Tafseer e Namoona

Topic

											

									  ٣۔""سائل و محروم کاحق

										
																									
								

Ayat No : 15-19

: الذاريات

إِنَّ الْمُتَّقِينَ فِي جَنَّاتٍ وَعُيُونٍ ۱۵آخِذِينَ مَا آتَاهُمْ رَبُّهُمْ ۚ إِنَّهُمْ كَانُوا قَبْلَ ذَٰلِكَ مُحْسِنِينَ ۱۶كَانُوا قَلِيلًا مِنَ اللَّيْلِ مَا يَهْجَعُونَ ۱۷وَبِالْأَسْحَارِ هُمْ يَسْتَغْفِرُونَ ۱۸وَفِي أَمْوَالِهِمْ حَقٌّ لِلسَّائِلِ وَالْمَحْرُومِ ۱۹

Translation

بیشک متقی افراد باغات اور چشموں کے درمیان ہوں گے. جو کچھ ان کا پروردگار عطا کرنے والا ہے اسے وصول کررہے ہوں گے کہ یہ لوگ پہلے سے نیک کردار تھے. یہ رات کے وقت بہت کم سوتے تھے. اور سحر کے وقت اللہ کی بارگاہ میں استغفار کیا کرتے تھے. اور ان کے اموال میں مانگنے والے اور نہ مانگنے والے محروم افراد کے لئے ایک حق تھا.

Tafseer

									قابلِ توجہ بات یہ ہے کہ اوپر والی آ یات میں یہ کہاگیاہے، کہ ہمیشہ نیکو کاروں کے اموال میں سائل ومحروم کے لیے حق ہے یہ تعبیر اس بات کی اچھی طرح سے نشاندہی کرتی ہے کہ وہ اپنے آپ کوحاجت مندوں اورمحروم افرادکے لیے دیندار سمجھتے ہیں اور انہیں حق دار اور طلب گار جانتے ہیں، ایساحق جسے ہرحالت میں ادا ہوناچاہیئے اوراس کے ادا کرنے میں کسِی قسم کاکوئی احسان نہیں ہے ٹھیک دوسرے طلب گاروں کی طلب کے مانند۔
اور جیساہم بیان کرچکے ہیں، کہ مختلف قرائن اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ یہ تعبیر زکوٰةواجب ہے اوراس قسم کے امورسے مربوط نہیں ہے،بلکہ مستحب قسم کے انفاقات سے مربوط ہے جنہیں پرہیزگاراپنے اوپر دین اور قرض سمجھتے ہیں( ۱) ۔
۱۔ان آ یات کامکہ میں نزول ، اوراس حکم کاخصوصیت کے ساتھ جنتی نیکو کاروں کے بارے میں وارد ، اورائمہ اہل بیت علیہم السلام کی روایات ایسے قرائن ہیں جوان آ یات کی زکوٰة کے علاوہ دوسری چیزوں کی طرف متوجہ کرتے ہیں ۔