سوره قمر/ آیه 9- 17
كَذَّبَتْ قَبْلَهُمْ قَوْمُ نُوحٍ فَكَذَّبُوا عَبْدَنَا وَقَالُوا مَجْنُونٌ وَازْدُجِرَ ۹فَدَعَا رَبَّهُ أَنِّي مَغْلُوبٌ فَانْتَصِرْ ۱۰فَفَتَحْنَا أَبْوَابَ السَّمَاءِ بِمَاءٍ مُنْهَمِرٍ ۱۱وَفَجَّرْنَا الْأَرْضَ عُيُونًا فَالْتَقَى الْمَاءُ عَلَىٰ أَمْرٍ قَدْ قُدِرَ ۱۲وَحَمَلْنَاهُ عَلَىٰ ذَاتِ أَلْوَاحٍ وَدُسُرٍ ۱۳تَجْرِي بِأَعْيُنِنَا جَزَاءً لِمَنْ كَانَ كُفِرَ ۱۴وَلَقَدْ تَرَكْنَاهَا آيَةً فَهَلْ مِنْ مُدَّكِرٍ ۱۵فَكَيْفَ كَانَ عَذَابِي وَنُذُرِ ۱۶وَلَقَدْ يَسَّرْنَا الْقُرْآنَ لِلذِّكْرِ فَهَلْ مِنْ مُدَّكِرٍ ۱۷
ان سے پہلے قوم نوح نے بھی تکذیب کی تھی کہ انہوں نے ہمارے بندے کو جھٹلایا اور کہہ دیا کہ یہ دیوانہ ہے بلکہ اسے جھڑکا بھی گیا. تو اس نے اپنے پروردگار سے دعا کی کہ میں مغلوب ہوگیا ہوں میری مدد فرما. تو ہم نے ایک موسلا دھار بارش کے ساتھ آسمان کے دروازے کھول دیئے. اور زمین سے بھی چشمے جاری کردیئے اور پھر دونوں پانی ایک خاص مقررہ مقصد کے لئے باہم مل گئے. اور ہم نے نوح علیھ السّلامکو تختوں اور کیلوں والی کشتی میں سوار کرلیا. جو ہماری نگاہ کے سامنے چل رہی تھی اور یہ اس بندے کی جزا تھی جس کا انکار کیا گیا تھا. اور ہم نے اسے ایک نشانی بناکر چھوڑ دیا ہے تو کیا کوئی ہے جو نصیحت حاصل کرے. پھر ہمارا عذاب اور ڈرانا کیسا ثابت ہوا. اور ہم نے قرآن کو نصیحت کے لئے آسان کردیا ہے تو کیا کوئی نصیحت حاصل کرنے والا ہے.
٩۔کَذَّبَتْ قَبْلَہُمْ قَوْمُ نُوحٍ فَکَذَّبُوا عَبْدَنا وَ قالُوا مَجْنُون وَ ازْدُجِرَ ۔
١٠۔فَدَعا رَبَّہُ أَنِّی مَغْلُوب فَانْتَصِرْ۔
١١۔فَفَتَحْنا أَبْوابَ السَّماء ِ بِماء ٍ مُنْہَمِرٍ۔
١٢۔ وَ فَجَّرْنَا الْأَرْضَ عُیُوناً فَالْتَقَی الْماء ُ عَلی أَمْرٍ قَدْ قُدِرَ۔
١٣۔وَ حَمَلْناہُ عَلی ذاتِ أَلْواحٍ وَ دُسُر۔
١٤۔ تَجْری بِأَعْیُنِنا جَزاء ً لِمَنْ کانَ کُفِرَ۔
١٥۔وَ لَقَدْ تَرَکْناہا آیَةً فَہَلْ مِنْ مُدَّکِرٍ۔
١٦۔ فَکَیْفَ کانَ عَذابی وَ نُذُرِ۔
١٧۔ وَ لَقَدْ یَسَّرْنَا الْقُرْآنَ لِلذِّکْرِ فَہَلْ مِنْ مُدَّکِرٍ۔
ترجمہ
٩۔اس سے پہلے قوم نوح نے تکذیب کی ( جی ہاں) ہمارے بندے (نوح ) علیہ السلام کی اورکہا وہ دیوانہ ہے ۔اور انہیں جھڑ کیا ں دیں ۔
١٠۔ اُس نے بارگاہِ پروردگار میں عرض کیامیں اس سرکش قوم سے سے مغلوب ہوں ان سے میرا اِنتقام لے ۔
١١۔ اس وقت ہم نے آسمانوں کے درواز ے کھول دیے اور بہت زیادہ اور مسلسل پانی پرسنے لگا ۔
١٢۔ اور زمین کوہم نے شگافتہ کیااور بہت سے چشمے نکالے اوریہ دونوں قسم کے پانی جس مقدار میں بھی تھے آپس میں مِل گئے ۔
١٣۔ اورہم نے نوح علیہ السلام کوایک سواری (کشتی) پرکہ جوتختوں اورمیخوں سے بنائی گئی تھی سوار کیا ۔
١٤۔ ایسی سواری کہ جو ہماری نگرانی میں چلتی تھی یہ عذاب تھااس گروہ کے لیے کہ جو اس کامُنکر تھا ۔
١٥۔ہم نے یہ واقعہ نشانی کے عنوان سے اُمّتوں کے درمیان باقی رکھا توکیاکوئی ہے جو نصیحت حاصل کرے ۔
١٦۔ اَب دیکھو کہ میراعذاب اورتخویف دونوں کیسے تھے ۔
١٧۔ ہم نے قرآن کوذکر کے لیے آسان قرار دیاتوکیا کوئی ہے کہ جونصیحت حاصل کرے ۔