٢۔ تجسس نہ کرو
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا يَسْخَرْ قَوْمٌ مِنْ قَوْمٍ عَسَىٰ أَنْ يَكُونُوا خَيْرًا مِنْهُمْ وَلَا نِسَاءٌ مِنْ نِسَاءٍ عَسَىٰ أَنْ يَكُنَّ خَيْرًا مِنْهُنَّ ۖ وَلَا تَلْمِزُوا أَنْفُسَكُمْ وَلَا تَنَابَزُوا بِالْأَلْقَابِ ۖ بِئْسَ الِاسْمُ الْفُسُوقُ بَعْدَ الْإِيمَانِ ۚ وَمَنْ لَمْ يَتُبْ فَأُولَٰئِكَ هُمُ الظَّالِمُونَ ۱۱يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اجْتَنِبُوا كَثِيرًا مِنَ الظَّنِّ إِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ إِثْمٌ ۖ وَلَا تَجَسَّسُوا وَلَا يَغْتَبْ بَعْضُكُمْ بَعْضًا ۚ أَيُحِبُّ أَحَدُكُمْ أَنْ يَأْكُلَ لَحْمَ أَخِيهِ مَيْتًا فَكَرِهْتُمُوهُ ۚ وَاتَّقُوا اللَّهَ ۚ إِنَّ اللَّهَ تَوَّابٌ رَحِيمٌ ۱۲
ایمان والو خبردار کوئی قوم دوسری قوم کا مذاق نہ اڑائے کہ شاید وہ اس سے بہتر ہو اور عورتوں کی بھی کوئی جماعت دوسری جماعت کا مسخرہ نہ کرے کہ شاید وہی عورتیں ان سے بہتر ہوں اور آپس میں ایک دوسرے کو طعنے بھی نہ دینا اور اِرے اِرے القاب سے یاد بھی نہ کرنا کہ ایمان کے بعد بدکاریً کا نام ہی بہت اِرا ہے اور جو شخص بھی توبہ نہ کرے تو سمجھو کہ یہی لوگ درحقیقت ظالمین ہیں. ایمان والو اکثر گمانوں سے اجتناب کرو کہ بعض گمان گناہ کا درجہ رکھتے ہیں اور خبردار ایک دوسرے کے عیب تلاش نہ کرو اور ایک دوسرے کی غیبت بھی نہ کرو کہ کیا تم میں سے کوئی اس بات کو پسند کرے گا کہ اپنے مفِدہ بھائی کا گوشت کھائے یقینا تم اسے اِرا سمجھو گے تو اللہ سے ڈرو کہ بیشک اللہ بہت بڑا توبہ کا قبول کرنے والا اور مہربان ہے.
ہم نے دیکھ لیاکہ قرآن نے اُوپر والی آ یت میں تجسس کوپوری صراحت کے ساتھ منع کیاہے ،اورچونکہ اس کے لیے کسی قسم کی کوئی قیدو شرط نہیں لگائی ،لہٰذا یہ چیزاس بات کی نشاندہی کرتی ہے، کہ دوسروں کے کاموں میں جستجو کرنا ،اوران کے بھیدوں کوفاش کرنے کی کوشش کرنا،گناہ ہے،لیکن وہ قرائن جوآ یت کے اندر اورباہر موجود ہیں وہ اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں،کہ یہ حکم افراد کی شخصی اورخصوصی زندگی سے مربوط ہے ،اوراجتماعی زندگی میں بھی اس حد تک،کہ اس سے معاشرے کی سرنوشت میںکوئی اثر نہ پڑتا ہو،یہی حکم صادق ہے ۔
لیکن یہ با ت واضح اور روشن ہے کہ جہاں اس کادوسروں کی سرنوشت اورمعاشرے کی حالت سے تعلق ہو، تو پھر مسئلہ کی دوسری شکل ہوجاتی ہے، لہٰذا پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)نے کچھ اشخصا اطلاعات جمع کرنے کے لیے مقرر کیے ہُوئے تھے ،جنہیں عیون کے عنوان سے تعبیر کیاجاتاہے تاکہ وہ ایسی اطلاعات جوداخل اورخارج میں اسلامی معاشرے سے متعلق ہیں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے اکھٹی کریں ۔
اسی بناء پر حکو مت اسلامی میں مامورین اطلاعاتی رکھ سکتی ہے یااطلاعات جمع کرنے کے لیے ایک وسیع ادارہ قائم کرسکتی ہے اورجہاں کہیں معاشرے کے برخلاف سازش کاخوف ہو، یا امن وامان کوخطرے میں ڈالنے یاحکو مت اسلامی کونقصان پہنچانے کا خطرہ ہو، وہاں تجسس کریں، یہاں تک کہ بعض افراد کی خصوصی وداخلی زندگی میں بھی جستجوکریں ۔
لیکن یہ امر ہر گز اس اسلامی بنیادی قانون کی حرمت کوتوڑنے کے لیے بہانہ نہیں بننا چاہیئے ، کہ کچھ لوگ اپنے آپ کواس بات کامجازقرار دے لیں کہ وہ مسئلہ سازش اورنقص امن کے بہانہ سے لوگوں کی خصوصی اورشخصی زندگی پرحملہ آور ہوں، اوران اعمال نامہ کھولیں ،ان کے ٹیلیفونوں پرکنڑول کریں اوروقت بے وقت ان کے گھروں کی تلاشی لیں ۔
خلاصہ یہ کہ تجسس اورمعاشرے کے امن وامان کی حفاظت کے لیے لازمی اطلاعات کے درمیان کی سرحدبہت ہی دقیق اورطریف ہے ، اورامورا جتماعی کے ادارہ کے ذمہ داروں کی وقت کے ساتھ اس سرحد کی نگرانی کرناچاہیئے ،تاکہ انسانوں کے اسرار کی حرمت کی حفاظت بھی ہو، اورمعاشرے اورحکو مت اسلامی کاامن وامان بھی خطرے میں نہ پڑے ۔