Tafseer e Namoona

Topic

											

									  شان نزول :

										
																									
								

Ayat No : 1-5

: الحجرات

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تُقَدِّمُوا بَيْنَ يَدَيِ اللَّهِ وَرَسُولِهِ ۖ وَاتَّقُوا اللَّهَ ۚ إِنَّ اللَّهَ سَمِيعٌ عَلِيمٌ ۱يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَرْفَعُوا أَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِيِّ وَلَا تَجْهَرُوا لَهُ بِالْقَوْلِ كَجَهْرِ بَعْضِكُمْ لِبَعْضٍ أَنْ تَحْبَطَ أَعْمَالُكُمْ وَأَنْتُمْ لَا تَشْعُرُونَ ۲إِنَّ الَّذِينَ يَغُضُّونَ أَصْوَاتَهُمْ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ أُولَٰئِكَ الَّذِينَ امْتَحَنَ اللَّهُ قُلُوبَهُمْ لِلتَّقْوَىٰ ۚ لَهُمْ مَغْفِرَةٌ وَأَجْرٌ عَظِيمٌ ۳إِنَّ الَّذِينَ يُنَادُونَكَ مِنْ وَرَاءِ الْحُجُرَاتِ أَكْثَرُهُمْ لَا يَعْقِلُونَ ۴وَلَوْ أَنَّهُمْ صَبَرُوا حَتَّىٰ تَخْرُجَ إِلَيْهِمْ لَكَانَ خَيْرًا لَهُمْ ۚ وَاللَّهُ غَفُورٌ رَحِيمٌ ۵

Translation

ایمان والو خبردار خدا و ر رسول کے سامنے اپنی بات کو آگے نہ بڑھاؤ اور اللہ سے ڈرو بیشک اللہ ہر بات کا سننے والا اور جاننے والا ہے. ایمان والو خبردار اپنی آواز کو نبی کی آواز پر بلند نہ کرنا اور ان سے اس طرح بلند آواز میں بات بھی نہ کرنا جس طرح آپس میں ایک دوسرے کو پکارتے ہو کہیں ایسا نہ ہو کہ تمہارے اعمال برباد ہوجائیں اور تمہیں اس کا شعور بھی نہ ہو. بیشک جو لوگ رسول اللہ کے سامنے اپنی آواز کو دھیما رکھتے ہیں یہی وہ لوگ ہیں جن کے دلوں کو خدا نے تقویٰ کے لئے آزمالیا ہے اور ان ہی کے لئے مغفرت اور اجر عظیم ہے. بیشک جو لوگ آپ کو حجروں کے پیچھے سے پکارتے ہیں ان کی اکثریت کچھ نہیں سمجھتی ہے. اور اگر یہ اتنا صبر کرلیتے کہ آپ نکل کر باہر آجاتے تو یہ ان کے حق میں زیادہ بہتر ہوتا اور اللہ بہت بخشنے والا اور مہربان ہے.

Tafseer

									مفسرین نے پہلی آ یت کے لیے توبہت سی الگ شان ِ نزول بیان کی ہیں اور بعد والی آ یات کے لیے دوسری شان ِ نزول ۔ 
ان میں سے پہلی آ یت کے لیے جوشان نزول بیان کی ہیں .یہ ہے کہ پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآ لہ وسلم ) خیبر کی طرف روانہ ہوتے وقت کسی کو مدینہ میں اپنی جگہ متعین کرناچاہتے تھے ، لیکن عمر نے کسی دوسرے آدمی کو متعین کرنے کی تجو ویز پیش کی اس پر اُوپر والی آ یت نازل ہوئی اور یہ حکم دیا کہ تم خدا اور پیغمبر سے آگے نہ بڑھا کرو ( ١)
بعض دوسرے مفسرین نے یہ کہاہے کہ : مسلمانوں کی ایک جماعت کے لوگ کبھی کبھی یہ کیا کرتے تھے کہ اگر اس قسم کامعنیٰ ہمارے بارے میں نازل ہوتا تو بہتر تھا ، اس پر اوپر والی آ یت نازل ہوگئی ، اور کہا کہ تم خدا اوراس کے پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) سے آگے نہ بڑھاکرو ( ٢) ۔ 
بعض دوسروں نے یہ کہاہے : یہ آ یت بعض مسلمانوں کے اعمال کی طرف اشارہ ہے . جنہوںنے اپنی عبادت کے مراسم میں سے بعض کو وقت سے پہلے انجام دے دیاتھا تو اوپر والی آ یت نازل ہوئی اورانہیں اس قسم کے کاموں سے منع کیا (٣) ۔ 
باقی رہی دوسری آ یت تواس کے بارے میں یہ کہاہے کہ قبیلہ بنی تمیم کاایک گروہ اوران کے اشراف مدینہ میں وارد ہُوئے اور جب مسجد نبوی میں داخل ہُوئے تو بلند آ واز کے ساتھ ، ان حجروں کے پیچھے سے ،جوپیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی رہائش گاہ تھے ، پکار پکار کرکہا : یامحمد اخرج الینا اے محمد ! باہر آ ! 
اس چیخ پکار ، اور غیر مودٔ بانہ تعبیروں سے پیغمبر کودُکھ ہوا ، جس وقت آپ باہر آ ئے توانہوں نے کہا: ہم اس لیے آ ئے ہیں تاکہ اپنافخرتجھ پرظاہر کریں ،اجازت دے تاکہ ، ہمارا شاع اور خطیب بنی تمیم کے افتخارات بیاں کرے پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اجازت دی ۔ 
پہلے ان کاخطیب کھرا ہوا ، اورقبیلہ بنی تمیم کے خیالی فضائل کی بہت سی باتیں بیان کیں ۔ 
پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ثابت بن قیس سے فرمایا( ٤) تم ان کاجواب دو ، وہ کھڑے ہوگئے اوران کے جواب میں ایک فصیح وبلیغ خطبہ پیش کیا ،جس نے ان کے خُطبہ کے اثر کوختم کردیا ۔ 
اس کے بعد ان کا شاعر کھڑا ۂوا ، اوراس نے قبیلہ کی مدح میں کُچھ اشعار کہے ،جن کامشہور مُسلمان شاعِرحسان بن ثابت نے کافی وشافی جواب دیا ۔
اس وقت اس قبیلہ کے اشراف میں سے ایک نے جس کانام اقرع تھا ،کہا :اس شخص کاخطیب ہمارے خطیب سے زیادہ توانا ہے اوراس کاشاعر ہمارے شاعر سے زیادہ لائق . اوران کی آواز کی طرز بھی ہم سے برتر و بہتر ہے ۔
اس موقع پر پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)نے ان کے دلوں کو مائل کرنے کے لیے حکم دیاتواچھے ہدیے انہیں دیئے گئے ، ان تمام باتوں کاان پربہت اثرہُوا ،اورانہوں نے پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم )کی نبوّت کااعتراف کرلیا ۔
زیربحث آ یات پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کے گھرکے پیچھے انہیں کی چیخ پکار کے بارے میں ہیں ۔
ایک دوسری شان ِنزول بھی بیان کی گئی ہے جوپہلی آ یت سے بھی مربو ط ہے ، اوربعد والی آ یت سے بھی ، اور وہ یہ ہے کہ :
ہجرت کے نویں سال جو عام الوفود تھا . یعنی وہ سال جس میں قبائل کے قسم قسم کے وفوداسلام قبول کرنے یاعہد و پیمان کرنے کے لیے پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)چنانچہ جس وقت بنی تمیم کے قبیلہ کے نمائندے پیغمبراکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کی خدمت میں آ ئے توابوبکر نے پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کے سامنے تجویز پیش کی کہ تعقاع کو( جوان کے اشراف میں سے ایک تھا ) آپ کاامیر بنادیا جائے اور عمرنے یہ تجویز پیش کی کہ اقرع بن حابس کواسی قبیلہ کاایک دوسراآدمی امیر بنا یاجائے ۔
اس موقع پر ابوبکر نے عمر سے کہا ، کیاتم میری مخالفت کرناچاہتے ہو؟ عمرنے کہ ،میراہر گز مخالفت کاارادہ نہیں تھا ، اس وقت دونوں نے پیغمبراکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کے سامنے زور زور سے چیخنا چلانا شروع کر دیا، جس دپر اوپروالی آ یات نازل ہوئیں ، یعنی نہ توکاموں میں پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)سے آگے بڑھو اور نہ ہی پیغمبرکے گھر کے سامنے چیخ پکار کرو ( ٥) ۔
١۔ "" تفسیر قرطبی "" جلد ٩ صفحہ ٦١٢١۔
٢۔ "" تفسیر قرطبی "" جلد ٩ صفحہ ٦١٢١۔
٣۔ "" تفسیر قرطبی "" جلد ٩ صفحہ ٦١٢١۔
٤۔ثابت ابن قیس جناب پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)وانصار کامشترکہ خطیب تھا ، جیساکہ حسان حضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کاخطیب تھا (اسدالغابہ جلد١ ،صفحہ ٢٢٩) ۔
٥۔ "" تفسیر قرطبی "" جلد ٩،صفحہ ٦١٢١ و"" تفسیر فی ظلال القرآن جلد ٧ صفحہ ٥٢٤ وسیرة ابن ہشام جلد ٤ ،صفحہ ٢٠٦ سے آگے (کچھ فرق کے ساتھ ) یہ داستان نقل ہوئی ہے ( یہ حدیث صحیح بخاری میں بھی آ ئی ہے . صحیح بخاری جز ٦ صفحہ ١٧٢ ،سورۂ حجرات کی تفسیر میں ۔