Tafseer e Namoona

Topic

											

									  قیامت کا دن کیوں بہت سخت ہے ؟

										
																									
								

Ayat No : 4-8

: القمر

وَلَقَدْ جَاءَهُمْ مِنَ الْأَنْبَاءِ مَا فِيهِ مُزْدَجَرٌ ۴حِكْمَةٌ بَالِغَةٌ ۖ فَمَا تُغْنِ النُّذُرُ ۵فَتَوَلَّ عَنْهُمْ ۘ يَوْمَ يَدْعُ الدَّاعِ إِلَىٰ شَيْءٍ نُكُرٍ ۶خُشَّعًا أَبْصَارُهُمْ يَخْرُجُونَ مِنَ الْأَجْدَاثِ كَأَنَّهُمْ جَرَادٌ مُنْتَشِرٌ ۷مُهْطِعِينَ إِلَى الدَّاعِ ۖ يَقُولُ الْكَافِرُونَ هَٰذَا يَوْمٌ عَسِرٌ ۸

Translation

یقینا ان کے پاس اتنی خبریں آچکی ہیں جن میں تنبیہ کا سامان موجود ہے. انتہائی درجہ کی حکمت کی باتیں ہیں لیکن انہیں ڈرانے والی باتیں کوئی فائدہ نہیں پہنچاتیں. لہذا آپ ان سے منہ پھیر لیں جسن دن ایک بلانے والا (اسرافیل) انہیں ایک ناپسندہ امر کی طرف بلائے گا. یہ نظریں جھکائے ہوئے قبروں سے اس طرح نکلیں گے جس طرح ٹڈیاں پھیلی ہوئی ہوں. سب کسی بلانے والے کی طرف سر اٹھائے بھاگے چلے جارہے ہوں گے اور کفار یہ کہہ رہے ہوں گے کہ آج کا دن بڑا سخت دن ہے.

Tafseer

									وہ دن سخت کیونہ ہو جب کہ خوف ودہشت کے تمام عوامل مجرموں کااحاطہ کیے ہوئے ہوں گے ۔ جب نامۂ اعمال ان کے ہاتھوں میں دیے جائیں گے توان کی فریاد بلندہوگی ۔
یا وَیْلَتَنا ما لِہذَا الْکِتابِ لا یُغادِرُ صَغیرَةً وَ لا کَبیرَةً ِلاَّ أَحْصاہا 
وائے ہو ہم پر یہ کیسا نامۂ اعمال ہے کہ چھوٹا یابڑا کوئی کام ایسانہیں جواس میں مندرج نہ ہو (کھف۔ ٤٩) ۔
پھر یہ کہ کوئی اچھایابُرا،چھوٹایا بڑاکام جواُنہوں نے کیاہوگا ، اس سب کاحساب انتہائی باریک بینی کے ساتھ کیاگیاہوگا ۔
ِنْ تَکُ مِثْقالَ حَبَّةٍ مِنْ خَرْدَلٍ فَتَکُنْ فی صَخْرَةٍ أَوْ فِی السَّماواتِ أَوْ فِی الْأَرْضِ یَأْتِ بِہَا اللَّہُ ِنَّ اللَّہَ لَطیف خَبیر 
اگر خردل کے دانہ کے برابر اچھا یابُراعمل کسِی پتھرکے اندر یا آسمانوں کے کسی گوشہ میں یاذہن کے اندر چھُپا ہوگا توخُدااس کوحساب کے لیے حاضر کرے گاکیونکہ خداباریک بیں اور آگاہ ہے (لقمان ۔١٦) ۔
تیسری بات یہ ہے کہ وہاں کسی قسم کی تلافی کاامکان نہیں ہوگا اورکوئی عُذر بھی نہیں سُناجا ئے گا نیز واپسی کی راہ میں مسذود ہوگی جیساکہ قرآن مذکورہے:
وَ اتَّقُوا یَوْماً لا تَجْزی نَفْس عَنْ نَفْسٍ شَیْئاً وَ لا یُقْبَلُ مِنْہا شَفاعَة وَ لا یُؤْخَذُ مِنْہا عَدْل وَ لا ہُمْ یُنْصَرُونَ 
اس دن سے ڈرو کہ جس میں کوئی شخص سزا و جزا میں دوسرے کی جگہ نہیں لے گا نہ اس کے بار ے میں شفاعت قبول ہوگی اورنہ تاوا ن یابدل ہی قابلِ قبول ہوگا اورنہ کوئی شخص اس کی مدد کے لیے کھڑا ہوسکے گا (بقرہ ۔٤٨) ۔
پھر ہم یہ بھی پڑ ھتے ہیں: 
وَ لَوْ تَری ِذْ وُقِفُوا عَلَی النَّارِ فَقالُوا یا لَیْتَنا نُرَدُّ وَ لا نُکَذِّبَ بِآیاتِ رَبِّنا وَ نَکُونَ مِنَ الْمُؤْمِنینَ 
اگر توان کی حالت دیکھے جس وقت وہ جہنم کی آگ کے سامنے کھڑے ہوں گے اورکہہ رہے ہوں گے کہ اے کاش ہم دنیا کی طرف دوبارہ پلٹ جاتے اوراپنے پروردگار کی آیتوں کی تکذیب نہ کرتے اورمومنین میں سے ہوتے ( لیکن یہ باتیں ان سے قبول نہیں کی جائے گی (انعام۔ ٢٧) ۔
جوتھا اَمر یہ ہے کہ خداکا عذاب اس قدر شدید ہے کہ مائیں اپنی اولاد کوبُھول جائیں گی، حاملہ عورتوں کے حمل ساقط ہوجائیں گے اورلوگ مبہوت اورمُست نظر آئیں گے حالانکہ وہ مَست نہیں ہوں گے لیکن خداکا عذاب شدید ہے ۔
یَوْمَ تَرَوْنَہا تَذْہَلُ کُلُّ مُرْضِعَةٍ عَمَّا أَرْضَعَتْ وَ تَضَعُ کُلُّ ذاتِ حَمْلٍ حَمْلَہا وَ تَرَی النَّاسَ سُکاری وَ ما ہُمْ بِسُکاری وَ لکِنَّ عَذابَ اللَّہِ شَدید (حج ۔ ٢) ۔
اس بناء پر گنہگار اضطراب ووحشت میں اس قدر گرفتارہوں گے کہ وہ پسند کریں گے کہ جوکچھ اس جہان میں ان کے پاس ہے اسے دے دیں اور عذابِ الہٰی سے نجات حاصل کریں ۔
یوم المجرم لویفتدی من عذاب یومئذٍ ببنیہ وصاحبتہ واخیہ وفصیلتہ التی تؤ یہ ومن فی الارض جمیعا ثم ینجیہ کلّا انھا لظی ۔
مُجرم خواہشمند ہوگا کہ اس دن کے عذاب سے نجات حاصل کرنے کے لیے اپنا بیٹا ،بیوی اور رشتہ دارجومشکلات میں اس کے مددگار تھے حتّٰی کہ تمام لوگ جورُوئے زمین پرہیں فدا کردے لیکن کوئی چیزکچھ فائدہ نہ دے گی ۔جہنم کی بھڑ کتی ہوئی آگ اس کے انتظار میں ہے (معارج۔١١ تا١٥) ۔
کیاان چیزوں کے ہوتے ہوئے اوردوسری ان دل ہلادینے والی باتوں کی موجودگی میں کہ جوقرآن میں مذکور ہیں ،یہ ممکن ہے کہ وہ دن سخت درد ناک اور تکلیف دہ نہ ہو (خداہم سب کواس دن اپنے لُطف وکرم کی پناہ میں رکھے ) ۔