Tafseer e Namoona

Topic

											

									  ۳معروف میں اطاعت

										
																									
								

Ayat No : 12

: الممتحنة

يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ إِذَا جَاءَكَ الْمُؤْمِنَاتُ يُبَايِعْنَكَ عَلَىٰ أَنْ لَا يُشْرِكْنَ بِاللَّهِ شَيْئًا وَلَا يَسْرِقْنَ وَلَا يَزْنِينَ وَلَا يَقْتُلْنَ أَوْلَادَهُنَّ وَلَا يَأْتِينَ بِبُهْتَانٍ يَفْتَرِينَهُ بَيْنَ أَيْدِيهِنَّ وَأَرْجُلِهِنَّ وَلَا يَعْصِينَكَ فِي مَعْرُوفٍ ۙ فَبَايِعْهُنَّ وَاسْتَغْفِرْ لَهُنَّ اللَّهَ ۖ إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَحِيمٌ ۱۲

Translation

پیغمبر اگر ایمان لانے والی عورتیں آپ کے پاس اس امر پر بیعت کرنے کے لئے آئیں کہ کسی کو خدا کا شریک نہیں بنائیں گی اور چوری نہیں کریں گی - زنا نہیں کریں گی - اولاد کو قتل نہیں کریں گی اور اپنے ہاتھ پاؤں کے سامنے سے کوئی بہتان (لڑکا) لے کر نہیں آئیں گی اور کسی نیکی میں آپ کی مخالفت نہیں کریں گی تو آپ ان سے بیعت کا معاملہ کرلیں اور ان کے حق میں استغفار کریں کہ خدا بڑا بخشنے والا اور مہربان ہے.

Tafseer

									ان عمدہ نکات میں سے جو اوپر و الی آ یت سے معلوم ہوتے ہیں ایک یہ ہے کہ پیغمبر(صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم)کی اطاعت معرُوف کے ساتھ مُقیّدکیاہے ،حالانکہ پیغمبر (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم)معصُو م تھے اور کبھی بھی منکر اوربُری بات کاحکم نہیں دیتے تھے ،لیکن ممکِن ہے یہ تعبیر ان تمام احکام کے لیے ایک نمُونہ کے عنو ان سے ہو جو اسلامی سربر اہوں سے صادر ہوتے ہیں ، یعنی وہ احکام صرف اسی صُورت میں محتر م اورقابلِاجر اء ہیں جبکہ وہ تعلیمات قر آن اور اصُولِ شریعت اِسلام کے ساتھ سازگار ہوں اور ” لا یعصینک فی معروف “ کے مصداق ہوں ۔
وہ لوگ (حقیقت سے ) کتنے دُور ہیں جوبرسرِ اقتدار لوگوں کوو اجب الا طاعت سمجھتے ہیں، چاہے وہ کچھ بھی ہوں اورکسِی بھی شخص کی طرف سے ہوں حالانکہ یہ ایک ایسی چیز ہے جونہ تو عقل کے ساتھ سازگار ہے اور نہ ہی شریعت اورقر آن کے حکم کے ساتھ مُطابقت رکھتی ہے ۔
امیر المومنین علیہ السلام نے اپنے اس خط میں جو آپ نے مصر کے لوگوں کو” مالک اشتر“کی فر مانر و ائی (گو رنری )کے بارے میں لکھاتھا ان تمام اوصَافِ بلند کے باوجُودجو آپ نے مالک کے بارے میں بیان فر مائے تھے آخر میں یہ لکھا تھا:
فاسمعو الہ و اطیعو ا امرہ فیما طابق الحق فانہ سیف من سیوف اللہ :( ۱) ۔
” اس کی بات کوسنو اور اس کے اس حکم کی جوحق کے مطابق ہو اطاعت کرو ، کیونکہ وہ اللہ کی تلو ار وں میں سے ایک تلو ار ہے ۔
 ۱۔نہج الباغہ خطبہ ۳۸ ،( یہ وہ مختصر خط ہے ،جو امام علیہ السلام نے مصر کے لوگوں کے نام لکھا تھا اورمالک اشتر کے نام معرُوف فر مان کے علاوہ ہے ) ۔