٢علی علیہ السلام اوران کے شیعوں کامقام
يَوْمَئِذٍ تُعْرَضُونَ لَا تَخْفَىٰ مِنْكُمْ خَافِيَةٌ ۱۸فَأَمَّا مَنْ أُوتِيَ كِتَابَهُ بِيَمِينِهِ فَيَقُولُ هَاؤُمُ اقْرَءُوا كِتَابِيَهْ ۱۹إِنِّي ظَنَنْتُ أَنِّي مُلَاقٍ حِسَابِيَهْ ۲۰فَهُوَ فِي عِيشَةٍ رَاضِيَةٍ ۲۱فِي جَنَّةٍ عَالِيَةٍ ۲۲قُطُوفُهَا دَانِيَةٌ ۲۳كُلُوا وَاشْرَبُوا هَنِيئًا بِمَا أَسْلَفْتُمْ فِي الْأَيَّامِ الْخَالِيَةِ ۲۴
اس دن تم کو منظر عام پر لایا جائے گا اور تمہاری کوئی بات پوشیدہ نہ رہے گی. پھر جس کو نامئہ اعمال داہنے ہاتھ میں دیا جائے گا وہ سب سے کہے گا کہ ذرا میرا نامئہ اعمال تو پڑھو. مجھے پہلے ہی معلوم تھا کہ میرا حساب مجھے ملنے والا ہے. پھر وہ پسندیدہ زندگی میں ہوگا. بلند ترین باغات میں. اس کے میوے قریب قریب ہوں گے. اب آرام سے کھاؤ پیو کہ تم نے گزشتہ دنوں میں ان نعمتوں کا انتظام کیا ہے.
کئی روایات میں آ یا ہے آ یت .. علی علیہ السلام کے بارے میں ہے ، یاعلی علیہ السلام اوران کی شیعوں کے بارے میں ہے ( 1) ۔
حقیقت میںیہ واضح مصادیق کے بیان کے قبیل سے ہے . اس سے آ یت کے مفہوم کو محدود نہیں کیاجاسکتا۔
1۔ تفسیر المیزان ،جلد ٢٠ ،صفحہ ٦٦۔