Tafseer e Namoona

Topic

											

									  سوره قلم/ آیه 17- 25

										
																									
								

Ayat No : 17-25

: القلم

إِنَّا بَلَوْنَاهُمْ كَمَا بَلَوْنَا أَصْحَابَ الْجَنَّةِ إِذْ أَقْسَمُوا لَيَصْرِمُنَّهَا مُصْبِحِينَ ۱۷وَلَا يَسْتَثْنُونَ ۱۸فَطَافَ عَلَيْهَا طَائِفٌ مِنْ رَبِّكَ وَهُمْ نَائِمُونَ ۱۹فَأَصْبَحَتْ كَالصَّرِيمِ ۲۰فَتَنَادَوْا مُصْبِحِينَ ۲۱أَنِ اغْدُوا عَلَىٰ حَرْثِكُمْ إِنْ كُنْتُمْ صَارِمِينَ ۲۲فَانْطَلَقُوا وَهُمْ يَتَخَافَتُونَ ۲۳أَنْ لَا يَدْخُلَنَّهَا الْيَوْمَ عَلَيْكُمْ مِسْكِينٌ ۲۴وَغَدَوْا عَلَىٰ حَرْدٍ قَادِرِينَ ۲۵

Translation

ہم نے ان کو اسی طرح آزمایا ہے جس طرح باغ والوں کو آزمایا تھا جب انہوں نے قسم کھائی تھی کہ صبح کو پھل توڑ لیں گے. اور انشائ اللہ نہیں کہیں گے. تو خدا کی طرف سے راتوں رات ایک بلا نے چکر لگایا جب یہ سب سورہے تھے. اور سارا باغ جل کر کالی رات جیسا ہوگیا. پھر صبح کو ایک نے دوسرے کو آواز دی. کہ پھل توڑنا ہے تو اپنے اپنے کھیت کی طرف چلو. پھر سب گئے اس عالم میں کہ آپس میں راز دارانہ باتیں کررہے تھے. کہ خبردار آج باغ میں کوئی مسکین داخل نہ ہونے پائے. اور روک تھام کا بندوبست کرکے صبح سویرے پہنچ گئے.

Tafseer

									١٧۔ ِنَّا بَلَوْناہُمْ کَما بَلَوْنا أَصْحابَ الْجَنَّةِ ِذْ أَقْسَمُوا لَیَصْرِمُنَّہا مُصْبِحینَ ۔
١٨۔وَ لا یَسْتَثْنُونَ ۔
١٩۔فَطافَ عَلَیْہا طائِف مِنْ رَبِّکَ وَ ہُمْ نائِمُونَ ۔
٢٠۔فَأَصْبَحَتْ کَالصَّریمِ ۔
٢١۔فَتَنادَوْا مُصْبِحینَ ۔
٢٢۔ أَنِ اغْدُوا عَلی حَرْثِکُمْ ِنْ کُنْتُمْ صارِمینَ ۔
٢٣۔فَانْطَلَقُوا وَ ہُمْ یَتَخافَتُونَ ۔
٢٤۔أَنْ لا یَدْخُلَنَّہَا الْیَوْمَ عَلَیْکُمْ مِسْکین ۔
٢٥۔وَ غَدَوْا عَلی حَرْدٍ قادِرینَ ۔

ترجمہ

١٧۔ ہم نے انہیں آزمایا جیساکہ ہم نے باغ والوں کی آزمائش کی تھی جب انہوں نے یہ قسم کھائی کہ باغ کے پھلوں کوصبح کے وقت ( حاجتمندوں کی نگا ہوں سے بچا دکر ) چُنیں گے ۔ 
١٨۔ اوراس میں کسِی چیزکا استثناء نہ کریں گے ۔ 
١٩۔ لیکن ان کے سارے باغ پر ( راتوں رات ) ایک گھیر لینے والا عذاب نازل ہوگیا ۔ 
٢٠۔ اوروہ ہرا بھرا باغ تاریک رات کی مانند ہوگیا ۔ 
٢١۔ صبح کے وقت انہوں نے ایک دوسرے کوصدا دی ۔ 
٢٢ ۔ اگرتمہارا ارادہ پھلوں کوتوڑنے کاہوتواپنے کھیت اور باغ کی طرف چلو ۔ 
٢٣۔ وہ چل پڑے اورایک دُوسرے سے آہستہ آہستہ کہتے جاتے تھے ۔ 
٢٤۔ اس بات کاخیال رکھو کہ ایک بھی فقیر تمہارے پاس نہ آ ئے پائے ۔
٢٥۔ انہوں نے صبح کے وقت یہ مصمّم ارادہ کرلیا کہ وہ پوری قوت کے ساتھ جاحت مندوں کو روکیں گے ۔