شانِ نزول
وَمَا أَفَاءَ اللَّهُ عَلَىٰ رَسُولِهِ مِنْهُمْ فَمَا أَوْجَفْتُمْ عَلَيْهِ مِنْ خَيْلٍ وَلَا رِكَابٍ وَلَٰكِنَّ اللَّهَ يُسَلِّطُ رُسُلَهُ عَلَىٰ مَنْ يَشَاءُ ۚ وَاللَّهُ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ ۶مَا أَفَاءَ اللَّهُ عَلَىٰ رَسُولِهِ مِنْ أَهْلِ الْقُرَىٰ فَلِلَّهِ وَلِلرَّسُولِ وَلِذِي الْقُرْبَىٰ وَالْيَتَامَىٰ وَالْمَسَاكِينِ وَابْنِ السَّبِيلِ كَيْ لَا يَكُونَ دُولَةً بَيْنَ الْأَغْنِيَاءِ مِنْكُمْ ۚ وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا ۚ وَاتَّقُوا اللَّهَ ۖ إِنَّ اللَّهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ ۷
اور خدا نے جو کچھ ان کی طرف سے مال غنیمت اپنے رسول کو دلوایا ہے جس کے لئے تم نے گھوڑے یا اونٹ کے ذریعہ کوئی دوڑ دھوپ نہیں کی ہے.... لیکن اللہ اپنے رسولوں کو غلبہ عنایت کرتا ہے اور وہ ہر شے پر قدرت رکھنے والا ہے. تو کچھ بھی اللہ نے اہل قریہ کی طرف سے اپنے رسول کو دلوایا ہے وہ سب اللہ ,رسول اور رسول کے قرابتدار, ایتام, مساکین اور مسافران غربت زدہ کے لئے ہے تاکہ سارا مال صرف مالداروں کے درمیان گھوم پھر کر نہ رہ جائے اور جو کچھ بھی رسول تمہیں دیدے اسے لے لو اور جس چیز سے منع کردے اس سے رک جاؤ اور اللہ سے ڈرو کہ اللہ سخت عذاب کرنے والا ہے.
چونکہ یہ آیتیں گزشتہ آتیوں کی تکمیل ہیں جو یہودبنی نظیرکی شکستوں کو بیان کر رہی تھیں، لہٰذا ان کی شان ِ نزول بھی اُسی شانِ نزول کو جاری رکھے ہوئے ہے ۔ اس کی وضاحت اس طرح ہے کہ بنی نظیر کے یہودیوں کے مدینہ سے چلے جانے کے بعدان کے باغات ، زمینیں، زراعتیں ، گھر اور دوسریم ال کاکچھ حصّہ مدینہ میں رہ گیا ، مسلمانوں کے سرداروں کی ایک جماعت رسول ِ خدا(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کی خدمت میں حاضر ہوئی او زمانہ ٔ جاہلیّت کے قانون کے مطابق جوبات ان کے دل میں تھی وہ انہوںنے عرض کی اوروہ یہ کہ اس مال غنیمت کامنتخب حصّہ اورباقی کی ایک چوتھائی آپ لے لیجے اورباقی ہمیں دے دیجئے تاکہ اسے ہم اپنے درمیان تقسیم کرلیں ،پرمندرجہ بالا آ یات نازل ہوئیں اورصراحت کے ساتھ کہاکہ چونکہ ان اموال ِ غنیمت کے لیے جنگ نہیں ہوئی اور مسلمانوں نے کوئی زحمت ومشقت برداشت نہیں کی م، لہٰذا یہ تمام مال واسباب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ملکیّت ہیں ۔ جس طرح ان کی مصلحت ہوگی وہ تقسیم کریں گے اور جیساکہ ہم بعد میں دیکھیں گے ،پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)نے یہ اموال ان مہا جرین کے درمیان ، جومدینہ میںمال دنیانہ رکھتے تھے ، اورانصار کی وہ تھوڑی سی تعداد جنہیں مال کی شدید احتیاج تھی ، ان کے درمیان تقسیم کردیے (١) ۔
١۔"" مجمع البیان "" اور دوسری تفاسیر درذیل آ یت ِ زیربحث ۔