٢مداھنہ اور سازگاری
فَلَا تُطِعِ الْمُكَذِّبِينَ ۸وَدُّوا لَوْ تُدْهِنُ فَيُدْهِنُونَ ۹وَلَا تُطِعْ كُلَّ حَلَّافٍ مَهِينٍ ۱۰هَمَّازٍ مَشَّاءٍ بِنَمِيمٍ ۱۱مَنَّاعٍ لِلْخَيْرِ مُعْتَدٍ أَثِيمٍ ۱۲عُتُلٍّ بَعْدَ ذَٰلِكَ زَنِيمٍ ۱۳أَنْ كَانَ ذَا مَالٍ وَبَنِينَ ۱۴إِذَا تُتْلَىٰ عَلَيْهِ آيَاتُنَا قَالَ أَسَاطِيرُ الْأَوَّلِينَ ۱۵سَنَسِمُهُ عَلَى الْخُرْطُومِ ۱۶
لہذا آپ جھٹلانے والوں کی اطاعت نہ کریں. یہ چاہتے ہیں کہ آپ ذرا نرم ہوجائیں تو یہ بھی نرم ہوجائیں. اور خبردار آپ کسی بھی مسلسل قسم کھانے والے ذلیل. عیب جو اور اعلٰی درجہ کے چغلخور. مال میں بیحد بخل کرنے والے, تجاوز گناہگار. بدمزاج اور اس کے بعد بدنسل کی اطاعت نہ کریں. صرف اس بات پر کہ یہ صاحب همال و اولاد ہے. جب اس کے سامنے آیات هالۤہیہ کی تلاوت کی جاتی ہے تو کہہ دیتا ہے کہ یہ سب اگلے لوگوں کی داستانیں ہیں. ہم عنقریب اس کی ناک پر نشان لگادیں گے.
وہ واضح اختلافات پر جوراہِ حق کے راہر وںاور سیاسی بازی گروں کے درمیان موجود ہیں، ان میں سے ایک یہ ہے کہ کہ دوسراگروہ کسِی خاص اصول پر ثابت قدم نہیں رہتا ، بلکہ وہ ہمیشہ اس بات کے لیے تیار ہتے ہیں کہ ان امتیازات کے مقابلہ میں جوان کوحاصل ہیں کچھ اور امتیاز ات حاصل کر یں اوراپنے اصول سے کچھ منافع کی خاطر صرفِ نظر کرلیں ان کے اہداف و عقاید ان کیلئے کوئی مقدّس چیز نہیں ہیں ، اور وہ ہمیشہ ان کی قیمت پر معاملہ کرتے رہتے ہیں . یہ ٹھیک اوپر والی آ یت کامضمون ہے جوکہتی ہے : (وَدُّوا لَوْ تُدْہِنُ فَیُدْہِنُونَ)وہ دوست رکھتے ہیں کہ تجھے بھی اپنے جتھے میں کھینچ لیں اور جس طرح وہ مداہنت اور معاملہ کرتے ہیں ، تو بھی کرے ۔
لیکن پہلاگروہ ہرگز مُعاملہ گر نہی ہوتا، وہ اپنے مقدّس اہداف کوکسِی بھی قیمت پر اپنے ہاتھ سے نہیں دیتے اوراس پر معاملہ نہیں کرتے .مداہنت و موافقت اور اس قسم کے سیاسی لین دین ان میں نہیں ہوتے . یہ ایک بہترین نشانی ہے جِس سے پیشہ ور سیاست بازوں کو پہچاناجاسکتا ہے اور انہیں مرادنِ خدا سے الگ کیا جاسکتاہے ۔