صحابہ قرآن وتاریخ کی میزان
لِلْفُقَرَاءِ الْمُهَاجِرِينَ الَّذِينَ أُخْرِجُوا مِنْ دِيَارِهِمْ وَأَمْوَالِهِمْ يَبْتَغُونَ فَضْلًا مِنَ اللَّهِ وَرِضْوَانًا وَيَنْصُرُونَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ ۚ أُولَٰئِكَ هُمُ الصَّادِقُونَ ۸وَالَّذِينَ تَبَوَّءُوا الدَّارَ وَالْإِيمَانَ مِنْ قَبْلِهِمْ يُحِبُّونَ مَنْ هَاجَرَ إِلَيْهِمْ وَلَا يَجِدُونَ فِي صُدُورِهِمْ حَاجَةً مِمَّا أُوتُوا وَيُؤْثِرُونَ عَلَىٰ أَنْفُسِهِمْ وَلَوْ كَانَ بِهِمْ خَصَاصَةٌ ۚ وَمَنْ يُوقَ شُحَّ نَفْسِهِ فَأُولَٰئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ ۹وَالَّذِينَ جَاءُوا مِنْ بَعْدِهِمْ يَقُولُونَ رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا وَلِإِخْوَانِنَا الَّذِينَ سَبَقُونَا بِالْإِيمَانِ وَلَا تَجْعَلْ فِي قُلُوبِنَا غِلًّا لِلَّذِينَ آمَنُوا رَبَّنَا إِنَّكَ رَءُوفٌ رَحِيمٌ ۱۰
یہ مال ان مہاجر فقرائ کے لئے بھی ہے جنہیں ان کے گھروں اور اموال سے نکال باہر کردیا گیا ہے اور وہ صرف خدا کے فضل اور اس کی مرضی کے طلبگار ہیں اور خدا و رسول کی مدد کرنے والے ہیں کہ یہی لوگ دعوائے ایمان میں سچے ہیں. اور جن لوگوں نے دارالہجرت اور ایمان کو ان سے پہلے اختیار کیا تھا وہ ہجرت کرنے والوں کو دوست رکھتے ہیں اور جو کچھ انہیں دیا گیا ہے اپنے دلوں میں اس کی طرف سے کوئی ضرورت نہیں محسوس کرتے ہیں اور اپنے نفس پر دوسروں کو مقدم کرتے ہیں چاہے انہیں کتنی ہی ضرورت کیوں نہ ہو.... اور جسے بھی اس کیے نفس کی حرص سے بچالیا جائے وہی لوگ نجات پانے والے ہیں. اور جو لوگ ان کے بعد آئے اور ان کا کہنا یہ ہے کہ خدایا ہمیں معاف کردے اور ہمارے ان بھائیوں کو بھی جنہوں نے ایمان میں ہم پر سبقت کی ہے اور ہمارے دلوں میں صاحبانِ ایمان کے لئے کسی طرح کا کینہ نہ قرار دینا کہ تو بڑا مہربان اور رحم کرنے والا ہے.
یہاں بعض مفسرین ان اوصاف کی طرف توجہ کیے بغیر، جومہاجرین وانصار اورتابعین میں سے ہرایک کے لیے مندرجہ بالاآ یت میں آ ئے ہیں ، اوررکھتے ہیں کہ تمام صحابہ کوبغیر کسی استثناء کے پاک ومنزّہ شمارکریں اوروہ غلط کام جوبعض اوقات ، خود زمانہ پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)میں یا اس کے بعد ان میں سے بعض سے سرزد ہوئے ہین ،ان سے چشم پوشی کی جائے اورجوشخص بھی مہاجرین وانصار وتابعین کی صف میں قرار پایاہے، ہمیں بند کرکے اُسے مقدّس ومحترم سمجھیں ۔حالانکہ مندرجہ بالا آ یت ان افراد کوداندں شِکن جواب دیتی ہے ۔ اورسچّے مہاجرین وانصار وتابعین کے ضوابط اورباریک بینی کے ساتھ معیّن کرتی ہے ۔مہاجرین میں پروردگار ِ عالم اخلاص جہاد اورصدق بتاتاہے ۔ اورانصار میں مہاجرین کی بہ نسبت بہت ،ایثار اورہرقسم کے بُخل وحرص سے پرہیز کی نشان دہی کرتاہے اور تابعین مین شخصی تعمیر ، ایمان میں سبقت کرنے والوں کااحترام ہرقسم کے کِینہ وحسد سے پرہیزجیسی صفات کوبیان کرتاہے ۔ ان حالات میں ہم اُن افراد کو کس طرح محترم شمارکریں جوجنگ ِ جمل میں موجود تھے اورانہوںنے اپنے امام ورہبر کے خلاف تلوار کھینچی ۔ انہوںنے نہ تو اخوّت ِاسلامی کی رعایت کی نہ اپنے سینوں کوغل ، حسد اوربُخل سے پاک کیااورنہ حضرت علی علیہ السلام کی سبقت ِ ایمانی کااحترام کیا، ہم کِس طرح ان پرہر قسم کی تنقید کو سمجھیں اورآنکھیں بندکرکے ان کے اوران کی باتوں کے سامنے سرتسلیم ِ خم کردیں ۔ اس بناء پر خطِ ایمان کی طرف سبقت کرنے والوں کے احترام کومدِّ نظر رکھتے ہوئے ان کے ایمان کے معاملے کوپیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانے کے حوالے سے اوران شدید طوفانوں میں جوآپ کے بعداسلامی معاشرہ کولاحق ہوئے ،ان کے حوالے سے باریک بینی اور دقّت ِ نظر کے ساتھ زیر مطالعہ رکھیں گے اوران معیاروں پرقرآن کی آ یات سے ہمیں معلوم ہوئے ہیں ،ان کے بارے میں فیصلہ کریں گے اور اپنا تعلق ان کے ساتھ مستحکم رکھیں گے اپنے عہدوپیمان پرقائم رہے ہیں اوران سے جنہوںنے پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانہ میں یاآنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعد اپنا رابط آپ سے توڑ لیا، ہم رشتہ توڑ لیں گے یہ ہے صحیح اورحکمِ قرآن وعقل سے ہم آہنگ منطق ۔