٢۔برصیصا عابد کی حیر ت انگیز داستان
كَمَثَلِ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ قَرِيبًا ۖ ذَاقُوا وَبَالَ أَمْرِهِمْ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ ۱۵كَمَثَلِ الشَّيْطَانِ إِذْ قَالَ لِلْإِنْسَانِ اكْفُرْ فَلَمَّا كَفَرَ قَالَ إِنِّي بَرِيءٌ مِنْكَ إِنِّي أَخَافُ اللَّهَ رَبَّ الْعَالَمِينَ ۱۶فَكَانَ عَاقِبَتَهُمَا أَنَّهُمَا فِي النَّارِ خَالِدَيْنِ فِيهَا ۚ وَذَٰلِكَ جَزَاءُ الظَّالِمِينَ ۱۷يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَلْتَنْظُرْ نَفْسٌ مَا قَدَّمَتْ لِغَدٍ ۖ وَاتَّقُوا اللَّهَ ۚ إِنَّ اللَّهَ خَبِيرٌ بِمَا تَعْمَلُونَ ۱۸وَلَا تَكُونُوا كَالَّذِينَ نَسُوا اللَّهَ فَأَنْسَاهُمْ أَنْفُسَهُمْ ۚ أُولَٰئِكَ هُمُ الْفَاسِقُونَ ۱۹لَا يَسْتَوِي أَصْحَابُ النَّارِ وَأَصْحَابُ الْجَنَّةِ ۚ أَصْحَابُ الْجَنَّةِ هُمُ الْفَائِزُونَ ۲۰
جس طرح کہ ابھی حال میں ان سے پہلے والوں کا حشر ہوا ہے کہ انہوں نے اپنے کام کے وبال کامزہ چکھ لیا ہے اور پھر ان کے لئے دردناک عذاب بھی ہے. ان کی مثال شیطان جیسی ہے کہ اس نے انسان سے کہا کہ کفر اختیار کرلے اور جب وہ کافر ہوگیا تو کہنے لگا کہ میں تجھ سے بیزار ہوں میں تو عالمین کے پروردگار سے ڈرتا ہوں. تو ان دونوں کا انجام یہ ہے کہ دونوں جہنّم میں ہمیشہ ہمیشہ رہنے والے ہیں اور یہی ظالمین کی واقعی سزا ہے. ایمان والو اللہ سے ڈرو اور ہر شخص یہ دیکھے کہ اس نے کل کے لئے کیا بھیج دیا ہے اور اللہ سے ڈرتے رہو کہ وہ یقینا تمہارے اعمال سے باخبر ہے. اور خبردار ان لوگوں کی طرح نہ ہوجانا جنہوں نے خدا کو اِھلادیا تو خدا نے خود ان کے نفس کو بھی اِھلا دیا اور وہ سب واقعی فاسق اور بدکار ہیں. اصحاب جنّت اور اصحاب جہنمّ ایک جیسے نہیں ہوسکتے, اصحاب جنّت وہی ہیں جو کامیاب ہونے والے ہیں.
بعض مفسّرین اوراربابِ حدیث نے ان آ یات کے ذیل میں ایک پُر معنی روایت بنی اسرائیل کے برصیصا عابد کے با رے میں پیش کی ہے جوتمام افراد کے لیے درسِ عبرت ہوسکتی ہے ،یعنی وہ یہ داستان سُن کر شیطان کے فریب سے خُود کومحفوظ رکھ سکتے ہیں ۔جو شخص ان کے بہکائے میں آ تاہے وہ عذابِ الہٰی میں گرفتار ہوجاتاہے ۔ اس داستان کاخلاصہ کچھ اس طرح ہے ۔
بنی اسرائیل میں ایک نامی گرامی عابد تھا جس کانام برصیصاتھا جس نے طویل مرصہ تک عبادتِ پروردگار کی تھی جس کی وجہ سے وہ اس مقام پرپہنچ گیا تھاکہ جان بلب مریضوں کو اس کے پاس لاتے تھے اور اس کے نتیجے میں دوبا رہ صحت و سلامتی میسر ہوجاتی تھی ، ایک دن ایک معقول گھرانے کی عورت کو اس کے بھائی کے پاس لائے اور طے پایا کہ کچھ عرصہ تک وہ عورت وہیں رہے تاکہ اس کو شفا مل حاصل ہوجائے ، اَب شیطان اس کے دل میں وسوس ڈالنے کا پرگرام بنا یا اور اس قدر اس کو اپنے دام میںاسیر کیا کہ اِس عابد نے اُس عورت سے زیادتی کی کچھ دنوں بعد یہ بات کھل گئی کہ وہ عورت حاملہ ہے ( کیونکہ ہمیشہ ایک گناہ عظیم تر گناہوں کا سرچشمہ بنتا ہے ) اس نے عورت کو قتل کردیا اور بیابان کے ایک گوشہ میں دفن کردیا ، اُس عورت کے بھائی اس واقعہ سے باخبر ہوئے کہ مرد عابد نے اِ س قسم کے ظلم عظیم کا اقدام کیا ہے یہ خبر سارے میں شہر میں پھیل گئی ، یہاں تک کہ امیر شہر کے کانوں تک جا پہنچی وہ کچھ لوگوں کو ساتھ لیکر چلا تاکہ حقیقت حال سے باخبر ہو ، جس وقت عابد کا ظلم ثابت ہو گیا تو اس کو اس کی عبادت گاہ سے کھنچ کرباہر لے آئے اقرار گناہ کے بعد حکم دیاگیاکہ اسے سُولی پرچڑھادیاجائے ۔ جس وقت وہ سُولی پر چڑھا یا جانے لگا توشیطان اس کے سامنے نمودار ہوااور کہا وہ میں تھا جس نے تجھے اس مصیبت میں پھنسا یا ۔ اب اگرجو کچھ میں کہو وُہ مان لے تومیں تیری نجات کاسامان فراہم کرتاہوں ،عابد نے کہامیں کیاکروں ۔ اس نے کہا میرے لیے تیراصرف ایک سجدہ کافی ہے عابد نے کہاجس حالت میں تومجھے دیکھ رہاہے ۔ اس میں سجدہ کرنے کاکوئی امکان نہیں ہے ۔شیطان نے کہا!اشارہ ہی کافی ہے ۔عابد نے گزشتہ چشم یاہاتھ سے اشارہ کیا اوراس طرح شیطان کی بارگاہ میںسجدہ بجالا اوراسی مرگیا اور دنیا سے کافر گیا(٧) ۔
٧۔مجمع البیام ،جلد ٩ ،صفحہ ٢٦٥،تفسیر قرطبی جلد ٩،صفحہ ٦٥١٨اور تفسیر رُوح البیان میں یہ واقعہ زیادہ تفصیل کے ساتھ آ یاہے ،جلد ٩ ،صفحہ ٤٤٦۔