١۔ اہل نفاق کے ساتھ بے مقصد شرکتِ عمل
كَمَثَلِ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ قَرِيبًا ۖ ذَاقُوا وَبَالَ أَمْرِهِمْ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ ۱۵كَمَثَلِ الشَّيْطَانِ إِذْ قَالَ لِلْإِنْسَانِ اكْفُرْ فَلَمَّا كَفَرَ قَالَ إِنِّي بَرِيءٌ مِنْكَ إِنِّي أَخَافُ اللَّهَ رَبَّ الْعَالَمِينَ ۱۶فَكَانَ عَاقِبَتَهُمَا أَنَّهُمَا فِي النَّارِ خَالِدَيْنِ فِيهَا ۚ وَذَٰلِكَ جَزَاءُ الظَّالِمِينَ ۱۷يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَلْتَنْظُرْ نَفْسٌ مَا قَدَّمَتْ لِغَدٍ ۖ وَاتَّقُوا اللَّهَ ۚ إِنَّ اللَّهَ خَبِيرٌ بِمَا تَعْمَلُونَ ۱۸وَلَا تَكُونُوا كَالَّذِينَ نَسُوا اللَّهَ فَأَنْسَاهُمْ أَنْفُسَهُمْ ۚ أُولَٰئِكَ هُمُ الْفَاسِقُونَ ۱۹لَا يَسْتَوِي أَصْحَابُ النَّارِ وَأَصْحَابُ الْجَنَّةِ ۚ أَصْحَابُ الْجَنَّةِ هُمُ الْفَائِزُونَ ۲۰
جس طرح کہ ابھی حال میں ان سے پہلے والوں کا حشر ہوا ہے کہ انہوں نے اپنے کام کے وبال کامزہ چکھ لیا ہے اور پھر ان کے لئے دردناک عذاب بھی ہے. ان کی مثال شیطان جیسی ہے کہ اس نے انسان سے کہا کہ کفر اختیار کرلے اور جب وہ کافر ہوگیا تو کہنے لگا کہ میں تجھ سے بیزار ہوں میں تو عالمین کے پروردگار سے ڈرتا ہوں. تو ان دونوں کا انجام یہ ہے کہ دونوں جہنّم میں ہمیشہ ہمیشہ رہنے والے ہیں اور یہی ظالمین کی واقعی سزا ہے. ایمان والو اللہ سے ڈرو اور ہر شخص یہ دیکھے کہ اس نے کل کے لئے کیا بھیج دیا ہے اور اللہ سے ڈرتے رہو کہ وہ یقینا تمہارے اعمال سے باخبر ہے. اور خبردار ان لوگوں کی طرح نہ ہوجانا جنہوں نے خدا کو اِھلادیا تو خدا نے خود ان کے نفس کو بھی اِھلا دیا اور وہ سب واقعی فاسق اور بدکار ہیں. اصحاب جنّت اور اصحاب جہنمّ ایک جیسے نہیں ہوسکتے, اصحاب جنّت وہی ہیں جو کامیاب ہونے والے ہیں.
جوکچھ مندرجہ بالا آتیوں میں منافقوں کی عہد شکنی اور اپنے دوستوں کوسخت لمحات میں تنہا چھوڑ دینے کے بارے میں آیاہے ، یہ ایک ایسی چیزہے جس کے نمونے ہم نے بارہا اپنی زندگی میں دیکھے ہیں ۔یہ لوگ گمراہ کرنے والے شیطان کی طرح ہرشخص کے دل میں وسوسہ ڈالتے ہیں ، ان سے ہرقسم کی مدد کاوعدہ کرتے ہیں، انہیں میدانِ حوادث میں بھیجتے ہیں اورانواع واقسام کے گناہوں میں آلودہ کرتے ہیں لیکن بحرانی لمحات میں وسط میدان میں چھوڑ کراپنی جان کی حفاظت اورمفادِ ذات کے لیے بھاگ کھڑے ہوتے ہیں ۔ یہ ان لوگوں کی سرگزشت ہے ،جومنافقین کے شریک اوران کے ساتھ عہد ِ محبت استوار کرنے والے افراد ہیں ۔ اس کازندہ نمونہ ہمارے زمانہ میں وہ عہد وپیمان ہیں جوسپر طاقتیں (ہمارے زمانے کے شیاطین ) ان ممالک کے سربراہوں سے کرتے ہیں جوان سے وابستہ ہیں اور ہم نے بارہا دیکھاہے کہ یہ وابستہ ممالک ، جنہوںنے اپنی ساری بضاعت طبق اخلاص میں رکھ کران شیطان صفت حامیوں کے سامنے پیش کردی ہے ، سخت حوادث میں مکمل طورپر تنہارہ جاتے ہیں اور ہرجگہ سے دھتکارے جاتے ہیں ۔ یہ وہ منزل ہے جہاں ہم قرآن کے اس پیغام سے زیادہ شناسائی حاصل کرسکتے ہیں جوکہتاہے:(کمثل الشیطان اذ قال للا نسان اکفر فلما کفر قال انی بری ،منک انی اخاف اللہ ربّ العالمین )ان کاکام شیطان کی مانند ہے جس نے انسان سے کہا کافرہو جا،جب وہ کافرہوگیا تواس نے کہا میں تجھ سے بیزار ہوں ۔میں اس خدا سے ڈرتاہوں جوعالمین کا پروردگار ہے ۔
٧۔مجمع البیام ،جلد ٩ ،صفحہ ٢٦٥،تفسیر قرطبی جلد ٩،صفحہ ٦٥١٨اور تفسیر رُوح البیان میں یہ واقعہ زیادہ تفصیل کے ساتھ آ یاہے ،جلد ٩ ،صفحہ ٤٤٦۔