Tafseer e Namoona

Topic

											

									  ٤۔ مدّت حکم اورمقدارِ صدقہ

										
																									
								

Ayat No : 12-13

: المجادلة

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا نَاجَيْتُمُ الرَّسُولَ فَقَدِّمُوا بَيْنَ يَدَيْ نَجْوَاكُمْ صَدَقَةً ۚ ذَٰلِكَ خَيْرٌ لَكُمْ وَأَطْهَرُ ۚ فَإِنْ لَمْ تَجِدُوا فَإِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَحِيمٌ ۱۲أَأَشْفَقْتُمْ أَنْ تُقَدِّمُوا بَيْنَ يَدَيْ نَجْوَاكُمْ صَدَقَاتٍ ۚ فَإِذْ لَمْ تَفْعَلُوا وَتَابَ اللَّهُ عَلَيْكُمْ فَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ وَآتُوا الزَّكَاةَ وَأَطِيعُوا اللَّهَ وَرَسُولَهُ ۚ وَاللَّهُ خَبِيرٌ بِمَا تَعْمَلُونَ ۱۳

Translation

ایمان والو جب بھی رسول سے کوئی راز کی بات کرو تو پہلے صدقہ نکال دو کہ یہی تمہارے حق میں بہتری اور پاکیزگی کی بات ہے پھر اگر صدقہ ممکن نہ ہو تو خدا بہت بخشنے والا اور مہربان ہے. کیا تم اس بات سے ڈر گئے ہو کہ اپنی رازدارانہ باتوں سے پہلے خیرات نکال دو اب جب کہ تم نے ایسا نہیں کیا ہے اور خدا نے تمہاری توبہ قبول کرلی ہے تو اب نماز قائم کرو اور زکوِٰ ادا کرو اور اللہ و رسول کی اطاعت کرو کہ اللہ تمہارے اعمال سے خوب باخبر ہے.

Tafseer

									مندرجہ بالا حکم یعنی رسول خدا(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)سے نجویٰ کرنے سے پہلے صدقہ کا وجوب کتنی مدّت پرحاوی ہوکر منسُوخ ہوا،اس سلسلہ میں مختلف قول نقل ہوئے ہیں ۔بعض اس کوصرف ایک گھنٹے اوربعض ایک رات تک محدُود سمجھتے ہیں اوربعض اس مدّت کو دس روزپرمبنی قرار دیتے ہیں ۔صحیح تیسراقول ہی ہے کیونکہ ایک گھنٹہ یاایک رات اس قسم کے امتحانی حکم کے لیے ہرگز کافی نہیں ہے ،اس لیے کہ وہ عُذر پیش کرسکتے تھے کہ اس مختصر سی مدّت میں نجویٰ کے لیے کوئی سبب پیش نہیں آ یالیکن دس دن کی مدّت حقائق کوواضح کرسکتی ہے اوراس حکم سے تخلف کرنے والوں کے لیے ملامت وسرزنش کے اسباب فراہم کرسکتی ہے ۔جہاں تک صدقہ کی مقدار کاتعلق ہے توآ یت میں اس کومعیّن نہیںکیاگیااور اسلامی روایات کے مطالعہ سے بھی کوئی مقدار دستیاب ہوتی ، حضرت علی کرم اللہ وجہ کے عمل سے معلوم ہوتاہے کہ اس اقدام کے لیے ایک درہم بھی کفایت کرتاتھا۔