شان نزول :
قَالَتِ الْأَعْرَابُ آمَنَّا ۖ قُلْ لَمْ تُؤْمِنُوا وَلَٰكِنْ قُولُوا أَسْلَمْنَا وَلَمَّا يَدْخُلِ الْإِيمَانُ فِي قُلُوبِكُمْ ۖ وَإِنْ تُطِيعُوا اللَّهَ وَرَسُولَهُ لَا يَلِتْكُمْ مِنْ أَعْمَالِكُمْ شَيْئًا ۚ إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَحِيمٌ ۱۴إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ الَّذِينَ آمَنُوا بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ ثُمَّ لَمْ يَرْتَابُوا وَجَاهَدُوا بِأَمْوَالِهِمْ وَأَنْفُسِهِمْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ۚ أُولَٰئِكَ هُمُ الصَّادِقُونَ ۱۵
یہ بدوعرب کہتے ہیں کہ ہم ایمان لے آئے ہیں تو آپ کہہ دیجئے کہ تم ایمان نہیں لائے بلکہ یہ کہو کہ اسلام لائے ہیں کہ ابھی ایمان تمہارے دلوں میں داخل نہیں ہوا ہے اور اگر تم اللہ اور رسول کی اطاعت کرو گے تو وہ تمہارے اعمال میں سے کچھ بھی کم نہیں کرے گا کہ وہ بڑا غفور اور رحیم ہے. صاحبانِ ایمان صرف وہ لوگ ہیں جو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لے آئے اور پھر کبھی شک نہیں کیا اور اس کی راہ میں اپنے مال اور اپنی جان سے جہاد بھی کیا درحقیقت یہی لوگ اپنے دعویٰ ایمان میں سچےّ ہیں.
بہت سے مفسرین نے اس آ یت کے لیے ایک شان نزُول بیان کی ہے ، جس کاخلاصہ اس طرح ہے :
قبیلۂ بنی اسد کاایک گروہ ،قحط اور خشک سالی کے ایک سال میں ، مدینہ میں وارد ہوا ، اورانہوں نے پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)سے کچھ مدد حاصل کرنے کے لیے زبان پرشہادتیں جاری کیں، اور پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)سے کہاکہ عرب کے دوسرے قبائل نے سوار یوں پر سوار ہوکرآپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)سے جنگ کی ،لیکن ہم اپنے بیوی بچوں کے ساتھ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آ ئے نہیں اور ہم آپ نے (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کوئی جنگ نہیں کی ، دراصل وہ اس طر یقہ سے یہ چاہتے ہیں تھے کہ پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)پراحسان جتلائیں ، اس وقت اُوپر والی آ یات نازل ہوئیں، ( اورانہیں بتایا کہ اسلام ظاہر ی ہے اورایمان ان کے دل کی گہرا ئیوںمیں نہیں ہے، علاوہ ازیں اگرو ہ ایمان لائے بھی ہیں، تو اس سے پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)پر کوئی منّت اوراحسان نہیں رکھنا چاہیے . بلکہ خدانے ان پراحسان کیاہے کہ انہیں ہدایت کی ہے ) ( ١) ۔
لیکن اس شانِ نزُول کا وجُود، دوسرے تمام مواقع کی طرح ، آ یت کے مفہو م کی عمو میت سے ہرگز مانع نہیں ہے ۔