Tafseer e Namoona

Topic

											

									  ٢۔زندگی کی عُمدہ ضرورتیں لوہے سے تعلق رکھتی ہیں

										
																									
								

Ayat No : 25

: الحديد

لَقَدْ أَرْسَلْنَا رُسُلَنَا بِالْبَيِّنَاتِ وَأَنْزَلْنَا مَعَهُمُ الْكِتَابَ وَالْمِيزَانَ لِيَقُومَ النَّاسُ بِالْقِسْطِ ۖ وَأَنْزَلْنَا الْحَدِيدَ فِيهِ بَأْسٌ شَدِيدٌ وَمَنَافِعُ لِلنَّاسِ وَلِيَعْلَمَ اللَّهُ مَنْ يَنْصُرُهُ وَرُسُلَهُ بِالْغَيْبِ ۚ إِنَّ اللَّهَ قَوِيٌّ عَزِيزٌ ۲۵

Translation

بیشک ہم نے اپنے رسولوں کو واضح دلائل کے ساتھ بھیجا ہے اور ان کے ساتھ کتاب اور میزان کو نازل کیا ہے تاکہ لوگ انصاف کے ساتھ قیام کریں اور ہم نے لوہے کو بھی نازل کیا ہے جس میں شدید جنگ کا سامان اور بہت سے دوسرے منافع بھی ہیں اور اس لئے کہ خدا یہ دیکھے کہ کون ہے جو بغیر دیکھے اس کی اور اس کے رسول کی مدد کرتا ہے اور یقینا اللہ بڑا صاحبِ قوت اور صاحبِ عزت ہے.

Tafseer

									بعض مفسّرین مندرجہ بالاآ یت کاایک تجزیہ پیش کرت ہیں جس کاخلاصہ اس طرح ہے کہ انسان کی زندگی کے چاراصول ہیں :
١۔ زراعت ،٢۔صنعت ،٣۔ مسکن،٤۔حکومت 
وجہ اس کی یہ ہے کہ انسان غذا، لباس اور مکان کامحتاج ہے اورچونکہ وہ ایک اجتماعی ،ومعاشرتی وجُودہے لہٰذا وہ تنہائی کی زندگی بسرنہیں کرسکتا،بالفاظِ دیگر اجتماع کے مسائل اجتماع ہی سے حل ہوتے ہیں، اور چونکہ ہراجتماع میں مفادات کاتصادق ضرور ہوتاہے اس لیے اس کے سِدّباب کے لیے ایک حکومت کی ضرورت ہوتی ہے جو اس معاشرہ میں انصاف قائم کرسکے ۔ حیران کُن بات یہ ہے کہ چاروں حدید یعنی لوہے کی احتیاج رکھتے ہیں ،اگر یہ وسیلہ نہ ہوتا توانسان کی زندگی بہت مشکل ہوجاتی ،پھر یہ کہ چونکہ انسان کولوہے کی بہت زیادہ ضرورت ہے لہٰذا خُدانے اسے بہت زیادہ اورآسمانی سے حاصل ہونے والا بنایاہے (یہ ٹھیک ہے کہ دُوسری دھاتیں بھی انسانی زندگی میںدخل رکھتی ہیں لیکن زیادہ ضرورت لوہے کی ہے )یہاں سے ( فیہِ بَأْس شَدید وَ مَنافِعُ لِلنَّاس)کامفہوم واضح ہوجاتاہے ۔