Tafseer e Namoona

Topic

											

									  شان نزول

										
																									
								

Ayat No : 1-3

: الممتحنة

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَتَّخِذُوا عَدُوِّي وَعَدُوَّكُمْ أَوْلِيَاءَ تُلْقُونَ إِلَيْهِمْ بِالْمَوَدَّةِ وَقَدْ كَفَرُوا بِمَا جَاءَكُمْ مِنَ الْحَقِّ يُخْرِجُونَ الرَّسُولَ وَإِيَّاكُمْ ۙ أَنْ تُؤْمِنُوا بِاللَّهِ رَبِّكُمْ إِنْ كُنْتُمْ خَرَجْتُمْ جِهَادًا فِي سَبِيلِي وَابْتِغَاءَ مَرْضَاتِي ۚ تُسِرُّونَ إِلَيْهِمْ بِالْمَوَدَّةِ وَأَنَا أَعْلَمُ بِمَا أَخْفَيْتُمْ وَمَا أَعْلَنْتُمْ ۚ وَمَنْ يَفْعَلْهُ مِنْكُمْ فَقَدْ ضَلَّ سَوَاءَ السَّبِيلِ ۱إِنْ يَثْقَفُوكُمْ يَكُونُوا لَكُمْ أَعْدَاءً وَيَبْسُطُوا إِلَيْكُمْ أَيْدِيَهُمْ وَأَلْسِنَتَهُمْ بِالسُّوءِ وَوَدُّوا لَوْ تَكْفُرُونَ ۲لَنْ تَنْفَعَكُمْ أَرْحَامُكُمْ وَلَا أَوْلَادُكُمْ ۚ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يَفْصِلُ بَيْنَكُمْ ۚ وَاللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرٌ ۳

Translation

ایمان والو خبردار میرے اور اپنے دشمنوں کو دوست مت بنانا کہ تم ان کی طرف دوستی کی پیش کش کرو جب کہ انہوں نے اس حق کا انکار کردیا ہے جو تمہارے پاس آچکا ہے اور وہ رسول کو اور تم کو صرف اس بات پر نکال رہے ہیں کہ تم اپنے پروردگار (اللرُ) پر ایمان رکھتے ہو .... اگر تم واقعا ہماری راہ میں جہاد اور ہماری مرضی کی تلاش میں گھر سے نکلے ہو تو ان سے خفیہ دوستی کس طرح کررہے ہو جب کہ میں تمہارے ظاہر و باطن سب کو جانتا ہوں اور جو بھی تم میں سے ایسا اقدام کرے گا وہ یقینا سیدھے راستہ سے بہک گیا ہے. یہ اگر تمہیں پاجائیں گے تو تمہارے دشمن ثابت ہوں گے اور تمہاری طرف برائی کے ارادے سے ہاتھ اور زبان سے اقدام کریں گے اور یہ چاہیں گے کہ تم بھی کافر ہوجاؤ. یقینا تمہارے قرابتدار اور تمہاری اولاد روزِ قیامت کام آنے والی نہیں ہے اس دن خدا تمہارے درمیان فیصلہ کردے گا اور وہ تمہارے اعمال سے خوب باخبرہے.

Tafseer

									اکثر مفسّر ین نے تصریح کی ہے کہ یہ آ یات ( یاپہلی آیت) ” حاطب بن ابی بلعتہ “ کے بارے میں نازل ہُوئی ہیں( البتہ مختصر سے فرق کے ساتھ ) مرحوم طبرسی نے جوکچھ مجمع البیان میں ذکرکیاہے ہم اُسے ذیل میں بیان کرتے ہیں: 
و اقعہ یہ ہُو ا کہ ایک عورت جس کانام ” سارہ “تھا اوروہ مکّہ کے کسِی قبیلہ سے تعلّق رکھتی تھی،مکّہ سے مدینہ میں پیغمبر (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی خدمت میںحاضر ہُوئی پیغمبر (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) نے اُس سے فرمایا : کیاتومُسلمان ہوکر آئی ہے ؟ اُس نے عرض کیا : نہیں آپ نے فرمایا: کیا تومُہاجر کے عنو ان سے آئی ہے ؟ اُس نے کہا: نہیں!۔ 
آپ نے فرمایا: پھر تو کیوں آ ئی ہے ؟ اُس نے عرض کیا: آپ ہماری اصل اورعشیرہ وقبیلہ تھے ، میرے سارے کے سارے سرپرست چل دیے ہیں اور میں سخت محتاج ہوگئی ہُوں ہیں اِس لیے آپ کے آئی ہوں تاکہ آپ مجھے کچھ عطاکریں اور لباس سو اری سے نو ازیں ۔ 
آ پ نے فرمایا: مکّہ کے جو ان کہاں چلے گئے ؟ ّ یہ اس با ت کی طرف اشارہ کہ وہ عورت گانے و الی تھی اور جو انوں کے لیے گانے گایاکرتی تھی) ۔
اُس نے کہا: جنگِ بدر کے بعد کسِی نے مُجھ سے گانے کی خو اہش نہیں کی (اس سے پتہ چلتاہے کہ جنگِ بدر کی ضرب مُشرکین مکّہ پرکتنی سخت تھی)۔ 
آنحضرت (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) نے اولاد عبدالمطلب کوحکم دیاتو اُنہوںنے اُسے لباس ،سو اری اور زادِ ر اہ دیا ،یہ اس موقع کی بات ہے جب آپ فتح مکّہ کے لیے تیّاری کررہے تھے ۔ 
اس موقعہ پر” حاطب بن ابی بلتعہ “ ( ایک مشہورمُسلمان جُوجنگ ِ بدر و بیعت رضو ان میں شریک تھا ) ” سادہ “ کے پاس آیا اُس نے ایک خط لکھ کر اسے دیا اورکہا: یہ اہل مکّہ کودے دینا، اُس نے دس دینا ر اور بقولے دس درہم اُسے دیے اور ایک یمنی کپڑا بھی اُسے دیا ۔
” حاطب “ نے اہل مکّہ کوخط میں یہ لکّھاتھا کہ رسول ِ خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) تمہاری طرف آنے کی تیّاری کررہے ہیں ،لہٰذاتم اپنے دفاع کے لیے تیّارر ہو“ سارہ نے خط لیا اور مدینہ سے مکّہ کی طرف چل پڑی ۔
جبرئیل نے اس وقعہ کی اِطلاع پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کو پہنچائی رسُول ِ خُدانے علی وعمار وزبیر وطلحہ ومقداد و ابومرثد کوحکم دیاکہ وہ سو ار ہوکرمکّہ کی طرف جائیں ، ان سے یہ بھی فرمایا کہ تمہیں ر استہ کے درمیان ایک منزل پر ایک عورت ” سارہ “ نامی ملے گی ،جو مُشرکین مکّہ کے لیے ” حاطب“ کا ایک خط لے کر جارہی ہے تم اُس سے وہ خط لے لو ۔
و ہ وہاں سے چل پڑے اور اسی جگہ اس تک جاپہنچے جہاںرسول خدا(صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ) نے فر مایاتھا، اس نے قسم کھائی کہ اُس کے پاس کوئی خط نہیں ہے ، انہوں نے اُس کے سامانِ سفر کی تلاشی لی ،لیکن انہیں کو ئی چیز نہیں ملی ، اورسب نے و اپسی کا ار ادہ کرلیا ، لیکن علیہ السلام نے فر مایا: نہ تو ہمارے پیغمبر (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ) نے جُھوٹ کہاہے ، اورنہ ہم جُھوٹ بول رہے ہیں ، آپ نے تلو ار سونت لی اور فر مایا: خط نکالو ورنہ خداکی قسم ! میں تمہاری گردن اُڑا دوں گا ” سارہ “نے جب مسئلہ کی حقیقت کوسمجھ لیاتوخط جو اس نے اپنے گیسوؤں میں چھپایا ہُو اتھا باہرنکالا اوروہ لوگ اس خط کولے کرپیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہُوئے ۔ 
آنحضرت (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ) نے کسِی کوبھیج کر ” حاطب “ کوبُلو ا یا اور فرمایا: یہ خط پہچانتے ہو ؟ اس نے عرض کیا : جی ہاں آپ نے فر مایا: تم نے یہ کام کس لیے کیاہے ؟ 
اُس نے عرض کیا : یارسُول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) ! خداکی قسم جس دن میں نے اسلام قبول کیاہے،ایک لمحہ کے لیے کافر نہیں ہُو ا اور کبھی بھی آپ سے خیانت نہیں کی ہے،جب سے مُشرکین سے جُدا ہُو ا ہُوں کبھی ان کی دعوت قبُول نہیں کی،لیکن مسئلہ یہ ہے کہ سبھی مہاجرین کے کچھ کچھ لوگ مکّہ میں ہیں جو مُشرکین کے مقابلے میں ان کے گھرو الوں کی حمایت کرتے ہیں ، مگر میں اُن کے درمیان اجنبی ہوں اور میرے گھرو الے ان کے چُنگل میں گرفتار ہیں، میں نے چاہا کہ اس طرح سے اپنا ایک حق اُن کی گردن پررکھ دُوں تاکہ وہ میرے گھر و الوں کوکوئی تکلیف نہ پُہنچائیں، حالانکہ میں جانتا ہُوں کہ آخرِ کار خُدا انہیں شک دے گا اورمیر ا خط انہیں کوئی فائدہ نہیں پہنچا ئے گا ۔
پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) نے فرمایا: یہ بد ر کے غازیوں میں سے ہے اورخُدا ان پر ایک خاص نظرِ کرم رکھتاہے ،( اس موقعہ پر اوپر و الی آ یت نازل ہُوئیں اور ان میں مُسلمانوں کومشرکین اوردشمنان خداسے ہرقسم کی دوستی ترک کرنے کے سلسلے میں اہم درس دیے گئے ) (۱) ۔
۱۔” مجمع البیان“ جلد۹،صفحہ ۲۶۹(تھوڑی سی تلخیص کے ساتھ )اس شانِ نزول کوبُخاری نے اپنی صحیح (جلد۶،صفحہ ۱۸۵، ۱۸۶) میں فخر ر ازی نے اپنی تفسیرمیں اور اسی طرح تفسیر” رُوح المعانی “و” روح البیان “و” فی ظلال“و” قرطبی “ و” مر اغی “وغیرہ نے تھوڑ ے تھوڑ ے فرق کے ساتھ نقل کیاہے ۔