Tafseer e Namoona

Topic

											

									  ١۔ معاشرے میں کامل اور ہر پہلوسے امن وامان

										
																									
								

Ayat No : 11-12

: الحجرات

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا يَسْخَرْ قَوْمٌ مِنْ قَوْمٍ عَسَىٰ أَنْ يَكُونُوا خَيْرًا مِنْهُمْ وَلَا نِسَاءٌ مِنْ نِسَاءٍ عَسَىٰ أَنْ يَكُنَّ خَيْرًا مِنْهُنَّ ۖ وَلَا تَلْمِزُوا أَنْفُسَكُمْ وَلَا تَنَابَزُوا بِالْأَلْقَابِ ۖ بِئْسَ الِاسْمُ الْفُسُوقُ بَعْدَ الْإِيمَانِ ۚ وَمَنْ لَمْ يَتُبْ فَأُولَٰئِكَ هُمُ الظَّالِمُونَ ۱۱يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اجْتَنِبُوا كَثِيرًا مِنَ الظَّنِّ إِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ إِثْمٌ ۖ وَلَا تَجَسَّسُوا وَلَا يَغْتَبْ بَعْضُكُمْ بَعْضًا ۚ أَيُحِبُّ أَحَدُكُمْ أَنْ يَأْكُلَ لَحْمَ أَخِيهِ مَيْتًا فَكَرِهْتُمُوهُ ۚ وَاتَّقُوا اللَّهَ ۚ إِنَّ اللَّهَ تَوَّابٌ رَحِيمٌ ۱۲

Translation

ایمان والو خبردار کوئی قوم دوسری قوم کا مذاق نہ اڑائے کہ شاید وہ اس سے بہتر ہو اور عورتوں کی بھی کوئی جماعت دوسری جماعت کا مسخرہ نہ کرے کہ شاید وہی عورتیں ان سے بہتر ہوں اور آپس میں ایک دوسرے کو طعنے بھی نہ دینا اور اِرے اِرے القاب سے یاد بھی نہ کرنا کہ ایمان کے بعد بدکاریً کا نام ہی بہت اِرا ہے اور جو شخص بھی توبہ نہ کرے تو سمجھو کہ یہی لوگ درحقیقت ظالمین ہیں. ایمان والو اکثر گمانوں سے اجتناب کرو کہ بعض گمان گناہ کا درجہ رکھتے ہیں اور خبردار ایک دوسرے کے عیب تلاش نہ کرو اور ایک دوسرے کی غیبت بھی نہ کرو کہ کیا تم میں سے کوئی اس بات کو پسند کرے گا کہ اپنے مفِدہ بھائی کا گوشت کھائے یقینا تم اسے اِرا سمجھو گے تو اللہ سے ڈرو کہ بیشک اللہ بہت بڑا توبہ کا قبول کرنے والا اور مہربان ہے.

Tafseer

									وہ چھ احکام جواوپروالی دو آیات میں بیان کیے گئے ہیں. ( تمسخر ،غیبت جوئی ، بُرے القاب، بدگمان، تجسس اور عیبت سے نہی ) اگرکسی معاشرے میں ان پر کامل طورسے عمل ہو، تو معاشرے کے تمام افراد کی عزت وآبرو کاہرلحاظ سے بیمہ ہو جاتاہے ، نہ تو کوئی شخص خود کوبڑا سمجھنے کی وجہ سے دوسروں کوتفریح و تمسخر کاذ ریعہ بناسکتاہے ، اورنہ ہی وہ کسی کی عیب جوئی کے لیے زبان کھول سکتاہے اورنہ بُرے القاب کے ساتھ لوگوں کی حرمت وشخصیت کوخراب کرتاہے ۔
نہ اُسے کسی کے بارے میں بُراگمان کرنے کاحق ہے .نہ وہ افراد بشر کی شخصی زندگی کے بارے میں جستجو میں لگتاہے،اور نہ ہی ان کے پوشیدہ عیُوب دوسروں کے سامنے فاش کرتاہے ۔
دوسرے لفظوں میں انسان کے پاس چار سرمائے ہیں .اوران سب کواس قانون کے قلعوں کے اندر محفوظ رہناچاہئیے اوروہ ہیں: جان ،مال ،اورعزت وآبرُو،
اوپروالی آ یات اور اسلامی روایات اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں،کہ لوگوں کی آبرُو اورحیثیت ، ان کے مال وجان کی طرح ہے ، بلکہ بعض پہلوؤ ں سے ( اُن سے بھی ) زیادہ اہم ہے ،!
اسلام یہ چاہتاہے کہ اسلامی معاشرے میںکامل طورامن وامان کی حکمرانی ہو. لوگ ایک دوسرے پرنہ صرف عمل میں اورہاتھ کے ساتھ حملہ نہ کریں ، بلکہ لوگوں کی زبان کے لحاظ سے اوراس سے بھی بڑھ کرفکر اورسُوچ کے لحاظ سے بھی ایک دوسرے سے امن وامان میں ہوں اورہرشخص یہ محسوس کرے کہ کوئی دوسراشخص اپنے افکار میں بھی تہمت کے تیر اس کی طرف پھینکتا، اوریہ ایسی بلند ترین سطح کی امنیت ہے،جو ایک مذہبی اورمو من معاشرے کے سواکہیں بھی امکان پذیر نہیں ہے ۔
پیغمبرگرامی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایک حدیث میں فرماتے ہیں ۔
انّ اللہ حرم من المسلم دمہ و مالہ وعرضہ ، وان یظن بہ السوء ۔
خدا نے مسلمانوں کاخُون ،مال اورعزت وآبرودوسروں پرحرام کردی ہے ،اوراسی طرح یہ بھی کہ اس کے بارے میں بُراگمان کرے (۱) ۔
بُراگمان کرنا، نہ صرف طرف مقابل اوراس کی حیثیت پرصدمہ واروکرتاہے، بلکہ بُراگمان کرنے والے کے لیے بھی ایک بہت بڑی بلاو مصیبت ہے ،کیونکہ وہ لوگوں کے ساتھ مل کرکام کرنے ،اوراجتماعی تعاون سے الگ تھلگ ہوجانے کاسبب بن جاتاہے ۔
اوریہ فعل ایک ایسی وحشتناک دُنیا اس کے لیے فراہم کرتاہے ، جوغریب وبے کسی اور تنہائی گوشہ نشینی سے پُر ہو، جیساکہ امیر المو منین علی علیہ السلام سے ایک حدیث میں منقول ہواہے :
من لم یحسن ظنّہ استو حش من کُل احد:
جوشخص بُراگمان رکھتاہووہ ہرشخص سے ڈ رتاہے،اوروحشت رکھتاہے ( ۲) ۔
دوسرے لفظوں میں وہ چیز جو انسان کی زندگی کوجانور وں سے جداکرتی ہے،اوراسے رونق وحرکت اورتکامل و ارتقاء بخشتی ہے ،وہ رُوح تعاون اور سب کامل جُل کرکام کرناہی ہے .اوریہ اسی صُورت میں امکان پذیر ہے .جبکہ لوگوں میں اعتماد اورخوش بینی ہو، در آنحالیکہ بُراگمان اس اعتماد کی بنیادوں کوکھو کھلا کردیتاہے، اورتعاون کے رشتوں کوتوڑ دیتاہے اوررُوح اجتماعی کوکمزور کردیتاہے ۔
نہ صرف سُوء ظن بلکہ تجسس اورغیبت کامسئلہ بھی اسی طرح کاہے ۔
بدبین افراد ہرچیزسے ڈ رتے ہیں، اورہرشخص سے وحشت رکھتے ہیں ، اوران کی رُوح پرہمیشہ ایک جانکاہ پریشانی چھائی رہتی ہے، نہ تووہ کوئی دوست اورمونس وغم خوار پیداکرسکتے ہیںاور نہ ہی اپنے اجتماعی کاموں کے لیے کوئی شریک وہمکاربنا سکتے ہیں اورنہ پریشانی کے دنوں کے لیے کوئی یارو مددگار ۔
اس نکتہ کی طرف توجہ بھی الازم ہے کہ یہاں ظن سے مراد ایسے گمان ہیں جن کے لیے کوئی دلیل نہ ہو، اس بناء پر جہاں گمان کاانحصار کسی دلیل یعنی ظن معتبرپرہو وہ اس گمان سے مستثنیٰ ہے ،اُس گمان کی طرح، جو دوعادل گو اہوں کی شہادت سے حاصل ہوتاہے ۔
۱۔ "" المحجة البیضائ"" جلد ٥،صفحہ ٢٦٨۔
۲۔"" غرر الحکم "" صفحہ ٦٩٧۔