Tafseer e Namoona

Topic

											

									  ٣۔ بطورِ آیات میں سے ایک تفسیر

										
																									
								

Ayat No : 19-25

: الرحمن

مَرَجَ الْبَحْرَيْنِ يَلْتَقِيَانِ ۱۹بَيْنَهُمَا بَرْزَخٌ لَا يَبْغِيَانِ ۲۰فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ ۲۱يَخْرُجُ مِنْهُمَا اللُّؤْلُؤُ وَالْمَرْجَانُ ۲۲فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ ۲۳وَلَهُ الْجَوَارِ الْمُنْشَآتُ فِي الْبَحْرِ كَالْأَعْلَامِ ۲۴فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ ۲۵

Translation

اس نے دو دریا بہائے ہیں جو آپس میں مل جاتے ہیں. ان کے درمیان حد فا صلِ ہے کہ ایک دوسرے پر زیادتی نہیں کرسکتے. تو تم اپنے رب کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے. ان دونوں دریاؤں سے موتی اور مونگے برآمد ہوتے ہیں. تو تم اپنے رب کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے. اسی کے وہ جہاز بھی ہیں جو دریا میں پہاڑوں کی طرح کھڑے رہتے ہیں. تو تم اپنے رب کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے.

Tafseer

									ایک حدیث میں امام جعفر صادق علیہ السلام سے مروی ہے کہ آپ نے مرج البحرین یلتقیان ... کی تفسیر میں فر مایا:
علی وفاطمہ بحران عمیقان ،لا یبغی احد ھما علی صاحبہ یخرج منھما اللؤ لؤ والمرجان ، قال: الحسن والحسین :
علی علیہ السلام وفاطمہ سلام اللہ علیھا وعمیق سمندر ہیں کہ جن میں سے کوئی ایک دوسرے پرتجاوز نہیں کرتا اور ان دودریاؤں سے لؤ لؤ ومرجان یعنی حسن علیہ السلام وحسین علیہ السلام بر آمد ہوئے ہیں (۱)
تفسیر دُر منثور میں یہی معنی بعض اصحاب پیغمبر کی زبانی بیان ہوئے ہیں (۲)۔
مرحوم طبرسی نے بھی مجمع البیان میں اسی چیز کومختصر سے فرق کے ساتھ نقل کیاہے ۔ہمیں معلوم ہے کہ قرآن مجید کے کئی بطون ہیں اور ہوسکتاہے کہ ایک ہی آ یت متعدد معانی رکھتی ہو ،اور جوکچھ اس حدیث میں آ یاہے ،بطونِ قرآن میں سے ہے کہ جواس کے ظاہری معنی سے متصادم نہیں ہوتا ۔
۱۔ تفسیر قمی جلد ٢ صفحہ ٢٤٤۔
2۔دُر المنثور ،جلد ٦ ،صفحہ ١٤٢۔