٣ایک سوال کاجواب
يَوْمَئِذٍ تُعْرَضُونَ لَا تَخْفَىٰ مِنْكُمْ خَافِيَةٌ ۱۸فَأَمَّا مَنْ أُوتِيَ كِتَابَهُ بِيَمِينِهِ فَيَقُولُ هَاؤُمُ اقْرَءُوا كِتَابِيَهْ ۱۹إِنِّي ظَنَنْتُ أَنِّي مُلَاقٍ حِسَابِيَهْ ۲۰فَهُوَ فِي عِيشَةٍ رَاضِيَةٍ ۲۱فِي جَنَّةٍ عَالِيَةٍ ۲۲قُطُوفُهَا دَانِيَةٌ ۲۳كُلُوا وَاشْرَبُوا هَنِيئًا بِمَا أَسْلَفْتُمْ فِي الْأَيَّامِ الْخَالِيَةِ ۲۴
اس دن تم کو منظر عام پر لایا جائے گا اور تمہاری کوئی بات پوشیدہ نہ رہے گی. پھر جس کو نامئہ اعمال داہنے ہاتھ میں دیا جائے گا وہ سب سے کہے گا کہ ذرا میرا نامئہ اعمال تو پڑھو. مجھے پہلے ہی معلوم تھا کہ میرا حساب مجھے ملنے والا ہے. پھر وہ پسندیدہ زندگی میں ہوگا. بلند ترین باغات میں. اس کے میوے قریب قریب ہوں گے. اب آرام سے کھاؤ پیو کہ تم نے گزشتہ دنوں میں ان نعمتوں کا انتظام کیا ہے.
ممکن ہے یہاں ایک سوال کیاجائے کہ کیاوہ مومنین جواوپر والی آیات کے مطابق پکاریں گے اے اہل محشر آئواورہمارے نامۂ اعمال کوپڑھو،توکیاان کے نامۂ اعمال میں کوئی گناہ نہیں ہوگا ۔
اس سوال کاجواب بعض احادیث سے معلوم کیاجاسکتاہے ، منجملہ ان کے پیغمبر گرامی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے منقول ہے : خدا قیامت میں پہلے اپنے بندوں سے ان کے گنا ہوں کااقرار لے لے گاپھر فرمائے گا ، میں نے تمہارے یہ گناہ دنیا میں بھی مستور اور پوشیدہ رکھے ہیں اور آج بھی میں آنہیں بخشتا ہوں اس کے بعد (صرف )ان کے حسنات اورنیکیوں کادفتر ان کے دائیں ہاتھ میں دے دے گا ( 1) ۔
بعض نے یہ بھی کہاہے کہ اس دن خدامو منین کے سیئات اور برا ئیوں کوحسنات اور نیکیوںمیں بدل دے گا .اسی وجہ سے ان کے سارے نامۂ اعمال میں کوئی ضعیف نقط نہیں ہوگا۔
1۔ فی ظلال القرآن ،جلد ٨،صفحہ ٢٥٦۔