Tafseer e Namoona

Topic

											

									  شان نزول :

										
																									
								

Ayat No : 14-15

: الحجرات

قَالَتِ الْأَعْرَابُ آمَنَّا ۖ قُلْ لَمْ تُؤْمِنُوا وَلَٰكِنْ قُولُوا أَسْلَمْنَا وَلَمَّا يَدْخُلِ الْإِيمَانُ فِي قُلُوبِكُمْ ۖ وَإِنْ تُطِيعُوا اللَّهَ وَرَسُولَهُ لَا يَلِتْكُمْ مِنْ أَعْمَالِكُمْ شَيْئًا ۚ إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَحِيمٌ ۱۴إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ الَّذِينَ آمَنُوا بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ ثُمَّ لَمْ يَرْتَابُوا وَجَاهَدُوا بِأَمْوَالِهِمْ وَأَنْفُسِهِمْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ۚ أُولَٰئِكَ هُمُ الصَّادِقُونَ ۱۵

Translation

یہ بدوعرب کہتے ہیں کہ ہم ایمان لے آئے ہیں تو آپ کہہ دیجئے کہ تم ایمان نہیں لائے بلکہ یہ کہو کہ اسلام لائے ہیں کہ ابھی ایمان تمہارے دلوں میں داخل نہیں ہوا ہے اور اگر تم اللہ اور رسول کی اطاعت کرو گے تو وہ تمہارے اعمال میں سے کچھ بھی کم نہیں کرے گا کہ وہ بڑا غفور اور رحیم ہے. صاحبانِ ایمان صرف وہ لوگ ہیں جو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لے آئے اور پھر کبھی شک نہیں کیا اور اس کی راہ میں اپنے مال اور اپنی جان سے جہاد بھی کیا درحقیقت یہی لوگ اپنے دعویٰ ایمان میں سچےّ ہیں.

Tafseer

									بہت سے مفسرین نے اس آ یت کے لیے ایک شان نزُول بیان کی ہے ، جس کاخلاصہ اس طرح ہے :
قبیلۂ بنی اسد کاایک گروہ ،قحط اور خشک سالی کے ایک سال میں ، مدینہ میں وارد ہوا ، اورانہوں نے پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)سے کچھ مدد حاصل کرنے کے لیے زبان پرشہادتیں جاری کیں، اور پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)سے کہاکہ عرب کے دوسرے قبائل نے سوار یوں پر سوار ہوکرآپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)سے جنگ کی ،لیکن ہم اپنے بیوی بچوں کے ساتھ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آ ئے نہیں اور ہم آپ نے (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کوئی جنگ نہیں کی ، دراصل وہ اس طر یقہ سے یہ چاہتے ہیں تھے کہ پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)پراحسان جتلائیں ، اس وقت اُوپر والی آ یات نازل ہوئیں، ( اورانہیں بتایا کہ اسلام ظاہر ی ہے اورایمان ان کے دل کی گہرا ئیوںمیں نہیں ہے، علاوہ ازیں اگرو ہ ایمان لائے بھی ہیں، تو اس سے پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)پر کوئی منّت اوراحسان نہیں رکھنا چاہیے . بلکہ خدانے ان پراحسان کیاہے کہ انہیں ہدایت کی ہے ) ( ١) ۔ 
لیکن اس شانِ نزُول کا وجُود، دوسرے تمام مواقع کی طرح ، آ یت کے مفہو م کی عمو میت سے ہرگز مانع نہیں ہے ۔