٢۔ کیاجانکنی تدریجی امر ہے ؟
فَلَوْلَا إِذَا بَلَغَتِ الْحُلْقُومَ ۸۳وَأَنْتُمْ حِينَئِذٍ تَنْظُرُونَ ۸۴وَنَحْنُ أَقْرَبُ إِلَيْهِ مِنْكُمْ وَلَٰكِنْ لَا تُبْصِرُونَ ۸۵فَلَوْلَا إِنْ كُنْتُمْ غَيْرَ مَدِينِينَ ۸۶تَرْجِعُونَهَا إِنْ كُنْتُمْ صَادِقِينَ ۸۷
پھر ایسا کیوں نہیں ہوتا کہ جب جان گلے تک پہنچ جائے. اور تم اس وقت دیکھتے ہی رہ جاؤ. اور ہم تمہاری نسبت مرنے والے سے قریب ہیں مگر تم دیکھ نہیں سکتے ہو. پس اگر تم کسی کے دباؤ میں نہیں ہو اور بالکل آزاد ہو. تو اس روح کو کیوں نہیں پلٹا دیتے ہو اگر اپنی بات میں سچے ہو.
جان کے گلے تک پہنچنے کی تعبیر جوگزشتہ آیات میں آ ئی ہے (فلولااذ ابلغت الحلقوم)وہ زندگی کے آخری لمحات کاکنایہ ہے ۔شاید اس کامنشایہ ہے کہ زیادہ تراعضائے بدن ہاتھ پیروغیرہ موت کے وقت باقی اعضاسے پہلے بیکار ہوجاتے ہیں اور گلا وہ عضو ہے جوسب سے آخر میں بیکار ہوتاہے ۔سورہ قیامة کی آ یت ٢٦ میں ہم پڑھتے ہیں (کلّا اذابلغت التراقی ) کفّار کبھی ایمان نہیں لائیں گے ،یہاں تک کہ رُوح ان کی (ترقوہ ) ہنسلی کی ہڈی تک پہنچ جائے۔ترقوہ وہ ہڈ یاں ہیں جوحلق کے اطراف کوگھیرے ہوئے ہیں ۔