انسانوں کی ناکامی کے چار عوامل
أَوَلَمْ يَرَوْا إِلَى الطَّيْرِ فَوْقَهُمْ صَافَّاتٍ وَيَقْبِضْنَ ۚ مَا يُمْسِكُهُنَّ إِلَّا الرَّحْمَٰنُ ۚ إِنَّهُ بِكُلِّ شَيْءٍ بَصِيرٌ ۱۹أَمَّنْ هَٰذَا الَّذِي هُوَ جُنْدٌ لَكُمْ يَنْصُرُكُمْ مِنْ دُونِ الرَّحْمَٰنِ ۚ إِنِ الْكَافِرُونَ إِلَّا فِي غُرُورٍ ۲۰أَمَّنْ هَٰذَا الَّذِي يَرْزُقُكُمْ إِنْ أَمْسَكَ رِزْقَهُ ۚ بَلْ لَجُّوا فِي عُتُوٍّ وَنُفُورٍ ۲۱
کیا ان لوگوں نے اپنے اوپر ان پرندوں کو نہیں دیکھا ہے جو پر پھیلا دیتے ہیں اور سمیٹ لیتے ہیں کہ انہیں اس فضا میں اللہ کے علاوہ کوئی نہیں سنبھال سکتا کہ وہی ہر شے کی نگرانی کرنے والا ہے. کیا یہ جو تمہاری فوج بنا ہوا ہے خدا کے مقابلہ میں تمہاری مدد کرسکتا ہے - بیشک کفار صرف دھوکہ میں پڑے ہوئے ہیں. یا یہ تم کو روزی دے سکتا ہے اگر خدا اپنی روزی کو روک لے - حقیقت یہ ہے کہ یہ لوگ نافرمانی اور نفرت میں غرق ہوگئے ہیں.
گذشتہ آ یات میں بیان ہواتھا کہ سننے والا کان اور بیدار عقل کانہ ہونا ، وہ اہم ترین عامل ہے ، جودوزخیوںکو دوزخ کی طرف کی طرف کھینچ کر لے جائے گا ، زیربحث آ یات میں یہ بیان ہُوا ہے کہ دوسرے چارعوامل یعنی دھوکہ وغریب، ہٹ دھرمی سرکشی ( عتو ) اور حق سے دوری اختیار کرنا( نفود )اِنسان کی بدبختی اور گمراہی کاسبب ہیں ۔
اگر ہم صحیح طورپر غور کریں توہم دیکھ لیں گے کہ یہ عوامل گزشتہ عوامل کے ساتھ مربُوط ہیں . کیونکہ یہ بُری صفات انسان کے کان اورآنکھ پر پر دہ ڈال دیتی ہیں اوراس کے لیے حقائق کے اوراک سے مانع ہوجاتی ہیں ۔