Tafseer e Namoona

Topic

											

									  شانِ نزول

										
																									
								

Ayat No : 11-14

: الحشر

أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ نَافَقُوا يَقُولُونَ لِإِخْوَانِهِمُ الَّذِينَ كَفَرُوا مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ لَئِنْ أُخْرِجْتُمْ لَنَخْرُجَنَّ مَعَكُمْ وَلَا نُطِيعُ فِيكُمْ أَحَدًا أَبَدًا وَإِنْ قُوتِلْتُمْ لَنَنْصُرَنَّكُمْ وَاللَّهُ يَشْهَدُ إِنَّهُمْ لَكَاذِبُونَ ۱۱لَئِنْ أُخْرِجُوا لَا يَخْرُجُونَ مَعَهُمْ وَلَئِنْ قُوتِلُوا لَا يَنْصُرُونَهُمْ وَلَئِنْ نَصَرُوهُمْ لَيُوَلُّنَّ الْأَدْبَارَ ثُمَّ لَا يُنْصَرُونَ ۱۲لَأَنْتُمْ أَشَدُّ رَهْبَةً فِي صُدُورِهِمْ مِنَ اللَّهِ ۚ ذَٰلِكَ بِأَنَّهُمْ قَوْمٌ لَا يَفْقَهُونَ ۱۳لَا يُقَاتِلُونَكُمْ جَمِيعًا إِلَّا فِي قُرًى مُحَصَّنَةٍ أَوْ مِنْ وَرَاءِ جُدُرٍ ۚ بَأْسُهُمْ بَيْنَهُمْ شَدِيدٌ ۚ تَحْسَبُهُمْ جَمِيعًا وَقُلُوبُهُمْ شَتَّىٰ ۚ ذَٰلِكَ بِأَنَّهُمْ قَوْمٌ لَا يَعْقِلُونَ ۱۴

Translation

کیا تم نے منافقین کا حال نہیں دیکھا ہے کہ یہ اپنے اہل کتاب کافر بھائیوں سے کہتے ہیں کہ اگر تمہیں نکال دیا گیا تو ہم بھی تمہارے ساتھ نکل چلیں گے اور تمہارے بارے میں کسی کی اطاعت نہ کریں گے اور اگر تم سے جنگ کی گئی تو بھی ہم تمہاری مدد کریں گے اور خدا گواہ ہے کہ یہ سب بالکل جھوٹے ہیں. وہ اگر نکال بھی دیئے گئے تو یہ ان کے ساتھ نہ نکلیں گے اور اگر ان سے جنگ کی گئی تو یہ ہرگز ان کی مدد نہ کریں گے اور اگر مدد بھی کریں گے تو پیٹھ پھیر کر بھاگ جائیں گے پھر ان کی کوئی مدد کرنے والا نہ ہوگا. مسلمانو تم ان کے دلوں میں اللہ سے بھی زیادہ خوف رکھتے ہو یہ اس لئے کہ یہ قوم سمجھدار نہیں ہے. یہ کبھی تم سے اجتماعی طور پر جنگ نہ کریں گے مگر یہ کہ محفوظ بستیوں میں ہوں یا دیواروں کے پیچھے ہوں ان کی دھاک آپس میں بہت ہے اور تم یہ خیال کرتے ہو کہ یہ سب متحد ہیں ہرگز نہیں ان کے دلوں میں سخت تفرقہ ہے اور یہ اس لئے کہ اس قوم کے پاس عقل نہیں ہے.

Tafseer

									مندرجہ بالا آ یت کے لیے بعض مفسرین نے ایک شان ِ نزول بیان کی ہے جس کاخلاصہ کچھ اس طرح ہے ۔منافقین ِ مدینہ کے ایک گروہ عبداللہ بن ابی وغیرہ نے پوشیدہ طورپر کسی کوبنی نظیر کے یہودیوں کے پاس بھیجااورکہا کہ تم آرام سے بیٹھے رہو ۔ اپنے گھروں سے باہر نہ نکلو ۔ اپنے قلعوں کومستحکم کرلو ۔ہمارے پاس دوہزار افراد ہیں جوآخردم تک تمہاری مدد کے لیے تیار ہیں ۔بنی قریظہ اورتمہارے حلیف قبیلہ غطفان کے لوگ بھی تمہاراساتھ دیں گے ۔ یہی وہ محرک تھا جس نے بنی نظیر کے یہودیوں کوپیغمبراسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مخالفت پرابھارا ۔لیکن اسی دوران بنی نظیر کے ایک سردار ، جس کانام سلام تھا، اس نے حی ابنِ اخطب سے ، جوبنی نظیر کے لائحہ عمل کانگرانِ خاص تھا،کہاتوعبداللہ بن ابی کااعتبار نہ کروہ چاہتاہے کہ تجھے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کے خلاف جنگ پراُبھارے اور خُود اپنے گھر میں بیٹھارہے اورتجھے مصیبتوں کے حوالے کردے ۔حیء نے کہا:ہم محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کی دُشمنی اوراس سے جنگ کرنے کے علاوہ اور کسِی چیزکو نہیں جانتے سلام نے اس کے جواب میں کہاکہ خداکی قسم میں دیکھ رہا ہوں کہ ہمیں آخر کار اس سرزمین سے نکلنا پڑے گا اورہمارامال ودولت ، شرف وبزرگی یہ سب برباد ہوں گے ۔ہمارے بچّے قیدی بنائے جائیں گے اورہمارے جوان قتل کردیے جائیں گے (١) ۔
١۔ روح البیان ،جلد ٩ صفحہ ٤٣٩۔یہی معنی کچھ اختلاف کے ساتھ تفسیر درالمنثور ،جلد ٦ صفحہ ١٩٩ میں بھی آیاہے ۔
مندرجہ بالاآ یات اس واقعہ کوبیان کرتی ہیں:
بعض مفسرین کانظر یہ ہے کہ یہ آ یات بنونظیر کے واقعہ سے پہلے نازل ہوئیں اوراس کے بعد کے حوادث کوبیان کرتی ہیں ۔ اوراس وجہ سے انہیں قرآن کے اخبارِغیب میں شمارکرتے ہیں، آ یات کالب ولہجہ جوفعل مضارع کی شکل میں ہے ،اگرچہ اس نظر یہ کی تائید کرتاہے لیکن گزشتہ آیات سے ان آیات کاجوڑیہ بتاتاہے کہ یہ بنونظیر کے واقعہ کے بعد نازل ہوئی ہیں ،کیونکہ گزشتہ آیات بنونظیر کی شکست کے واقعہ اوران کی جلاوطنی کے بعد نازل ہوئی تھیں ۔ فعل مضارع کااستعمال حکایت ِحال کے طورپر ہے ۔(غور فرمایئے ) ۔