Tafseer e Namoona

Topic

											

									  ٣۔ موت حق ہے

										
																									
								

Ayat No : 19-22

: ق

وَجَاءَتْ سَكْرَةُ الْمَوْتِ بِالْحَقِّ ۖ ذَٰلِكَ مَا كُنْتَ مِنْهُ تَحِيدُ ۱۹وَنُفِخَ فِي الصُّورِ ۚ ذَٰلِكَ يَوْمُ الْوَعِيدِ ۲۰وَجَاءَتْ كُلُّ نَفْسٍ مَعَهَا سَائِقٌ وَشَهِيدٌ ۲۱لَقَدْ كُنْتَ فِي غَفْلَةٍ مِنْ هَٰذَا فَكَشَفْنَا عَنْكَ غِطَاءَكَ فَبَصَرُكَ الْيَوْمَ حَدِيدٌ ۲۲

Translation

اور موت کی بیہوشی یقینا طاری ہوگی کہ یہی وہ بات ہے جس سے تو بھاگا کرتا تھا. اور پھر صور پھونکا جائے گا کہ یہ عذاب کے وعدہ کا دن ہے. اور ہر نفس کو اس انداز سے آنا ہوگا کہ اس کے ساتھ ہنکانے والے اور گواہی دینے والے فرشتے بھی ہوں گے. یقینا تم اس کی طرف سے غفلت میں تھے تو ہم نے تمہارے پردوں کو اُٹھادیاہے اور اب تمہاری نگاہ بہت تیز ہوگئی ہے.

Tafseer

									نہ صرف زیربحث آیت میں سکرات موت کا حق کے ساتھ تعارف ہواہے ، بلکہ دوسری متعدد آ یات میں موت کو حق کہاگیاہے، سُورئہ حجر کی آ یہ ٩٩ میں آ یاہے :(وَ اعْبُدْ رَبَّکَ حَتَّی یَأْتِیَکَ الْیَقینُ ) پروردگار کی عبادت کر یہاں تک کہ یقین (موت ) تیرے پاس آ جائے ،(سورۂ مدثر کی آ یة ٤٧ میں بھی اس کے مشابہ تعبیر نظر آ تی ہے ) ۔
یہ سب کچھ اس بناء پر ہے کہ انسان ہرچیز کاتوانکار کرسکتاہے،لیکن اس واقعیت کاانکار نہیں کرسکتا، کہ انجام کار موت ہم سب کے گھر وں کا دروزاہ کھٹکھٹا ئے گی اور سب کواپنے ساتھ لے جائے گی ۔
موت کی حقانیت کی طرف توجہ ، تمام انسانوں کے لیے تنبیہ ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ اوربہتر طریقہ پرغور وفکر اورسوچ بچار کریں ، اوراس راستہ سے کہ جوان کے آگے ہے باخبر ہوں اوراپنے آپ کو اس کے لیے تیار کریں ۔
قابلِ توجہ بات یہ ہے کہ ایک حدیث میں آ یاہے : ایک شخص عمر کے پاس آ یا اور کہا:میں فتنہ کودوست رکھتاہوں،اور حق سے بیزار ہوں ،اوراس چیز کی گواہی دیتاہوں، جسے کبھی نہیں دیکھا ، عمرنے اس کو قید کردیا، یہ بات حضرت علی علیہ السلام کے کانوں تک پہنچی آپ نے فرمایا:اے عمر !اس شخص کو قید کرناظلم ہے ، اور توایک ستم کامرتکب ہواہے ،اس نے کہا کیوں؟آپ نے فرمایا، کیونکہ وہ اپنے مال اوراولاد کودوست رکھتاہے ،جنہیں خدانے قرآن کی ایک آیت میں فتنہ سے تعبیر کیاہے :
ِنَّما أَمْوالُکُمْ وَ أَوْلادُکُمْ فِتْنَة (١) وہ موت سے بیزا رہے اورقرآن میں اسے حق سے تعبیر کیاگیاہے وَ جاء َتْ سَکْرَةُ الْمَوْتِ بِالْحَق (٢) وہ خدا کی یکتائی کی شہادت دیتاہے جس کواس نے کبھی نہیں دیکھا، اس مقام پر عمر نے کہا: لو لا علی لھلک عمر : اگرعلی نہ ہوتے تو عمر ہلاک ہوجاتا( ٣) ۔
١۔سورہ ،تغابن ، ١٥۔
٢۔ سورہ، ق، ١٩۔
٣۔ تفسیررُوح البیان ، جلد ٩،صفحہ ١١٨۔