سوره الرحمن/ آیه 26- 30
كُلُّ مَنْ عَلَيْهَا فَانٍ ۲۶وَيَبْقَىٰ وَجْهُ رَبِّكَ ذُو الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ ۲۷فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ ۲۸يَسْأَلُهُ مَنْ فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ۚ كُلَّ يَوْمٍ هُوَ فِي شَأْنٍ ۲۹فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ ۳۰
جو بھی روئے زمین پر ہے سب فنا ہوجانے والے ہیں. صرف تمہاری رب کی ذات جو صاحبِ جلال و اکرام ہے وہی باقی رہنے والی ہے. تو تم اپنے رب کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے. آسمان و زمین میں جو بھی ہے سب اسی سے سوال کرتے ہیں اور وہ ہر روز ایک نئی شان والا ہے. کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے.
٢٦۔کُلُّ مَنْ عَلَیْہا فانٍ۔
٢٧۔وَ یَبْقی وَجْہُ رَبِّکَ ذُو الْجَلالِ وَ الِْکْرامِ۔
٢٨۔فَبِأَیِّ آلاء ِ رَبِّکُما تُکَذِّبانِ۔
٢٩۔یَسْئَلُہُ مَنْ فِی السَّماواتِ وَ الْأَرْضِ کُلَّ یَوْمٍ ہُوَ فی شَأْنٍ۔
٣٠۔ فَبِأَیِّ آلاء ِ رَبِّکُما تُکَذِّبانِ۔
ترجمہ
٢٦۔وُہ تمام لوگ کہ جواس زمین پر ہیں فنا ہوجائیںگے ۔
٢٧۔ اورصرف تیرے پروردگار کی ذات ذوالجلال والاکرام باقی رہ جائے گی ۔
٢٨۔ پس تم اپنے پرودگار کی کِس کِس نعمت کوجھٹلا ؤ گے ۔
٢٩۔ تما وُہ لوگ جو آسمان اورزمین میںہیں اس سے سوال کرتے ہیں اوروہ ہرروز ایک نئی شان میں جلوہ گر ہوتاہے ۔
٣٠۔ پس تم اپنے پرودگار کی کِس کِس نعمت کوجھٹلا ؤ گے ؟