Tafseer e Namoona

Topic

											

									  گویا اپنے بتوں کی ظرف دوڑ رہے ہیں

										
																									
								

Ayat No : 42-44

: المعارج

فَذَرْهُمْ يَخُوضُوا وَيَلْعَبُوا حَتَّىٰ يُلَاقُوا يَوْمَهُمُ الَّذِي يُوعَدُونَ ۴۲يَوْمَ يَخْرُجُونَ مِنَ الْأَجْدَاثِ سِرَاعًا كَأَنَّهُمْ إِلَىٰ نُصُبٍ يُوفِضُونَ ۴۳خَاشِعَةً أَبْصَارُهُمْ تَرْهَقُهُمْ ذِلَّةٌ ۚ ذَٰلِكَ الْيَوْمُ الَّذِي كَانُوا يُوعَدُونَ ۴۴

Translation

لہذا انہیں چھوڑ دیجئے یہ اپنے باطل میں ڈوبے رہیں اور کھیل تماشہ کرتے رہیں یہاں تک کہ اس دن سے ملاقات کریں جس کا وعدہ کیا گیا ہے. جس دن یہ سب قبروں سے تیزی کے ساتھ نکلیں گے جس طرح کسی پرچم کی طرف بھاگے جارہے ہوں. ان کی نگاہیں جھکی ہوں گی اور ذلت ان پر چھائی ہوگی اور یہی وہ دن ہوگا جس کا ان سے وعدہ کیا گیا ہے.

Tafseer

									  تفسیر
       گویا اپنے بتوں کی طرف دوڑ رہے ہیں
              ان آیات میں جو سُورہ معارج کی آخری آیات ہیں۔ ہٹ دھرم، ٹھٹھہ کرنے والے اور سخت کافروں کو انڈار و تہدید کے عنوان سے فرماتا ہے: "انھیں ان کی حالت پر چھوڑ دے، تاکہ وہ اپنے باطل مطالب میں ڈوبے رہیں اور کھیل کود میں ڈوبے رہیں یہاں تک کہ وہ اپنے یوم موجود سے ملاقات کریں"(فذرھم یخوضوا و یلعبوا حتٰی یلا قوا یومھم الذی یوعدون)۔ ؎1 
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
  ؎ 1       "یخو ضوا" "خوض" (بروزن خوض) کے مادہ سے اصل میں پانی چلے کے معنی میں ہے۔ اس کے کہنا یہ کے طور پر ان سوارو میں جہاں انسان باطل مطالب میں غوطہ زن ہو، استعمال ہوا ہے۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

                     اس سے زیادہ استدلال اور موعظہ کی ضرورت نہیں ہے، وہ نہ تو اہل منطق ہیں اور نہ ہی بیدار ہونے کے لیے آمادگی رکھتے ہیں ، چھوڑو انھیں وہ اپنی باطل اور بےہودہ باتوں میں غوطہ زن ہیں اور بچوں کی طرح کھیل کود میں لگے رہیں،یہاں تک کہ ان کا موعود دن ، قیامت کادن آن پہنچے اور وہ ہر چیز کو اپنی انکھ سے دیکھ لیں ۔
                        یہ آیت اسی تعبیر کے ساتھ اور کسی قسم کی تبدیلی کے بغیر سورہ زخرف کی آیہ 83 میں بھی آئی ہے۔
                       اس کے بعد اس موعود دن کا تعارف کراتے ہوئے اس وحشت ناک اور ہولناک دن کی نشانیاں بیان کرتا ہے، اور فرماتا ہے، وہی دن جس میں وہ اپنی قبروں سے تیزی کے ساتھ خارج ہوں گے اور اس طرح تیزی سے چل رہے ہوں گے، گویا کہ وہ اپنے بتوں کی طرف جا رہے ہیں" (یوم یخر جون من الاجداث سراعًا کانھم الٰی نصب یوفضون)۔
کیسی عجیب تعبیر ہے ؟ قیمت میں ان کی حاکت کی کیفیت کی، جبکہ وہ تیزی کے ساتھ دادگاہ عدل الٰی کی طرف چل رہے ہوں گے ان کے کسی جشن یا عزا کے دن بتوں کی طرف ، ہجوم کرنے کی ساتھ تشبیہ دی گئی ہے، لیکن وہ کہاں اور یہ کہاں؟ اور حقیقت میں یہ ان بےہودہ عقائد کے بارے میں ، جو وہ دنیا میں رکھتے تھے، ایک تنسخر اور استہزاء ہے۔
                  اجداث" "جدث" (برزن عبث) کی جمع ہے جو "قبر" کے معنی میں ہے۔
                  "سراع""سریح" کی جمع ہے (جیسے ظراف و ظریف) اس شخص یا چیز کے معنی میں ہے، جو جلدی سے چلے۔
                     "نصب""نصیب" کی جمع ہے اور وہ بھی بعض کے قول کے مطابق "نصب"(بروزن مقف) کی جمع ہے، یہ اصل میں اس چیز کے معنی میں ہے جو کسی جگہ نصب ہوئی ہو اور ان بتوں کو بھی کہتے ہیں، جنھیں ایک پتھر کے ٹکڑے کی صورت میں کسی جگہ نصب کرکے اس کی پرستش کرتے تھے، اور اس کے اوپر قربانی کرکے اس کا خون اس پر ڈال دیتے تھے اور اس میں اور "صنم" میں یہ فرق تھاکہ "صنم" تو وہ بت تھا، جس کی کوئی خاص شکل و صورت ہوتی تھی، لیکن "نصب" پتھر کے ایسے ٹجڑے ہوتے تھے جن کی کوئی شکل و صورت نہیں ہوتی تھی جن کی وہ کسی سبب سے پرستش کرتے تھے، جیسا کہ سورہ مائدہ کی آیہ 3 میں آیا ہےکہ وہ حرام گوشتوں میں سے اس جانور کے گوشت کو بھی شمار کرتے تھے جو ان بتوں پر ذبح ہوتے تھے(وما ذبح علی النصب)۔
                    "یوفضون""فاضہ" کے مادہ سے، تیز چلنے کے معنی میں ہے، پانی کے چشمہ سے چلنے کی تیزی سے مشابہ۔
               بعض نے یہ بھی کہا ہے کہ زیر بحث آیت میں نصب سے مراد وہ پرچم ہیں جنھیں لشکروں یا قافلوں کے درمیان کسی ایک جگہ نصب کر دیتے ہیں اور ہر شخص تیزی سے اپنے آپ کو ان تک پہچتا ہے، لیکن پہلی تفسیر زیادہ مناسب نظر آتی ہے۔
                                                                            ــــــــــــــــــــــ
                اس کے بعد دوسری نشانیاں پیش کرتے ہوئے مزید کہتا ہے: "یہ اس حالت میں ہوگا کہ ان کی آنکھیں ہول اور وحشت کی وجہ سے نیچے کی طرف جھکی ہوئی ہوں گی اور وہ خضوع کے ساتھ دیکھ رہے ہوںگے " (خاشعۃ ابصارھم)۔
                 "اورذلت و خواری کے پردہ نے انھیں ڈھانپ رکھا ہوگا"(ترھقھم ذلۃ)۔ ؎ 1 
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
  ؎ 1     "ترھقھم" "رھق" (بروزن سفق) کے مادہ ہے، جبری طور پر ڈھانپنے کے معنی میں ہے۔