شانِ نزول
أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ نُهُوا عَنِ النَّجْوَىٰ ثُمَّ يَعُودُونَ لِمَا نُهُوا عَنْهُ وَيَتَنَاجَوْنَ بِالْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ وَمَعْصِيَتِ الرَّسُولِ وَإِذَا جَاءُوكَ حَيَّوْكَ بِمَا لَمْ يُحَيِّكَ بِهِ اللَّهُ وَيَقُولُونَ فِي أَنْفُسِهِمْ لَوْلَا يُعَذِّبُنَا اللَّهُ بِمَا نَقُولُ ۚ حَسْبُهُمْ جَهَنَّمُ يَصْلَوْنَهَا ۖ فَبِئْسَ الْمَصِيرُ ۸يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا تَنَاجَيْتُمْ فَلَا تَتَنَاجَوْا بِالْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ وَمَعْصِيَتِ الرَّسُولِ وَتَنَاجَوْا بِالْبِرِّ وَالتَّقْوَىٰ ۖ وَاتَّقُوا اللَّهَ الَّذِي إِلَيْهِ تُحْشَرُونَ ۹إِنَّمَا النَّجْوَىٰ مِنَ الشَّيْطَانِ لِيَحْزُنَ الَّذِينَ آمَنُوا وَلَيْسَ بِضَارِّهِمْ شَيْئًا إِلَّا بِإِذْنِ اللَّهِ ۚ وَعَلَى اللَّهِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُونَ ۱۰
کیا تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جنہیں راز کی باتوں سے منع کیا گیا لیکن وہ پھر بھی ایسی باتیں کرتے ہیں اور گناہ اور ظلم اور رسول کی نافرمانی کے ساتھ راز کی باتیں کرتے ہیں اور جب تمہارے پاس آتے ہیں تو اس طرح مخاطب کرتے ہیں جس طرح خدا نے انہیں نہیں سکھایا ہے اور اپنے دل ہی دل میں کہتے ہیں کہ ہم غلطی پر ہیں تو خدا ہماری باتوں پر عذاب کیوں نہیں نازل کرتا - حالانکہ ان کے لئے جہنّم ہی کافی ہے جس میں انہیں جلنا ہے اور وہ بدترین انجام ہے. ایمان والو جب بھی راز کی باتیں کرو تو خبردار گناہ اور تعدی اور رسول کی نافرمانی کے ساتھ نہ کرنا بلکہ نیکی اور تقویٰ کے ساتھ باتیں کرنا اور اللہ سے ڈرتے رہنا کہ بالآخر اسی کی طرف پلٹ کر جانا ہے. یہ رازداری شیطان کی طرف سے صاحبانِ ایمان کو دکھ پہنچانے کے لئے ہوتی ہے حالانکہ وہ انہیں نقصان نہیں پہنچا سکتا ہے جب تک خدا اجازت نہ د ے دے اور صاحبانِ ایمان کا بھروسہ صرف اللہ پر ہوتا ہے.
پہلی زیربحث آ یت کے بارے میں دوشان ِ نزول نقل ہوئی ہیں جن میںسے ہرایک آ یت کے ایک حصّہ سے مربوط ہے ۔پہلی یہ کہ یہودیوں اورمنافقوں کی ایک جماعت مومنین سے علیحدہ آپس میں سرگوشی کرتی اورایک دوسرے کے کانوں میں باتیں کرتی اور کبھی یہ کہ مومنین کوآنکھوں سے پریشان کن اشار ے کرتی ۔جب مومنین یہ منظر دیکھتے توکہتے ہم سمجھتے ہیں کہ ہمارے عزیزوں اوررشتہ داروں کے بارے میں جوجہادپرگئے ہوتے ہیں ان تک کوئی پریشان کُن خبرپہنچی ہے ۔یہ اُس کے متعلق باتیں کررہے ہیں ۔ یہ چیزمؤ منین کے غم واندوہ کاباعث بنتی ۔جب انہوں نے یہ حرکت بار بار کی مؤ منین نے رسول ِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے شکایت کی ۔رسول ِ خدا نے حکم دیا کہ کوئی شخص مُسلمانوں کے سامنے ایک دُوسرے سے سرگوشی نہ کرے تو مندرجہ بالا آ یت نازل ہوئی (اورانہیں اس کام پر سختی سے سرزنش کی) (١) ۔
صحیح بخاری ،صحیح مسلم اور بہت سی کتب تفسیر نے تحریر کیاہے کہ یہودیوں کاایک گروہ پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں آیا اورالسلام علیک کے بجائے اسام علیک یاابا القاسم کہا( اس کامفہوم ہے تجھ پرموت یاملامت وخستگی ہو) ۔ پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کے جواب میں فرمایا: وعلیکم یہی چیز تم پرہو۔
حضرت عائشہ کہتی ہیں : کہ میں اس مفہوم کی طرف متوجہ ہوئی اور میں نے کہا: علیکم السام ولعنکم اللہ وغضب علیکم تم پرموت وارد ہو ۔خُدا تم پرغضب کرے تو پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا:
نرمی سے کام لو اور سختی وبدگوئی سے پرہیز کرو۔
تومیں نے کہا : کہ آپ نہیں سُن رہے تھے کہ وہ کہ رہے ہیں کہ تجھ پرموت ہو فرمایا: کیا تُونے نہیںسُنا کہ میں نے ان کے جواب میں علیکم کہاہے۔
یہ وہ موقع تھا کہ مندرجہ بالاآ یت نازل ہو ئی کہ جس وقت یہ گروہ تمہارے پاس آ تاہے توایسا سلام کرتاہے جیساسلام خدانے تم پر نہیں کیا(٢) ۔
١۔مجمع البیان ،جلد ٩ ،صفحہ ٢٤٩۔
٢۔تفسیر مراغی ،جلد ٢٨ ،صفحہ ١٣۔