Tafseer e Namoona

Topic

											

									  ایک واضح اور معجزہ کی کیفیّت رکھنے والی پیشن گوئی

										
																									
								

Ayat No : 41-46

: القمر

وَلَقَدْ جَاءَ آلَ فِرْعَوْنَ النُّذُرُ ۴۱كَذَّبُوا بِآيَاتِنَا كُلِّهَا فَأَخَذْنَاهُمْ أَخْذَ عَزِيزٍ مُقْتَدِرٍ ۴۲أَكُفَّارُكُمْ خَيْرٌ مِنْ أُولَٰئِكُمْ أَمْ لَكُمْ بَرَاءَةٌ فِي الزُّبُرِ ۴۳أَمْ يَقُولُونَ نَحْنُ جَمِيعٌ مُنْتَصِرٌ ۴۴سَيُهْزَمُ الْجَمْعُ وَيُوَلُّونَ الدُّبُرَ ۴۵بَلِ السَّاعَةُ مَوْعِدُهُمْ وَالسَّاعَةُ أَدْهَىٰ وَأَمَرُّ ۴۶

Translation

اور فرعون والوں تک بھی پیغمبر علیھ السّلام آئے. تو انہوں نے ہماری ساری نشانیوں کا انکار کردیا تو ہم نے بھی ایک زبردست صاحب هاقتدار کی طرح انہیں اپنی گرفت میں لے لیا. تو کیا تمہارے کفار ان سب سے بہتر ہیں یا ان کے لئے کتابوں میں کوئی معافی نامہ لکھ دیا گیا ہے. یا ان کا کہنا یہ ہے کہ ہمارے پاس بڑی جماعت ہے جو ایک دوسرے کی مدد کرنے والی ہے. عنقریب یہ جماعت شکست کھاجائے گی اور سب پیٹھ پھیر کر بھاگ جائیں گے. بلکہ ان کا موعد قیامت کا ہے اور قیامت انتہائی سخت اور تلخ حقیقت ہے.

Tafseer

									ایک واضح اورمعجزہ کی کیفیّت رکھنے والی پیشن گوئی 
اِس میں شک نہیں کہ مکّہ میں جس وقت یہ آ یات نازل ہوئیں تومسلمان بالکل اقلیّت میں تھے اوردشمن انتہائی طاقتور تھا مُسلمانوں کی ان کے مقابلے میں جلدی کامیابی کی پیشن گوئی ہر گزقابلِ اعتبار نہ تھی لیکن تھوڑی سی مُدّت کے بعد مُسلمانوں نے ہجرت کی اور اتنی طاقت جمع کرلی کہ میدانِ بد رمیں دشمن کے ساتھ اپنے پہلے ٹکراؤ میں ایک خوفناک ضرب لگائی ۔اس صُورت ِ حال کی کفّار کوقطعاً توقع نہیں تھی ۔پھر جنگِ بد ر کے واقعہ کوچند سال بھی نہیں گزرے یھے کہ نہ صرف کفّارِ مکّہ بلکہ تمام جزیرة العرب مسلمانوں کے سامنے سرتسلیم خم کرچکاتھا ،توکیا مُستقبل کے بارے میں غیب سے تعلق رکھنے والی خبر بالکل واضح طورپر ایک معجزہ نہیں ہے ؟ ہمیں معلوم ہے کہ اعجاز ِ قرآن کے مختلف پہلوؤں میں سے ایک پہلویہ بھی ہے کہ اس کی خبریں غیبت پرمشتمل ہوتی ہیں ۔ جس کاایک نمونہ زیربحث آیت میں ہے ۔

١۔ توجہ کرنی چاہیئے کہ نذر نذیر کی جمع بھی ہے اورمصدر یااِسم مصدر کے معنی میں بھی رکھتا ہے اورچونکہ مصدر کاصفت کی حیثیت سے بھی اطلاق ہوتاہے لہذا دونوں ایک ہی مفہوم کی طرف پلٹ سکتے ہیں ۔
٢۔ موسیٰ علیہ السلام کے نومعجزات قرآن کی مختلف آ یتوں پرغورکرنے سے یہ معلوم ہوتے ہیں عصاکاعظیم اژدھے میں تبدیل ہونا ۔(طہٰ ۔٢٠) یدبیضائ حضرت موسیٰ کے کے ہاتھ کامصدرنور کی طرح چمکنا ۔(طہٰ۔٢٢) سرکوبی کرنے والا طوفان ۔(اعراف ۔ ١٣٣ ) ( ٤،٥،٦،٧)ٹڈی دل جوز راعتوں پرمسلّط ہوئے اورجوئیں (ایک قسم کی نباتی مصیبت ) مینڈک جنہوںنے دریائے نیل سے نکل کرمخقہ سی مُدّت میں ان کی سطح زندگی کوڈھا نک لیا اور خُون دریائے نیل نے خُون کارنگ اختیار کیا ۔(اعراف۔١٣٣) ٨۔٩خشک سالی اورپھلوں کی کمی (اعراف ،١٣٠ )جن میں سے ہر ایک کی تفصیل متعلقہ آ یات کے ذیل میں دی گئی ہے ۔
٣۔ اکفارکم میں ضمیر ظاہراً (ام لکم براء ة فی النوبر) قرینے سے کفّارِ عر ب کی طرف لوٹتی ہے ۔
٤۔باوجود یکہ نحن جمع کی ضمیر ہے اس کی خبر جمیع مفرد کی شکل میں آئی ہے اوراسی طرح منتصر جوکہ خبر کے بعد یاجمیع کی صفت ہے اور یہ اس بناء پر ہے کہ جمیع اگرچہ لفظاً مفرد ہے لیکن معنی کے لحاظ سے جمع ہے ۔
٥۔اگرچہ مناسب ہے کہ یُوَلُّونَ الادبُار کہا جائے ۔اس کی جگہ یُوَلُّونَ الدُّبُر کہاگیا ہے کیونکہ یہ لفظ جنس کے معنی رکھتاہے کہ جو جمع سے حکم میں ہے ۔