٢گناہ اورقطع رزق کے درمیان رابط
فَلَمَّا رَأَوْهَا قَالُوا إِنَّا لَضَالُّونَ ۲۶بَلْ نَحْنُ مَحْرُومُونَ ۲۷قَالَ أَوْسَطُهُمْ أَلَمْ أَقُلْ لَكُمْ لَوْلَا تُسَبِّحُونَ ۲۸قَالُوا سُبْحَانَ رَبِّنَا إِنَّا كُنَّا ظَالِمِينَ ۲۹فَأَقْبَلَ بَعْضُهُمْ عَلَىٰ بَعْضٍ يَتَلَاوَمُونَ ۳۰قَالُوا يَا وَيْلَنَا إِنَّا كُنَّا طَاغِينَ ۳۱عَسَىٰ رَبُّنَا أَنْ يُبْدِلَنَا خَيْرًا مِنْهَا إِنَّا إِلَىٰ رَبِّنَا رَاغِبُونَ ۳۲كَذَٰلِكَ الْعَذَابُ ۖ وَلَعَذَابُ الْآخِرَةِ أَكْبَرُ ۚ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ ۳۳
اب جو باغ کو دیکھا تو کہنے لگے کہ ہم تو بہک گئے. بلکہ بالکل سے محروم ہوگئے. تو ان کے منصف مزاج نے کہا کہ میں نے نہ کہا تھا کہ تم لوگ تسبیح پروردگار کیوں نہیں کرتے. کہنے لگے کہ ہمارا رب پاک و بے نیاز ہے اور ہم واقعا ظالم تھے. پھر ایک نے دوسرے کو ملامت کرنا شروع کردی. کہنے لگے کہ افسوس ہم بالکل سرکش تھے. شائد ہمارا پروردگار ہمیں اس سے بہتر دے دے کہ ہم اس کی طرف رغبت کرنے والے ہیں. اسی طرح عذاب نازل ہوتا ہے اور آخرت کا عذاب تو اس سے بڑا ہے اگر انہیں علم ہو.
اوپر والی آیت سے ضمنی طور پر معلوم ہوتاہے کہ گناہ اورقطع رزق کے درمیان قریبی رابط ہے . اسی لیے ایک حدیث میں امام باقر علیہ السلام سے آ یاہے :
ان الرجل لیذ نب الذنب فیدرأعنہ الرزق وتلا ھٰذہ الاٰ یة : اذاقسموالیصر منھا مصبحین ولا یستثنون فطاف علیھا طائف من ربک وھم نا ئمون
بعض اوقات انسان گناہ کرتاہے تو اس کی روزی منقطع ہو جاتی ہے .اس کے بعد امام نے اوپر والی آ یت کی تلاوت کی ۔
جب انہوں نے یہ قسم کھائی کہ ہم صبح سویرے پھلوں کوتوڑلیں گے اوراپنے سواکسِی کوبھی اِ س سے فائدہ نہیں اٹھانے دیں گے ، لیکن اس وقت کہ جب وہ سوئے ہُوئے تھے تیرے پروردگار کی طرف سے ایک بلااس باغ پر مُسلّط ہوگئی اوراسے نابود کردیا ( 1)۔
ابن عباس سے بھی یہ نقل ہُوا ہے کہ گناہ اور روزی کے منقطع ہونے کاربط سورج سے بھی زیادہ واضح ہے جیساکہ خدا نے اسے سورۂ ن والقلم کی زیر بحث آیت میں بیان فرمایا ہے (2)۔
1۔تفسیر نورالثقلین ،جلد ٥،صفحہ ٣٩٥(حدیث ٤٤)۔
2۔ تفسیر المیزان ،جلد ٢٠ صفحہ ٣٧۔