عالِم آفر ینش کی عظمت
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ تَبَارَكَ الَّذِي بِيَدِهِ الْمُلْكُ وَهُوَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ ۱الَّذِي خَلَقَ الْمَوْتَ وَالْحَيَاةَ لِيَبْلُوَكُمْ أَيُّكُمْ أَحْسَنُ عَمَلًا ۚ وَهُوَ الْعَزِيزُ الْغَفُورُ ۲الَّذِي خَلَقَ سَبْعَ سَمَاوَاتٍ طِبَاقًا ۖ مَا تَرَىٰ فِي خَلْقِ الرَّحْمَٰنِ مِنْ تَفَاوُتٍ ۖ فَارْجِعِ الْبَصَرَ هَلْ تَرَىٰ مِنْ فُطُورٍ ۳ثُمَّ ارْجِعِ الْبَصَرَ كَرَّتَيْنِ يَنْقَلِبْ إِلَيْكَ الْبَصَرُ خَاسِئًا وَهُوَ حَسِيرٌ ۴وَلَقَدْ زَيَّنَّا السَّمَاءَ الدُّنْيَا بِمَصَابِيحَ وَجَعَلْنَاهَا رُجُومًا لِلشَّيَاطِينِ ۖ وَأَعْتَدْنَا لَهُمْ عَذَابَ السَّعِيرِ ۵
بابرکت ہے وہ ذات جس کے ہاتھوں میں سارا ملک ہے اور وہ ہر شے پر قادر و مختار ہے. اس نے موت و حیات کو اس لئے پیدا کیا ہے تاکہ تمہاری آزمائش کرے کہ تم میں حَسن عمل کے اعتبار سے سب سے بہتر کون ہے اور وہ صاحب هعزّت بھی ہے اور بخشنے والا بھی ہے. اسی نے سات آسمان تہ بہ تہ پیدا کئے ہیں اور تم رحمان کی خلقت میں کسی طرح کا فرق نہ دیکھو گے پھر دوبارہ نگاہ اٹھا کر دیکھو کہیں کوئی شگاف نظر آتا ہے. اس کے بعد بار بار نگاہ ڈالو دیکھو نگاہ تھک کر پلٹ آئے گی لیکن کوئی عیب نظر نہ آئے گا. ہم نے آسمان دنیا کو چراغوں سے مزین کیا ہے اور انہیں شیاطین کو سنگسار کرنے کا ذریعہ بنادیا ہے اور ان کے لئے جہنمّ کا عذاب الگ مہیّا کر رکھا ہے.
باوجود یکہ قرآن مجید عرب کے زمانہ جاہلیّت کے پسماند ہ ماحول میں اُترا ،لیکن وہ اکثر تاکید کرتا ہے ،کہ مُسلمان عالم ِ ہستی کے باعظمت اسرار میں غوروفکر کریں .وہ مطلب جس کازمانۂ جاہلیّت میں کوئی مفہُوم ہی نہیں تھا، یہ خود اس بات کی ایک واضح دلیل ہے ، کہ قرآن ایک دوسرے مبدی سے صادر ہُوا ہے .اب علم ودانش جس قدر آ گے بڑھتے جارہے ہیں ، ا،س سلسلہ میں قرآنی تاکیدوں کی عظمت اسی قدر آشکار ترہوتی جارہی ہے ۔
ہم جانتے ہیں کہ یہ کرّہ زمین جس میں ہم زندگی گزار رہے ہیں ،اتنابڑاہونے کے باوجودمنظومٔہ شمسی کے مرکز یعنی سُورج کی ٹکیہ کے مقابلہ میں اس قدر چھوٹی ہے کہ اگر بارہ لاکھ کرّہ زمین کوایک دوسرے کے اوپر رکھیںتوپھر وہ سورج کی ٹکیہ کے برابر ہوگی ۔
دوسری طرف سے ہمار ا منظومٔہ شمسی ایک عظیم کہکشاں کاایک جُزء ہے ، وہی کہکشاں جسے راہ شیری کہتے ہیں ( 1) ۔
ماہرین علم الا فلاک کے حساب کے مطابق صرف ہماری کہکشاں میں ایک کھرب (٠٠٠،٠٠٠،٠٠٠،1٠٠)سے زیادہ ستارہ موجود ہیں، اورہمارا سُورج اپنی تمام عظمت کے باجود ، اس کے متوسط ستاروں میں سے ایک شمار ہوتا ہے ۔
تیسری طرف اس عظیم جہان مین اس قدر کہکشاں ئیں موجُود ہیں جوحساب وکتاب اور شمار وقطار سے باہر ہیں . نیز ستاروں کودیکھنے والی دور بینیں جتنی عظیم اور آراستہ ہوتی جارہی ہیں اتنی ہی نئی سے نئی کہکشا ئیں کشف ہورہی ہیں کِس قدرعظیم وبرزگ ہے وہ خدا جس نے یہ عظیم مقصُومہ ایسے دقیق نظام کے ساتھ بنایا ہے ۔
1۔کہکشائیں ستاروں کے مجموعے ہیں جوستاروں کے شہروں کے نام سے مشہور ہیں اورایک دوسرے سے نزدیک ہونے کے باوجود بعض اوقات ان کے درمیان کئی ملین نوری سالوں کافاصلہ ہوتا ہے ۔