سوره مجادله/ آیه 8- 10
أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ نُهُوا عَنِ النَّجْوَىٰ ثُمَّ يَعُودُونَ لِمَا نُهُوا عَنْهُ وَيَتَنَاجَوْنَ بِالْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ وَمَعْصِيَتِ الرَّسُولِ وَإِذَا جَاءُوكَ حَيَّوْكَ بِمَا لَمْ يُحَيِّكَ بِهِ اللَّهُ وَيَقُولُونَ فِي أَنْفُسِهِمْ لَوْلَا يُعَذِّبُنَا اللَّهُ بِمَا نَقُولُ ۚ حَسْبُهُمْ جَهَنَّمُ يَصْلَوْنَهَا ۖ فَبِئْسَ الْمَصِيرُ ۸يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا تَنَاجَيْتُمْ فَلَا تَتَنَاجَوْا بِالْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ وَمَعْصِيَتِ الرَّسُولِ وَتَنَاجَوْا بِالْبِرِّ وَالتَّقْوَىٰ ۖ وَاتَّقُوا اللَّهَ الَّذِي إِلَيْهِ تُحْشَرُونَ ۹إِنَّمَا النَّجْوَىٰ مِنَ الشَّيْطَانِ لِيَحْزُنَ الَّذِينَ آمَنُوا وَلَيْسَ بِضَارِّهِمْ شَيْئًا إِلَّا بِإِذْنِ اللَّهِ ۚ وَعَلَى اللَّهِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُونَ ۱۰
کیا تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جنہیں راز کی باتوں سے منع کیا گیا لیکن وہ پھر بھی ایسی باتیں کرتے ہیں اور گناہ اور ظلم اور رسول کی نافرمانی کے ساتھ راز کی باتیں کرتے ہیں اور جب تمہارے پاس آتے ہیں تو اس طرح مخاطب کرتے ہیں جس طرح خدا نے انہیں نہیں سکھایا ہے اور اپنے دل ہی دل میں کہتے ہیں کہ ہم غلطی پر ہیں تو خدا ہماری باتوں پر عذاب کیوں نہیں نازل کرتا - حالانکہ ان کے لئے جہنّم ہی کافی ہے جس میں انہیں جلنا ہے اور وہ بدترین انجام ہے. ایمان والو جب بھی راز کی باتیں کرو تو خبردار گناہ اور تعدی اور رسول کی نافرمانی کے ساتھ نہ کرنا بلکہ نیکی اور تقویٰ کے ساتھ باتیں کرنا اور اللہ سے ڈرتے رہنا کہ بالآخر اسی کی طرف پلٹ کر جانا ہے. یہ رازداری شیطان کی طرف سے صاحبانِ ایمان کو دکھ پہنچانے کے لئے ہوتی ہے حالانکہ وہ انہیں نقصان نہیں پہنچا سکتا ہے جب تک خدا اجازت نہ د ے دے اور صاحبانِ ایمان کا بھروسہ صرف اللہ پر ہوتا ہے.
٨۔ أَ لَمْ تَرَ ِلَی الَّذینَ نُہُوا عَنِ النَّجْوی ثُمَّ یَعُودُونَ لِما نُہُوا عَنْہُ وَ یَتَناجَوْنَ بِالِْثْمِ وَ الْعُدْوانِ وَ مَعْصِیَةِ الرَّسُولِ وَ ِذا جاؤُکَ حَیَّوْکَ بِما لَمْ یُحَیِّکَ بِہِ اللَّہُ وَ یَقُولُونَ فی أَنْفُسِہِمْ لَوْ لا یُعَذِّبُنَا اللَّہُ بِما نَقُولُ حَسْبُہُمْ جَہَنَّمُ یَصْلَوْنَہا فَبِئْسَ الْمَصیرُ۔
٩۔یا أَیُّہَا الَّذینَ آمَنُوا ِذا تَناجَیْتُمْ فَلا تَتَناجَوْا بِالِْثْمِ وَ الْعُدْوانِ وَ مَعْصِیَةِ الرَّسُولِ وَ تَناجَوْا بِالْبِرِّ وَ التَّقْوی وَ اتَّقُوا اللَّہَ الَّذی ِلَیْہِ تُحْشَرُونَ۔
١٠۔ِنَّمَا النَّجْوی مِنَ الشَّیْطانِ لِیَحْزُنَ الَّذینَ آمَنُوا وَ لَیْسَ بِضارِّہِمْ شَیْئاً ِلاَّ بِِذْنِ اللَّہِ وَ عَلَی اللَّہِ فَلْیَتَوَکَّلِ الْمُؤْمِنُون۔
ترجمہ
٨۔کیاتُو نے نہیں دیکھا جن کو نجویٰ کی ممانعمت کی گئی اس کے بعداس کام کی طرف جس سے انہیں روکاگیاتھالوٹ گئے اورگناہ وتعدی اورخُدا کے رسول کی نافرمانی کو انجام دینے کے لیے سرگوشی کرتے ہیں اور جس وقت تیرے پاس آتے ہیں تو تجھے وہ سلام کرتے ہیں جو خدانے تجھے نہیں کیا اور دل میں کہتے ہیں کہ خدا کیوں ہمیں ہماری باتوں پر عذاب نہیں کرتا،جہنم ان کے لیے کافی ہے ۔ اس میںوُہ وارد ہوں گے اوروُہ بُری جگہ ہے ۔
٩۔ اے ایمان لانے والوجس وقت سرگوشی کرتے ہو توگناہ ، تعدی اوررسولِ خدا(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نافرمانی کے لیے نہ کرواوراچھے کام اورتقویٰ کے بارے میں سرگوشی کرو اور اُس خداکی مخالفت سے ، جس کی طرف تمہاری بازگشت ہے اوراس کے ہاں تمہیں جمع ہونا ہے ، پرہیزکرو ۔
١٠۔نجویٰ صِرف شیطان کی طرف سے ہے وہ چاہتاہے کہ مؤ منین اس سے غمگین ہوں لیکن انہیں کوئی ضرر نہیں پہنچا سکتاحُکم خدا کے بغیر اِس لیے مؤ منین کوچاہیئے کہ وہ خداپر توکل کریں ۔