Tafseer e Namoona

Topic

											

									  شان نزول :

										
																									
								

Ayat No : 9-10

: الحجرات

وَإِنْ طَائِفَتَانِ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ اقْتَتَلُوا فَأَصْلِحُوا بَيْنَهُمَا ۖ فَإِنْ بَغَتْ إِحْدَاهُمَا عَلَى الْأُخْرَىٰ فَقَاتِلُوا الَّتِي تَبْغِي حَتَّىٰ تَفِيءَ إِلَىٰ أَمْرِ اللَّهِ ۚ فَإِنْ فَاءَتْ فَأَصْلِحُوا بَيْنَهُمَا بِالْعَدْلِ وَأَقْسِطُوا ۖ إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُقْسِطِينَ ۹إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ إِخْوَةٌ فَأَصْلِحُوا بَيْنَ أَخَوَيْكُمْ ۚ وَاتَّقُوا اللَّهَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَ ۱۰

Translation

اور اگر مومنین کے دو گروہ آپس میں جھگڑا کریں تو تم سب ان کے درمیان صلح کراؤ اس کے بعد اگر ایک دوسرے پر ظلم کرے تو سب مل کر اس سے جنگ کرو جو زیادتی کرنے والا گروہ ہے یہاں تک کہ وہ بھی حکم خدا کی طرف واپس آجائے پھر اگر پلٹ آئے تو عدل کے ساتھ اصلاح کردو اور انصاف سے کام لو کہ خدا انصاف کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے. مومنین آپس میں بالکل بھائی بھائی ہیں لہٰذا اپنے بھائیوں کے درمیان اصلاح کرو اور اللہ سے ڈرتے رہو کہ شاید تم پر رحم کیا جائے.

Tafseer

									ان آ یات کے شان ِ نزول میں آ یاہے کہ ( مدینہ کے دو مشہور قبیلوں ) قبیلۂ اوس و خزرج کے درمیان ایک اختلاف پیدا ہوگیا، اوراس کی وجہ سے وہ ایک دوسرے کی جان کے درپے ہوگئے،اورلاٹھیوں اورجوتوں سے ایک دوسرے کو مارنے لگے، (تو اوپروالی آ یت نازل ہوئی اوراس قسم کے حادثات سے نمٹنے کے لیے مسلمانوں کوراہ بتائی (١) ۔
بعض نے یہ کہاہے کہ انصار میں دو افراد کے درمیان خصو مت واختلاف پیداہوگیاتھا، ان میں سے ایک نے دوسرے سے کہا کہ میں اپناحق زبردستی تجھ سے لو لوں گا، کیونکہ میرے قبیلہ کی جمعیت اورتعداد زیادہ ہے اور دوسرے نے یہ کہاکہ فیصلہ کے لیے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس چلتے ہیں ، پہلے شخص نے اسے قبول نہ کیا اوراختلاف بڑھ گیااور دونوں قبیلوں کے ایک گروہ نے ہاتھوں ، جوتیوں اور شمشیر تک سے ایک دوسرے پرحملہ کردیا، تواوپر والی آ یات نازل ہوئیں ۔
(اوراس قسم کے اختلاف میں مُسلمانوں کی ذمہ داری کوواضح کیا)( ٢) ۔
١۔ مجمع البیان ،جلد٩،صفحہ ١٣٢۔
٢۔ "" تفسیر قرطبی "" ،جلد ٩،صفحہ ٦١٣٦۔