٤۔ انجیل یااناجیل
وَلَقَدْ أَرْسَلْنَا نُوحًا وَإِبْرَاهِيمَ وَجَعَلْنَا فِي ذُرِّيَّتِهِمَا النُّبُوَّةَ وَالْكِتَابَ ۖ فَمِنْهُمْ مُهْتَدٍ ۖ وَكَثِيرٌ مِنْهُمْ فَاسِقُونَ ۲۶ثُمَّ قَفَّيْنَا عَلَىٰ آثَارِهِمْ بِرُسُلِنَا وَقَفَّيْنَا بِعِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ وَآتَيْنَاهُ الْإِنْجِيلَ وَجَعَلْنَا فِي قُلُوبِ الَّذِينَ اتَّبَعُوهُ رَأْفَةً وَرَحْمَةً وَرَهْبَانِيَّةً ابْتَدَعُوهَا مَا كَتَبْنَاهَا عَلَيْهِمْ إِلَّا ابْتِغَاءَ رِضْوَانِ اللَّهِ فَمَا رَعَوْهَا حَقَّ رِعَايَتِهَا ۖ فَآتَيْنَا الَّذِينَ آمَنُوا مِنْهُمْ أَجْرَهُمْ ۖ وَكَثِيرٌ مِنْهُمْ فَاسِقُونَ ۲۷
اور ہم نے نوح علیھ السّلام اور ابراہیم علیھ السّلام کو بھیجا اور ان کی اولاد میں کتاب اور نبوت قرار دی تو ان میں سے کچھ ہدایت یافتہ تھے اور بہت سے فاسق اور بدکار تھے. پھر ہم نے ان ہی کے نقش قدم پر دوسرے رسول بھیجے اور ان کے پیچھے عیسٰی علیھ السّلام بن مریم علیھ السّلام کو بھیجا اور انہیں انجیل عطا کردی اور ان کا اتباع کرنے والوں کے دلوں میں مہربانی اور محبت قرار دے دی اور جس رہبانیت کو ان لوگوں نے ازخود ایجاد کرلیا تھا اور اس سے رضائے خدا کے طلبگار تھے اسے ہم نے ان کے اوپر فرض نہیں قرار دیا تھا اور انہوں نے خود بھی اس کی مکمل پاسداری نہیں کی تو ہم نے ان میں سے واقعا ایمان لانے والوں کو اجر عطا کردیا اور ان میں سے بہت سے تو بالکل فاسق اور بدکردار تھے.
انجیل اصل میں ایک یونانی لفظ ہے ،اس کے معنی ہیں بشارت یاجدید تعلیم اوریہ اس کتاب کانام ہے جوحضرت عیسیٰ علیہ السلام پرنازل ہوئی ، یہ لفظ بارہ مرتبہ قرآن مجید میں اسی معنی میں استعمال ہواہے اورہرجگہ مفرد کی شکل میں ہے لیکن قابل ِتوجہ یہ ہے کہ موجودہ زمانے میں جو چیز انجیل کے نام سے مشہورہے وہ بہت سی کتابوں کامجموعہ ہے جنہیں اناجیل سے تعبیر کیاجاتاہے ۔ان میں سے مشہور چار انجیل ہیں ، لوقا مرقس متی یوحنا۔
عیسائیوں کانظر یہ ہے کہ چارانجیلیں اصحابِ مسیح یاان اصحاب کے شاگردوں میں سے چار افراد کے زریعہ تحریر کی گئی ہیں ۔ان کی تالیف کی تاریخ حضرت مسیح علیہ السلام کے ٣٨ سال بعد سے لے کرتقریباًایک صدی بعد تک پہنچتی ہے ۔اس بناپر مسیح علیہ السلام کی اصل کتاب ایک آسمانی کتاب کی حیثیت سے مستقل طورپر پردہ خفا میں چلی گئی ہے ۔صِرف اس کے بعض حصّے جوان چاروں افراد کے حافظے میں رہ گئے تھے ان کے اپنے افکار کی آمیزش کے ساتھ ان چاروں انجیلوں میں تحریر ہوئے ہیں، اِس عنوان پرزیادہ تفصیلی بحث ہم سورہ آل عمران کی آیت ٣میں پیش کرچکے ہیں ( ۱) ۔
۱۔ تفسیر نمونہ ،جلد ٢ ، صفحہ ٢٤١ سے آگے ۔