حروفِ قرآن پر اعراب لگانے کی ابتداء
خُذُوهُ فَغُلُّوهُ ۳۰ثُمَّ الْجَحِيمَ صَلُّوهُ ۳۱ثُمَّ فِي سِلْسِلَةٍ ذَرْعُهَا سَبْعُونَ ذِرَاعًا فَاسْلُكُوهُ ۳۲إِنَّهُ كَانَ لَا يُؤْمِنُ بِاللَّهِ الْعَظِيمِ ۳۳وَلَا يَحُضُّ عَلَىٰ طَعَامِ الْمِسْكِينِ ۳۴فَلَيْسَ لَهُ الْيَوْمَ هَاهُنَا حَمِيمٌ ۳۵وَلَا طَعَامٌ إِلَّا مِنْ غِسْلِينٍ ۳۶لَا يَأْكُلُهُ إِلَّا الْخَاطِئُونَ ۳۷
اب اسے پکڑو اور گرفتار کرلو. پھر اسے جہنم ّمیں جھونک دو. پھر ایک ستر گز کی رسی میں اسے جکڑ لو. یہ خدائے عظیم پر ایمان نہیں رکھتا تھا. اور لوگوں کو مسکینوں کو کھلانے پر آمادہ نہیں کرتا تھا. تو آج اس کا یہاں کوئی غمخوار نہیں ہے. اور نہ پیپ کے علاوہ کوئی غذا ہے. جسے گنہگاروں کے علاوہ کوئی نہیں کھاسکتا.
ایک حدیث میں آ یاہے کہصعصہ بن صوحان جوامام علی علیہ السلام کے اصحاب میں سے تھے کہتے ہیں : ایک عرب امام علی علیہ السلام کی خدمت میں آ یا اور آیت لا یَأْکُلُہُ ِلاَّ الْخاطِؤُنَ کے بارے میں سوال کیا اوراس نے خاطئون یعنی خطا کاروں کی بجائے خاطون (جوقوم اٹھانے والوں کے معنی میں ہے ) پڑ ھا اور پوچھا کہ قدم توسب ہی لوگ اُٹھاتے ہیں ،توکیا خداان سب ہی کویہ غذا دے گا ؟
امام نے تبسّم فرمایا: کہا: اے مرد عرب ! اس آیت کے صحیح الفاظ لایَأْکُلُہُ اِلاَّ الْخاطِؤُنَ ہیں اس نے عرض کیا: اے امیر المومنین علیہ السلام !آپ نے سچ فرمایا ہے ، خداکسِی بے خطا بندے کوعذاب کے سپُرد نہیں کرے گا .اس کے بعد امام علی علیہ السلام نے ابو الا سود کی طرف جو ایک ادیب شخص تھا رُخ کیااور فرمایا : اس وقت عربی زبان سے بیگانہ لوگ بھی مسلمان ہوگئے ہیں .ایساکام کرو کہ وہ اپنی زبان کی اصلاح کرسکیں .اس حکم کے بعد ابوالاسود نے الفاظِ قرآن پرنصب او کسر (زبر،زیر ،پیش) کی علامت لگائی ۔