ آحقاف کی آیہ 29تا32 کی تفسیر میں کچھ شان نزول بیان ہوچکی ہیں، جا زیر بحث سورہ(سورہ جن) کے مطالب سے مکمل طور پر ہم آہنگ ہیں، اور وہ اس بات کی نشادہی کرتی ہیں، کہ دونوں صورتوں کی آیات ایک ہی واقعہ سے مربوط ہیں۔ وہ شانِ نزول مختصر طور پر اس طرح ہے: 
          1-      پیغمبر صلی اللہ علیہ والہ وسلم مکہ سے طائف کے بازار "عکاظ" کی طرف آئے تاکہ اس عظیم مرکز اجتماع میں لوگوں کو طرف دعوت دیں، لیکن کسی نے آپ کی دعوت کا مثبت جواب نہ دیا، واپسی پر آپ ایک ایسی جگہ پہنچے جسے "وادی جن" کہتے تھے، رات آپ وہیں رہے اور قرآن  کی آیات کی تلاوت فرماتے رہے، جنوں کے ایک گروہ نے سنا تو وہ ایمان لے آئے اور تبلیغ کے لیے  اپنی قوم کی طرف پلٹ گئے۔ ؎ 1   
         2-       "ابن عباس" کہتے ہیں "پیغمبر صلی اللہ علیہ والہ وسلم صبح کی نماز میں مشغول ہوئے اور اس میں قرآن کی تلاوت کر رہے تھے ، جنوں کا ایک گروہ آسمانی خبروں کے ان منقطع ہوجانے کی علت کی تحقیق کر رہا تھا، انھوں نے محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے قرآن کی تلاوت کی آواز سنی تو انھوں نے کہا کہ آسمانی اخبار کے ہم سے منقطع ہوجانے کی علت یہی ہے لہزا وہ اپنی قوم کی طرف پلٹ گئے اور انھیں اسلام کی طرف دعوت دی ۔ ؎ 2  
        3-         "ابو طالب" کی وفات کے بعد جب رسولِ خدا صلی اللہ علیہ والہ وسلم پر معاملہ سخت ہوگیا تو آپ نے "طائف" کی طرف جانے کا ارادہ کیا تاکہ کوئی مددگار پیدا کریں۔ "طائف" کے رؤسا نے شدت کے ساتھ آپ کی تکذیب کی اور انھوں نے پیغمبر کی پشت پر اس قدر پتھر مارے کہ آپ کے پائے مبارک سے خون جاری ہوگیا، تھکے ماندے زخمی حالت میں ایک باغ کے پاس آئے اور انجام کار اس باغ کے مالکوں کا غلام، جس کا
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
  ؎ 1       تفسیر علی بن ابراہیم مطابق نقل "نورالثقلین" جلد 5 ص 19 (تلخیص کے ساتھ)
  ؎ 2        صیحح بخاری، مسلم و مسنداحمد مطابق نقل "فی ظلال" جلد 7 ص 429 (تلخیص کے ساتھ)
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

         نام "عداس" تھا، آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم پر ایمان لے آیا، آپ وہاں سے مکہ کی طرف لوٹے، رات ہوتے ایک کھجور کے درخت کے قریب پہنچے اور نماز میں مشغول ہوگئے۔ یہی وہ جگہ تھی جہاں سے "نصیبین" یا "یمن" کے "جنوں" کا ایک گروہ گزر رہا تھا۔ انھوں نے صبح کی نماز میں آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی تالاوت کی آواز سنی تو وہ ایمان لے آئے۔ ؎ 1   
        بہت سے مفسرین نے اسی قسم کے شانِ نزول سورہ جن کے آغاز میں بھی نقل کیے ہیں۔
         لیکن یہاں ایک اور شانِ نزول بھی بیان کی گئی ہے، جو ان سب سے مختلف ہے، اور وہ یہ ہے کہ لوگوں نے "عبداللہ بن مسعود" سے پوچھا: کیا تم اصحاب پیغمبر صلی اللہ علیہ والہ وسلم میں سے، کوئی شخص "جن" والی رات کے واقعہ میں، پیغمبر صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی خدمت میں تھا، اس نے کہا، کہ ہم میں سے کوئی نہیں تھا،  ہم نے ایک رات مکہ میں پیغمبر صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو نہ پایا، اور جس قدر ہم جستجو اور تلاش کی، آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا کوئی پتہ نہ چلا۔ ہم ڈرے کہ کہیں پیغمبر صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو دشمنوں نے قتل نہ کردیا ہو، ہم پیغمبر صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو تلاش کرتے ہوئے مکہ کے دروں کی طرف گئے۔ اچانک ہم نے دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کوہ "حرا" کی طرف سے آ رہے ہیں۔ ہم نے عرض کیا، اے رسولِ خدا صلی اللہ علیہ والہ وسلم آپ کہاں تھے؟ ہم سخت پریشان تھے اور کل رات ہماری زندگی کی بدترین رات تھی، آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا: جنوں کی طرف ایک دعوت کرنے والا آیا تھا اور میں ان کے لیے قرآن پڑھنے کے لیے گیا تھا۔ ؎ 2    
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
  ؎ 1        مجمع البیان، جلد 9 ص 92 و سیرت ابن ہشام جلد 2 ص 62،63 (تلخیص کے ساتھ)
  ؎ 2         مجمع البیان جلد 10 ص 368