Tafseer e Namoona

Topic

											

									  ۲۔ امام جعفرصادق علیہ السلام کی حدیث

										
																									
								

Ayat No : 20-24

: محمد

وَيَقُولُ الَّذِينَ آمَنُوا لَوْلَا نُزِّلَتْ سُورَةٌ ۖ فَإِذَا أُنْزِلَتْ سُورَةٌ مُحْكَمَةٌ وَذُكِرَ فِيهَا الْقِتَالُ ۙ رَأَيْتَ الَّذِينَ فِي قُلُوبِهِمْ مَرَضٌ يَنْظُرُونَ إِلَيْكَ نَظَرَ الْمَغْشِيِّ عَلَيْهِ مِنَ الْمَوْتِ ۖ فَأَوْلَىٰ لَهُمْ ۲۰طَاعَةٌ وَقَوْلٌ مَعْرُوفٌ ۚ فَإِذَا عَزَمَ الْأَمْرُ فَلَوْ صَدَقُوا اللَّهَ لَكَانَ خَيْرًا لَهُمْ ۲۱فَهَلْ عَسَيْتُمْ إِنْ تَوَلَّيْتُمْ أَنْ تُفْسِدُوا فِي الْأَرْضِ وَتُقَطِّعُوا أَرْحَامَكُمْ ۲۲أُولَٰئِكَ الَّذِينَ لَعَنَهُمُ اللَّهُ فَأَصَمَّهُمْ وَأَعْمَىٰ أَبْصَارَهُمْ ۲۳أَفَلَا يَتَدَبَّرُونَ الْقُرْآنَ أَمْ عَلَىٰ قُلُوبٍ أَقْفَالُهَا ۲۴

Translation

اور جو لوگ ایمان لے آئے ہیں وہ یہ کہتے ہیں کہ آخر جہاد کے بارے میں سورہ کیوں نہیں نازل ہوتا اور جب سورہ نازل ہوگیا اور اس میں جہاد کا ذکر کردیا گیا تو آپ نے دیکھا کہ جن کے دلوں میں مرض تھا وہ آپ کی طرف اس طرح دیکھتے رہ گئے جیسے موت کی سی غشی طاری ہوگئی ہو تو ان کے واسطے ویل اور افسوس ہے. ان کے حق میں بہترین بات اطاعت اور نیک گفتگو ہے پھر جب جنگ کا معاملہ طے ہوجائے تو اگر خدا سے اپنے کئے وعدہ پر قائم رہیں تو ان کے حق میں بہت بہتر ہے. تو کیا تم سے کچھ بعید ہے کہ تم صاحبِ اقتدار بن جاؤ تو زمین میں فساد برپا کرو اور قرابتداروں سے قطع تعلقات کرلو. یہی وہ لوگ ہیں جن پر خدا نے لعنت کی ہے اور ان کے کانوں کو بہرا کردیا ہے اور ان کی آنکھوں کو اندھا بنادیا ہے. تو کیا یہ لوگ قرآن میں ذرا بھی غور نہیں کرتے ہیں یا ان کے دلوں پر قفل پڑے ہوئے ہیں.

Tafseer

									حضرت امام جعفرصادق علیہ السلام ” ام علیٰ قلوب اقفالھا“کے جُملہ کی تفسیر میں یوں فرماتے ہیں :
” ان لک قلباً ومسامع وا ن اللہ اذا ارادبہ غیر ذالک ختم مسامع قلبہ ، فلا یصلح ابداً وھو قول اللہ عزو جل : ام علیٰ قلوب اقفالھا“۔
تمہارے لیے دِل بھی ہے اورکان بھی (جن میں داخل ہونے کے راستے ہیں )اور جب خداکسِی بندے کو ( اس کے تقوٰے کی وجہ سے )ہدایت کرناچا ہیے تواس کے دل کے کانوں کوکھول دیتا ہے اور جب اس کے علاوہ اور برعکس چا ہتا ہے تواس کے دل کے کانوںپر مہرلگا دیتا ہے اور اس کی کبھی اصلاح نہیں ہوسکتی اور یہی ہے معنی خداکے اس قول ” ام علیٰ قلوب اقفالھا“کا ( ۱) ۔
 ۱۔تفسیر نورالثقلین ، جلد۵،صفحہ ۴۱۔